Dunya Pakistan

خیبر پختونخوا: مانسہرہ کے سیاحتی مقامات پر کو رونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد مقامی انتظامیہ کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی سفارش

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے تفریحی مقامات پر کورونا وائرس کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے ضلعی انتظامیہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن کی سفارش کی ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور کے کچھ علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد اب کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ڈپٹی کمشنر مانسہرہ سے ان تفریحی مقامات پر سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کی سفارش کی ہے جہاں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

اتھارٹی نے ان ہوٹلز اور ریستوران کے نام بھی بتائے ہیں جہاں کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ناران، شوگران اور کاغان میں 28 ہوٹلز اور ریستورانوں کے عملے کے 47 ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد یہ ہوٹل اور ریستوران سیل کر دیے گئے ہیں جبکہ سیمپلنگ کا عمل بدستور جاری رہے۔

کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ اب تک بالاکوٹ سب ڈویژن کے علاقے بالاکوٹ، گڑھی حبیب اللّٰہ، مہانڈری، شوگران، کاغان اور ناران میں 800 سے زائد سیمپلز لیے گئے ہیں جن میں سے 47 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اتھارٹی کے مطابق ناران کے چار ریستوران اور ہوٹلز کے عملے میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں مون ریسٹورنٹ، پاک پنجاب تکہ ہاؤس، دیوان خاص ریسٹورنٹ، سیسل ہوٹل اور میانمور ہوٹل شامل ہیں۔

پشاور میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی کیا صورتحال ہے؟

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے بعد پشاور کے مزید چھ علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی دارلحکومت کے مزید چھ علاقوں میں17 اگست دوپہر 2 بجے سے مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔

جن علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے ان میں حیات آباد، شاہین ٹاؤن، اکبر ٹاؤن اور شامی روڈ شامل ہیں۔

فیصلے کے مطابق مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں سے اِن آؤٹ انٹری بند رہے گی۔ ڈی سی پشاور کے مطابق وفاقی حکومت کی پالیسی و ہدایات پر صرف گلیوں اور چھوٹے علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سمارٹ لاک ڈاؤن کا مقصد کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

ان علاقوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین سامنے آنے کی وجہ سے مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ تاہم ان علاقوں میں صرف ضروری اشیا خورد و نوش، دوائیں، جنرل سٹور، تندور اور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔

کورونا وائرس پھیلاؤ خدشات پر ضلعی انتظامیہ نے مزید چار علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔ ان علاقوں میں حیات آباد، انور اسد کالونی اور او پی ایف کالونی شامل ہیں۔

ڈی سی پشاور کے مطابق علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس کو سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں ہیں اور خلاف ورزی کر نے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پشاور انتظامیہ نے خلاف ورزی پر کیا کارروائی کی؟

حکام کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا پشاور بھر میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی میں سیفٹی ماسک استعمال نہ کرنا، دکانوں اور مالز میں رش لگانا شامل ہے۔

ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق انتظامیہ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صدر کے علاقے میں فلک شیر پلازہ سمیت 28 دکانیں سیل کیں۔ کارخانو میں نیشنل پلازے میں 230 دکانیں سیل کیں جبکہ حیات آباد کی مختلف مارکیٹوں میں سیلف مارٹ، فیصل سٹور، طاہر سٹور، مہمند سٹور، نیو چائنہ بیکرز، شیش محل، سمارٹ کیئر اور سٹی مارٹ کو سیل کیا جا چکا ہے۔

اسی طرح چارسدہ روڈ پر تین میگا مارٹ سمیت 18 دکانیں اور رنگ روڈ پر تین میگا مارٹ سیل کیے گئے۔

بی آر ٹی سٹیشن اور بسوں میں بیشتر افراد کو موقع پر جرمانہ

صوبائی دارالحکومت پشاور میں ڈپٹی کمشنر پشاورمحمد علی اصغر نے صدر کے علاقوں میں مختلف بی آر ٹی سٹیشنوں اور بسوں میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بیشتر افراد کو موقع پر جرمانے کیے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میں ضلعی انتظامیہ کے افسران بی آر ٹی سٹیشنوں اور بسوں میں حکومتی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر پشاورنے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی و سیفٹی ماسک استعمال نہ کرنے پر بیشتر افراد کو موقع پر جرمانے کیے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر پشاور نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بی آرٹی بسوں میں سفر کرتے وقت سیفٹی ماسک کا استعمال ضرور کریں اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کریں بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے دو لاکھ 93 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ ان میں سے دو لاکھ 75 ہزار سے زائد صحت یاب ہوئے جبکہ اس وائرس سے چھ ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

Exit mobile version