خیبرپختونخوا میں پولیو کا تیرہواں کیس سامنے آگیا

پاکستان پولیو کا مکمل صفایا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے لیکن ایسے وقت میں جنوبی خیبر پختونخوا کا علاقہ کوشش میں رکاوٹ بنتا نظر آرہا ہے جہاں رواں سال پولیو کا 13 واں کیس رپورٹ ہو ا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق قومی ادارہ صحت نے تصدیق کی کہ لکی مروت میں ایک 18 ماہ کا بچہ پولیو وائرس کے سبب مفلوج ہو گیا۔

12 دیگر کیسز جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی وزیرستان سے بھی رپورٹ ہوئے، یہ کیسز ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب پاکستان پولیو سے پاک ملک کا درجہ حاصل کرنے کے قریب پہنچ گیا، صحت کے حکام نے قبائلی اضلاع سے کیسز کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا۔

وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ 'ہم نے خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان لوگوں کی کثرت سے نقل و حرکت کے باوجود وائرس کو کہیں اور پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر ہم اس علاقے سے وائرس پر قابو پالیں اور اسے ختم کر لیں تو ہم پولیو کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں'۔

نیشنل ہیلتھ سروسز کے وزیر عبدالقادر پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ 'حکومت نے جنوبی خیبر پختونخوا میں ویکسینیشن مہم کے دوران انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین استعمال کرنے کا فیصلہ کیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے حفاظتی ٹیکوں کی اس شکل کی زیادہ قبولیت کی وجہ سے وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین فراہم کرنا شروع کر دی ہیں اور ساتھ ہی ہر قسم کے جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صابن جیسی حفظان صحت کی مصنوعات بھی فراہم کی ہیں'۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے بتایا کہ حکومت مزید بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کے لیے حکمت عملیوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ ' جب سے ہم نے زیادہ خطرے والے اضلاع کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کیے ہیں اس وقت سے خیبر پختون خوا میں ویکسین کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے'۔

جنوبی خیبر پختون خوا میں اگلی پولیو مہم 15 اگست کو شروع ہوگی، پاکستان میں 2019 میں 147 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سے پولیو کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، اس سے اگلے سال یہ تعداد کم ہوکر 84 رہ گئی اور 2021 میں صرف ایک رہ گئی۔