خوف میں گھرا انسان!

کوئی انسان اگربہت خوش و خرم بھی نظر آئے تو بھی اس کے باوجود وہ کسی نہ کسی خوف میں گھرا ہوا ضرور ہوتاہے، بعض اوقات اسے اس خوف کا علم نہیں ہوتا ، مگر اس کے اندر کہیں نہ کہیں اس کی چنگاریاں ضرور سلگ رہی ہوتی ہیں، کسی مسند پر جلوہ افروز شخص جب عمر کی سیڑھیاں اتر رہا ہوتا ہے اسے محسوس طور پر یا غیر محسوس طریقے سے یہ خوف دل میں جاگزیں رہتا ہے کہ یہ جو اس کے گرد ’’دوستوں‘‘ کا ہجوم ہوتا ہے جس میں بڑھتے گریڈ کے ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ جو صبح اس کے دفتر آنے پر ماتحت عملے میں بھگدڑسی مچ جاتی ہے اور یہ جو تین چار نائب قاصد اس کی گاڑی کا دروازہ کھولنے اور اس کے بریف کیس کو تھامنے کی ریس میں اولیت کی کوشش کرتے ہیں اور یہ جو پی اے ہاتھ میں کاغذ قلم پکڑے مودب کھڑا ڈکٹیشن کا منتظر ہوتا ہے، یہ سب کچھ ہوا ہو جائے گا جب وہ ریٹائر ڈ ہوگا اس وقت اس کے یہ معاونین دو ایک بار مروتاً اس کا ٹیلی فون اٹینڈ کرلیں گے، بعدمیں اسے صرف گھنٹی کی بیل ہی سنائی دیا کرے گی۔ اگر اس کے ذہن میں آنے والے دنوں کا یہ نقشہ نہیں ہوتا توہونا چاہیے!

بڑھتی عمر کے لوگ بھی اکثر خوفزدہ رہتے ہیں کہ ’’ہن موت آئی، ہن موت آئی‘‘انہوں نے چاہے ساری عمر عیش و عشرت میں بسر کی ہو، مگر اکثر وہ جاگتے میں خواب دیکھتے ہیں کہ موت ان کے دروازے پر کھڑی دستک دے رہی ہے۔ان لمحوں میں انہیں قبر کی تنہائیوں کا خیال آتا ہے،کیڑے مکوڑے، سانپ ، نیولے دکھائی دینے لگتے ہیں اور ہاں عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ خصوصاً جب یہ عمر آٹھویں دہائی میں داخل ہو تی ہے انہیں خدا بھی یاد آنے لگتا ہے، رکوع و سجود اور تسبیح کے دانوں کے ساتھ زندگی بسر ہونے لگتی ہے۔’’موت کا منظر ، مرنے کے بعد کیا ہوگا‘‘ والی کتاب کی جھوٹی سچی روایتیں خوف میں مزید اضافہ کرتی ہیں، تنہائی میں گھنٹوں اپنے گناہ یاد کرکے روتا اور اللہ سے گڑگڑا کر معافی مانگنے میں لگا رہتا ہے، تاہم یہ یُو ٹرن سب کی زندگی میں نہیں آتا، بلکہ بہت سے لوگ زندگی کے اس مرحلے میں بھی ’’یادِ ایام عشرت فانی‘‘ میں گم بلکہ مست رہتے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف میں وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک زمانے میں شہرت کے بام عروج تک پہنچے ہوتے ہیں، ان میں سیاست دان، رائٹر، اداکار، اینکراور اس نوع کے دوسرے افراد ہوتے ہیں جوتقریباً ہر روز کسی نہ کسی صورت میں عوام کو اپنا درشن کرایا کرتے تھے، جن کے لئے عوام کے درمیان جانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا تھا۔ لوگ انہیں گھیر لیتے تھے، ان کے آٹو گراف لیتے تھے، ان کے ساتھ سیلفیاں بناتے تھےاور صدقے واری ہوتے چلے جاتے تھے۔ مگر جب یہ لوگ کچھ عرصہ یا کچھ زیادہ عرصہ کے لئے پردۂ اسکرین سے غائب ہوتے ہیں تو ان کی یہ خواہش دل ہی میں دبی رہ جاتی ہے کہ بازار میں انہیں کوئی پہچانے، وہ کسی محفل کی جان ہوں، انہیں صدر محفل یا مہمان خصوصی بنایا جائے مگر ان کی یہ سوچ ’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘ کی ذیل میں آتی ہے بلکہ کئی لوگ کسی محفل میں ایسے مشاہیر سے ملتے ہیں تو کہتے ہیںکہ آپ کو کہیں دیکھا ہوا ہے، آپ کسی زمانے میں فلموں میں کام تو نہیں کرتے تھے، وہ اس سوال پر سوال کنندہ کی طرف قہر آلود نظروں سے دیکھتا ہوگا کیونکہممکن ہے وہ صاحب کسی زمانے میں کسی ٹی وی چینل پر اینکر ہوں مگر اس دوران وہ جھوٹ بولنے کی اداکاری کمال درجہ کرتے ہوں۔ ویسے اس سے قطع نظر بعض اوقات بام شہرت پر پہنچے ہوئے لوگوں کو بھی اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ میرے بچپن کا دوست اور مینجمنٹ گرو مسعود علی خان ایک دفعہ لندن سے پاکستان آرہا تھا اس کے ساتھ والی نشست پر اس وقت کا ایک سپر کرکٹر عمران خان براجمان تھا، مسعود نے ان سے پوچھا ’’آپ کا نام جان سکتا ہوں؟‘‘ عمران خان نے جواب دیا ’’عمران خان‘‘ مسعود نے پوچھا ’’آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘ مسعود نے یہی پوچھنا تھا کیونکہ کرکٹ سے اس کی سرے سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔

اور آخری اور سب سے بڑا خوف خواتین کو ہوتا ہے جو ڈھلتی عمر کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پچاس سال کی عمر تک تو خواتین اگر میک اپ پر پوری طرح دھیان دیں تو اپنے اور دیکھنے والوں کے خوف پرقابو پانے میں کامیاب رہتی ہیں، مگر اس کے بعد کی عمر کا زیادہ حصہ اسی خوف میں گزرتا ہے کہ میں کہیں زیادہ بوڑھی تو نہیں ہوگئی۔ اگر کسی خاتون سے آپ کی گرمی سردی ہو جائےتو آپ بہت متانت سے اسے کہیں ’’آنٹی آپ مجھے معاف کردیں‘‘ اس کےبعد اس نے معاف کیا کرنا ہے، آپ نے تو اس کے ساتھ عمر بھر کی دشمنی پال لی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: