داسو میں چینی انجینیئرز کی بس کو حادثہ: ’بارودی مواد کے شواہد ملے ہیں، دہشت گردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا‘

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کا کہنا ہے کہ داسو واقعے کی ابتدائی تفتیش کے دوران بارودی مواد کے شواہد ملنے کی تصدیق ہوئی ہے، اس لیے اس واقعے میں دہشت گردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فواد حسین کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ذاتی طور پر اس حوالے سے ہونے والی ہر پیشرفت کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستانی حکومت چینی سفارتخانے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ ’ہم مل کر دہشت گردی سے لڑنے کے لیے پُرعزم ہیں۔'

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اپر کوہستان کے علاقے میں بس کو پیش آنے والے ایک حادثے کے دوران چینی انجینیئروں سمیت کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے پہلے پاکستان کی وزارت خارجہ نے ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’بس میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے گیس لیک ہوئی جس سے ایک دھماکہ ہوا اور بس گھاٹی میں گری۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ بس حادثہ تھا، دہشتگردی کا واقعہ نہیں۔‘

دوسری جانب جمعرات کے روز چین نے کہا ہے کہ اگر گذشتہ روز چینی انجینیئرز کی بس کو پیش آنے والا حادثہ دہشتگردوں کا حملہ تھا تو اس میں ملوث مجرموں کو فوراً گرفتار کر کے سخت سزا دی جانی چاہیے اور اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے چین، پاکستان تعاون کے منصوبوں پر سکیورٹی کو مزید بڑھانا چاہیے تاکہ ان منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

فواد

چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ چین اس واقعے میں اپنی شہریوں کی ہلاکت پر حیرت میں مبتلا ہیں۔

پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ تاجکستان کے شہر دوشنبہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ میں ملاقات کے دوران بدھ کے روز پیش آنے والے واقعے پر بات چیت ہوئی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ بس حادثہ تھا، دہشتگردی کا واقعہ نہیں۔

اس حادثے کے بعد گذشتہ روز چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چین ’اس بم حملے پر حیران ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔۔۔ چین نے پاکستان سے جلد از جلد اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔ اور پاکستان میں چینی حکام، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت کا کہا ہے۔‘

گذشتہ روز دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان اس معاملے پر ہونے والی ملاقات کے بعد چین کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’چین کو امید ہے پاکستان جلد ہر قیمت پر اس کی وجہ کا تعین کر لے گا، ریسکیو، علاج اور وقت پر اس کے اثرات سے نمٹ لے گا اور آئندہ ایسے واقعات روک تھام کر سکے گا۔‘

بس حادثہ

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب کو بتایا کہ ’چین کا نقصان پاکستان کا نقصان ہے۔ پاکستان واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گا اور چین کو اس میں پیشرفت کے حوالے سے معلومات فراہم کرے گا۔‘

اپر کوہستان واقعہ بس حادثہ یا دھماکہ؟

اپر کوہستان کے حکام کے مطابق بدھ کی صبح شاہراہ قراقرم پر داسو ہائیڈرو ڈیم کی سائٹ کے قریب چینی مسافروں کی بس کو ایک حادثہ پیش آیا تھا۔

داسو کے اسسٹنٹ کمشنر عاصم عباسی کے مطابق اس حادثے میں نو چینی انجینئرز، دو ایف سی اہلکار اور دو عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 27 افراد زخمی ہیں جن میں زیادہ تر تعداد چینی شہریوں کی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر داسو عاصم عباسی کے مطابق گیارہ شدید زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے بذریعہ ہیلی کاپٹر گلگت منتقل کر دیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کوہستان عارف خان یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بس کو روڈ حادثہ پیش آیا اور یہ کوئی دھماکہ یا دہشتگردی کا واقعہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

قریشی، وانگ یی

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین نے اس حادثے کو بم دھماکہ قرار دیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان نے اس واقعے کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے گیس لیکیج کے باعث دھماکہ قرار دے رہا تھا۔

گذشتہ روز پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا 'اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں نو چینی کارکنوں اور تین مقامی افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ چینی کارکن اور پاکستانی سٹاف صبح ایک پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے زخمیوں کو تمام تر امداد فراہم کی جا رہی ہے۔'

چینی ترجمان دفتر خارجہ

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ 'وزارتِ خارجہ اس وقت چینی سفارت خانے سے رابطے میں ہے اور زخمی چینی شہریوں کو ہر ممکن مدد اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔ حکومت اور پاکستان کے عوام ہلاک ہونے والے پاکستانی اور چینی کارکنان کے خاندانوں سے اظہار افسوس کرتے ہیں اور زخمیوں کے لیے دعاگو ہیں۔'

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان اور چین قریبی دوست اور مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ پاکستان چینی باشندوں، پراجیکٹس اور اداروں کی سکیورٹی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

تاہم انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’اپر کوہستان میں ایک بس میں بڑا دھماکہ ہوا جس میں چینی انجینیئرز سفر کر رہے تھے۔‘

روئٹرز کے مطابق اس اہلکار کا کہنا ہے کہ اپر کوہستان میں اس بس پر 30 سے زیادہ چینی انجینیئرز موجود تھے اور یہ داسو ڈیم کے مقام کی طرف روانہ تھی۔

پولیس تھانہ داسو کے مطابق یہ واقعہ برسین کے مقام پر شاہراہ قراقرم پر چلتی گاڑی میں پیش آیا۔

تھانہ داسو کے مطابق 'ہمارے پاس ابھی صرف ابتدائی اطلاع ہی دستیاب ہے۔' جبکہ کوہستان پولیس کنٹرول کے مطابق اس مقام پر انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ برسین کا مقام اپر کوہستان کے ہیڈ کوارٹر داسو سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ ہے۔

داسو حادثہ
،تصویر کا کیپشنزخمیوں کو طبی امداد کے لیے گلگت پہنچایا گیا ہے

دوسری جانب واقعے کے بعد صوبائی حکومت کا اعلیٰ سطحی وفد کوہستان روانہ ہوا تھا جس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے ساتھ چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ شامل ہیں۔

کامران بنگش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاملہ کی جانچ کے بعد میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔

برسین اپر کوھستان داسو کا مقام شاہراہ قراقرم پر واقع ہے۔ یہ جگہ داسو ڈیم کی سائٹ مقام میں بھی آتی ہے۔ اس مقام کے قریب ہی پانی کا ایک پائپ ہے جہاں سے مقامی لوگ پانی بھرتے ہیں اور اس سڑک کے قریب ہی آبادی ہے۔

اس حادثے کے وقت موقع پر موجود عینی شاہدین نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ 'یہ واقعہ صبح کے وقت پیش آیا جب معمول کے مطابق 'داسو ڈیم میں کام کرنے والے کارکناں کی بسیں اپنے وقت پر آ رہی تھیں کہ یک دم ہی دھماکے کی زور دار آواز آئی۔ جس کے بعد بس ہوا میں اچھلی اور نیچی گر پڑی جس کے بعد زخمیوں کی چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔'

ایک اور عینی شاہد کے مطابق 'دھماکے کے بعد ایسے لگا کہ بس ہوا میں اڑ رہی ہیں۔ جس کے بعد وہ بس بھی زور دار آواز کے ساتھے نیچی آئی ہے۔ مقامی لوگ اس حادثے کو دیکھ کر موقع کی طرف دوڑے جہاں پر زخمی چیخ و پکار کر رہے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: