داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب ’حملے‘ میں 9 چینی انجینئرز سمیت 12 افراد ہلاک

خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب ’حملے‘ میں 9 انجینئرز، دو فرنٹیئر کور (ایف یس) اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عہدیداروں کی ابتدائی اطلاعات متضاد نظر آئیں تاہم وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسے ایک 'بزدلانہ حملہ' قرار دیا اور کہا کہ اس سے ’پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان خصوصی اقدامات سے توجہ نہیں ہٹ سکتی‘۔

بابر اعوان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے ملک کی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دینے اور ایوان کو اس واقعے سے متعلق اعتماد میں لینے کا کہیں گے۔

کئی گھنٹوں بعد دفتر خارجہ نے حملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس 'تکنیکی خرابیوں‘ کے باعث کھائی میں گر گئی، جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا‘۔

دفتر خارجہ نے بھی ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی جن میں 9 چینی شہری شامل ہیں، اس سے قبل 10 ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’اعلی سطح کے وفد اپر کوہستان روانہ ہو چکا ہے، زمینی حقائق سے عوام اور میڈیا کو آگاہ کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا سے درخواست ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں، چینی اہلکاروں کی سیکیورٹی پر مامور بڑی تعداد میں عملہ موجود تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’شدید زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ ریسکیو 1122 کے ایمبولینسز اور اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ چکے ہیں اور ریسکیو سروسز فراہم کر رہے ہیں‘۔

بیجنگ کا پاکستان سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ

ادھر چین نے پاکستان سے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ملک میں ’چینی شہریوں، تنظیموں اور منصوبوں کی حفاظت‘ کے لیے ’مجرمان کو‘ سخت سے سخت سزا دیں۔

متضاد اطلاعات

واقعے کے فوراً بعد اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر عارف خان یوسفزئی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک بس برسین کیمپ سے 30 ورکرز کو لے کر پلانٹ کے مقام پر جارہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت غیر ملکی انجینئرز، فرنٹیئر کور کے اہلکاروں سمیت مقامی مزدور بس میں سوار تھے۔

بعد ازاں دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ مکینیکل خرابی کے بعد بس ایک کھائی میں گر گئی جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان اور چین قریبی دوست ہیں، پاکستان چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتا ہے‘۔

عارف خان یوسف زئی نے بتایا کہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

ادھر واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ایک بیان میں واقعے کو ایک ’حادثہ‘ قرار دیا۔

واپڈا کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ایک چینی کمپنی کے ملازمین بس میں سفر کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کی جگہ پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور رینجرز نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ زخمیوں کو داسو رورل ہیلتھ سینٹر منتقل کیا جارہا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ واقعہ کس وجہ سے پیش آیا، علاقے میں موبائل نیٹ ورک کام نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے معلومات حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ ’اس وقت ہمیں واضح نہیں کہ یہ دھماکا ہے یا کوئی حادثہ تاہم یہ کسی دھماکے کی طرح لگتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ معظم انصاری ایک ہیلی کاپٹر پر اپر کوہستان روانہ ہوگئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: