خیر پور کے فیض محل سے پشاوری حویلیوں تک

پیلے رنگ کے حاشیوں سے مزین یہ گلابی رنگ کی عمارت قریب سوا دو سو سال پرانی ہے۔ دور سے دیکھیں تو دیواروں سے جھڑتا ہوا رنگ‘ برجیوں کے خستہ حال کلس‘ میناروں کے گھستے ہوئے نقش و نگار‘ سیم زدہ فرش‘ دھندلی پڑتی ہوئی تصویریں‘ ماند پڑتی ہوئی جھروکے دار بالکونیاں‘ نمک اور شور سے کھائی ہوئی ڈیزائن دار اینٹیں اور مجموعی کہنگی ایک بڑے منظر نامے میں نظر نہیں آتی‘ مگر جونہی آپ اس عمارت کے اندر داخل ہوں وہ سب کچھ دیکھ کر انتہائی ملال ہوتا ہے جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ یہ سابقہ ریاست خیر پور کے میروں کی روایتی اور آبائی رہائشگاہ ''فیض محل‘‘ ہے۔
میں قریب دو عشروں کے بعد اس عمارت کے اندر آیا ہوں۔ دو عشرے پہلے بھی خستہ حالی اور کہنگی اس عمارت کے در و دیوار سے ہویدا تھی لیکن اب صورتحال پہلے سے بھی زیادہ ناگفتہ بہ تھی۔ تب مرکزی ہال کے سارے قالین لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیے گئے تھے۔ اس بار مرکزی ہال میں قالین دوبارہ بچھ چکا تھا اور دربار ہال کی سنہری کرسیاں نئے رنگ و روغن کے بعد عجب شان دکھا رہی تھیں‘ لیکن یہ سب کچھ صرف مرکزی ہال تک ہی محدود تھا۔ عمارت کی محرابوں کے گرد لہرے دار حاشیوں کی ڈیزائن والی اینٹیں خستہ حالی سے جھڑ رہی تھیں۔ فرش سے اوپر والی دیواروں کا سیمنٹ اور تعمیراتی مصالحہ ہاتھ لگانے سے گر رہا تھا۔ ہاں البتہ عمارت کے سامنے لگی ہوئی چھ توپوں کے بعد وسیع سر سبز لان اپنی آب و تاب دکھا رہا تھا اور پھول آمدِ بہار کا پیغام دے رہے تھے۔
قریب اکیس بائیس سال پہلے جب میں فیض محل آیا تو اسد ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ میری اہلیہ اور تینوں بیٹیاں میرے ہمراہ تھیں۔ ہم تب ملتان سے بھونگ ہوتے ہوئے سکھر اور خیر پور آئے تھے۔ تب فیض محل پہنچے تو پتا چلا کہ مالکان کی اجازت یا ضلعی انتظامیہ کے کسی بڑے افسر کی سفارش کے بغیر داخلہ بند ہے۔ خدا بھلا کرے اُس بزرگ کیئر ٹیکر کا جس نے یہ جان کر کہ ہم لوگ ملتان سے آئے ہیں اور خیرپور آنے کا مقصد صرف فیض محل دیکھنا ہے محل دیکھنے کی نہ صرف اجازت دے دی بلکہ ہال کا داخلی دروازہ کھول کر ہمیں اندر جانے کا پروانہ بھی عنایت کر دیا۔ ہال کے اندر چاروں طرف خیر پور کے میروں کے پورٹریٹ لگے ہوئے تھے۔ اس محل کو خیرپور میں تالپوروں کی حکومت کے بانی میر سہراب خان تالپور نے 1798ء میں تعمیر کروایا۔ اس شاندار عمارت کے مکینوں میں خود میر سہراب خان‘ میر رستم خان‘ میر علی مراد خان اول‘ میر فیض محمد خان اول‘ میر امام بخش خان‘ میر علی نواز خان دوم‘ میر فیض محمد خان دوم اور ریاست خیرپور کے آخری فرمانروا میر علی مراد خان تالپور دوم شامل تھے۔ آگے ان کے فرزند میر عباس رضا خان تالپور اور میر مہدی رضا خان تالپور اس کے وارث بھی ہیں اور مکین بھی‘ لیکن اب وہ بات کہاں جو اس کسی حد تک آزاد ریاست خیرپور کے حاکم ہوتے ہوئے ہوتی تھی۔
میر علی مراد دوم جب 1947ء میں ریاست خیرپور کے حکمران بنے تب ان کی عمر محض چودہ سال تھی اور ریاست خیرپور برصغیر کی پہلی ریاست تھی جس میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہر شخص کو ووٹ کا حق تفویض کیا گیا۔1947 ء میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت ریاست خیرپور نے پاکستان کے ساتھ الحاق منظور کیا۔ 1955ء تک اس کی حیثیت بطور ریاست برقرار رہی‘ پھر 1955ء میں ون یونٹ بنا تو اسے مغربی پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ انڈیا کی کل 565 پرنسلی سٹیٹس (نوابی ریاستیں) میں سے چودہ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا‘ خیرپور ان میں سے ایک ریاست تھی۔ حیدرآباد اور جونا گڑھ پر بھارت نے بزورِ طاقت قبضہ کر لیا‘ کشمیر کے مہاراجہ نے پہلے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا؛ تاہم بعد ازاں اکثریتی ملکی آبادی کے پاکستان سے الحاق کی حمایت کے باوجود بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا۔
میر علی مراد دوم نے اپنے والد میر فیض محمد دوم کی زندگی میں ہی عنانِ اقتدار سنبھالی۔ یہ ایک علیحدہ قصہ ہے؛ تاہم ابھی میر علی مراد کو حکومت سنبھالے محض بیس دن ہی ہوئے تھے کہ پاکستان کا قیام عمل میں آ گیا۔ خیرپور ریاست نے پاکستان کا حصہ ہوتے ہوئے اپنی علیحدہ شناخت 10 نومبر 1954ء تک برقرار رکھی اور اس کے بعد خیرپور پاکستان کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔ خیرپور سندھ کا تیسرا ڈویژن قرار پایا‘ پھر اس کی حیثیت ڈویژن سے نیچے آ گئی اور یہ سکھر ڈویژن کا ضلع بن گیا۔
فیض محل کا نام خیرپور ریاست کے چوتھے حاکم میر فیض محمد خان تالپور کے نام سے منسوب ہے۔ میر علی مراد خان تالپور کی رسم ِتاجپوشی اس محل کی شاید آخری بڑی تقریب تھی۔ اب چھتیس کمروں کے اس محل کے شاید پندرہ کمرے قابلِ استعمال ہیں اور میر علی مراد تالپور محرم کے دنوں میں اسی محل میں قیام کرتے ہیں ؛تاہم اب ریاست کے خاتمے کے بعد اتنے بڑے محل کی مناسب دیکھ بھال‘ تزئین و آرائش اور مرمت وغیرہ کے لیے درکار اخراجات برداشت کرنا شاید سابق حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہی اور محل خاصی کسمپرسی کا شکار ہے اور پہلے کی نسبت زیادہ خراب حالت میں تھا۔ خاص طور پر 1972ء میں پاکستان سے الحاق کرنے والی ریاستوں کے تمام نوابین کی حکومتی مراعات ختم ہونے کے بعد پرانے شاہی محلات‘ قلعوں اور جاگیروں کی دیکھ بھال کرنا ان کے لیے ممکن ہی نہیں رہا تھا۔
ہندوستان میں بھی سابقہ ریاستوں کے حکمرانوں کا سٹیٹس ختم کر دیا گیا لیکن وہاں بہت سے شاہی محلات کو فائیو سٹار ہوٹلوں میں تبدیل کر کے ان کو محفوظ بھی کر لیا گیا اور ان کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی نکال لیا گیا لیکن پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا۔ بہاولپور کے بیشتر محلات تو ایک ادارے نے سنبھال لیے اور جو ایک آدھ محل بچ گیا تھا وہ وراثت کے باہمی جھگڑوں میں برباد ہو گیا۔ صادق گڑھ پیلس اس کی سب سے افسوسناک مثال ہے۔ سارا سامان چوری ہو گیا یا چوری چھپے بیچ کھایا گیا۔ مرمت وغیرہ کا نہ توکوئی ذمہ دار ہے اور نہ ہی کوئی اس کی استطاعت رکھتا ہے۔ سب کچھ برباد ہو گیا۔ کیا یہ محلات صرف سابقہ نوابین کی ذمہ داری تھی کہ وہ انہیں بحال رکھتے جبکہ ان کے پاس وہ مالی وسائل ہی نہ رہے تھے جو ایسے کاموں کے لیے درکار تھے۔ لیکن یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔
میں نے اپنے گزشتہ کالم‘ جس میں کوٹ ڈیجی کے قلعے اور وہاں موجود تالپور میروں کے محلات کی حالتِ زار پر حکومتی بے حسی کا نوحہ پڑھا تھا تو یہ کسی خاص حکمران یاحکومت کی بے حسی کا نہیں بلکہ عشروں سے جاری حکمرانوں اور حکومتوں کی بے توجہی کے تسلسل کا رونا تھا۔ اور خاص طور پر سندھ کے کلچر کے تحفظ کی دعویدار صوبائی حکومت کی جانب سے بے اعتنائی اور لاپروائی کا رویہ۔ محکمہ تحفظِ آثارِ قدیمہ اور اس قسم کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حفاظت کے محکمے اب صوبائی دائرہ کار میں ہیں۔
عجیب وقت آ گیا ہے کہ قوم کے لیے قربانی دینے والے بے یار و مددگار ہیں اور سرکار کو راجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ لگانے کی سوجھتی ہے۔ ایک طرف اپنی ریاست کو پاکستان میں ضم کر دینے والے میر علی مراد خان تالپور کے محلات ان کی حکمرانی ختم ہونے کے بعد ناگفتہ بہ حالت میں ہیں اور ان کا کوئی والی وارث نہیں بن رہا‘ دوسری طرف ایک اور صوبائی حکومت پشاور چھوڑ کر بمبئی جانے والے اور پاکستان بننے پر ہندوستان کی شہریت اختیار کرنے والے یوسف خان عرف دلیپ کمار اور راج کپور کے گھر خرید کر انہیں عجائب گھر بنانے کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز مخصوص کر رہی ہیں۔جو فکر و تردد اور خرچہ خیر پور کے فیض محل پر ہونا چاہیے تھا وہ پشاوری حویلیوں کی نذر ہو رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *