Site icon Dunya Pakistan

داڑھی والا

"احمد علی کورار"

بظاہر سادھو دکھتے ہیں مگر وہ سادھو نہیں ہیں خدوخال سے وہ اوشو کے خاندان سے لگتےہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے.گیٹ اپ ایسا ہے کہ وہ بڑے فلسفی ہوں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کیونکہ ان کی باتوں میں فلسفیانہ لب ولہجے کی کاٹ نظر نہیں آتی.وہ تو سلیس بولتے ہیں سلیس لکھتے ہیں وہ تو عام آدمی ہیں وہ تو عام موضوعات پہ قلم آزما ہیں وہ لکھاری ہیں ایسے لکھاری جو کوئی دقیق موضوع نہیں اٹھاتے.قلم آزمائی کا ہنر تو کوئی ان سے سیکھے جن کا قلم ہمیشہ ایسا موضوع چنتا ہے جو عوام الناس کا موضوع ہے.
وہ موسم کا انتخاب کرتاہے وہ موسم گرما کو بھی اس طرز بیان کرتا ہے کہ ہم جیسوں کو موسم گرما سے عشق ہو جاتا ہے وہ بہار کا جوبن اس طور بیان کرتا ہے گویا جنت کے موسم کا تذکرہ کر رہا ہو. وہ سردیوں کی راتیں اور ٹرین کی بجتی سیٹی اور دادی اماں کی کہانیاں آہا ہر ایک کا ماضی یاد دلاتا ہے. رفتہ رفتہ ان کے موضوعات بڑھتے چلے جاتے ہیں ان کا قلم رواں ہے وہ آگے کیا لکھتا ہے ؟
وہ پھر انسانی لبادے کا تذکرہ کرتا ہے وہ انسان کی شخصیت کو اس کے مزاج کے ساتھ ساتھ لباس سے بھی جانچتا ہے ان کے خیال میں ایک خوش اخلاق انسان خوش لباس بھی ہونا چاہیے.
پھر گھر کا تذکرہ کرتے ہیں کہ انسان کا گھر کیسا ہونا چاہیے کس طرز کا ہو اس کی بناوٹ کیسی ہو رنگ روغن کیسا ہونا چاہیے.
چلتے چلتے محبت کا ذکر آجاتاہے.وہ آج کی ان دیکھی اور نامعلوم محبت کا ذکر کرتا ہے جو محض وقت کا زیاں ہیں کیوں وقت کا زیاں ہے بھائی!سارا سارا دن موبائل پہ کھسیانی آوازیں کیا یہ بھی کوئی محبت ہے.
اب ذکر آجاتا ہے سگریٹ کا.وہ کہتاہے کہ سگریٹ جب بری چیز ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے.ہمہ وقت لبوں پہ شکایت رہتی ہے لیکن چھوڑنا محال…پھر یہ ڈرامہ بازی کیسی بھائی!
ہاں ایک دن بیٹھے بیٹھے ان کو خیال آتا ہے پاکستان میں موٹے لوگوں کا کیا کوئی مستقبل ہے.
قلم اٹھاتے ہیں پھر رلا دینے والے فقرے کستے ہیں.ایسی پٹی پڑھاتے ہیں…وزن روگ سے نہیں واک سے کم ہوتا ہے.
واک ضروری ہے بھائی ضروری ہے.کبھی سودا سلف لینے پیدل بھی جایا کرو.
ان کے موضوعات کی طویل فہرست ہے اس محدود مضمون میں خامہ فرسائی ممکن نہیں.
آپ محو حیرت ہیں کہ میں کس کا ذکر چھیڑ بیٹھا ہوں ایسا سیدھا سادہ سادھو لکھاری کون ہے بھیا!
جی میں "داڑھی والا"حسنین جمال کی بات کر رہا ہوں.
ابتدا میں جب کتاب کے کور ورق پہ عنوان "داڑھی والا" دیکھا تو عجیب سا لگا.
اس وقت کتاب شائع ہونے کے مراحل میں تھی اور میں بھی اس سیدھے سادھے داڑھی والے شخص سے واقف نہیں تھا.
جب ہاتھ لگی تو کیا کہنے.
ان کی تحریریں کمال ہیں کیا طرزِاسلوب ہے.
وہ "داڑھی والا" میں لکھتے ہیں.
مقدس راتوں کا الہڑ پن سب سے پہلے بجلی نے چھینا تھا۔ چاندنی وہاں درشن دیتی ہے میاں جہاں ضرورت ہو، ایویں خواہ مخواہ گھروں میں نہیں جھانکتی۔ تو بجلی آئی۔ پھر دن والی روشنی راتوں کو بھی ہونے لگی، رات اپنے معصوم جلوے سمیٹ کے انجان ویرانوں کو نکل گئی۔ پھر خاندان کے بزرگوں کی جگہ ریڈیو نے لے لی۔ ریڈیو کبھی بند ہوتا تو سب نانیوں دادیوں کے ساتھ چپک جاتے۔ وہ لوگ کہانیاں سناتے ہی رات میں تھے۔ کہا جاتا تھا کہ دن میں کہانی سنو گے تو بیٹا مسافر راستہ بھول جائے گا۔ پھر سفر بھی رات اور دن کا ہو گیا۔ نہ سواریوں کو خیال نہ سفری گاڑیوں کو ڈر، کیا دن کیا رات، سفر چوبیس گھنٹے ہونے لگا اور ریڈیو کی جگہ ٹی وی نے لے لی۔ ٹی وی وہ چیز تھا جسے دیکھنے کے بعد بھی سب اسی کی باتیں کرتے تھے۔ دادیاں نانیاں بھی اسی کی ہو گئیں۔ چاند نکلتا رہا، تارے جھلملاتے رہے، جگنو شہر کی آبادیوں سے غائب ہوتے رہے، سٹریٹ لائٹ جلتی رہی اور رات کب آئی کب رخصت ہوئی کون جانتا ہے؟
تمہیں پتہ ہے رات کو چائے کی خوشبو بدل جاتی ہے؟ کافی رات کو زیادہ تلخ اور انلائٹننگ لگتی ہے، سگریٹ سلگتے ہوئے عجیب سی آوازیں نکالتی ہے، کانوں میں شدید خاموشی لمبی کن کی آواز آتی ہے، چنبیلی کا پھول تین چار گز تک خوشبو دیتا ہے، موتیا خود سے آواز دے کے بلاتا ہے، درختوں کے پتے اپنی کہانی سناتے ہیں، سنو، سن لو۔ گاڑیوں کے ہارن، چیختے رکشے، جھگڑتے اینکر، خبروں کی لال پٹیاں، ہیش ٹیگ، احتجاج، امریکہ مردہ باد کے علاوہ کوئی زندگی گزارنی ہے یا اسی میں خوش ہو؟ آدھی سے زیادہ گزار لی ہے بیٹے، کوئی خبر نہیں یہی پوری ہو۔ اب اس وقت سانس چلتا ہے، جسم کام کرتا ہے، آنکھیں دیکھتی ہیں، ناک سونگھتی ہے، کان سنتے ہیں تو کچھ ایسا کر لو جو کرنے کا حق ہے۔ یہ روشنیاں تمہارے ساتھ نہیں رہنے والیں۔ یہ سایہ بناتی ہیں، جو چیز سایہ بنائے اور جانے پہ سایہ تک ساتھ لے جائے اس کی دوستی کیا اور اس کی دشمنی کیسی؟ ساتھ رہنے والا اندھیرا ہے، ساتھ رہنے والی رات ہے، ساتھ رہنے والا سناٹا ہے، اسے اپنا لو، اس سے دوستی کر لو، موج میں رہو گے۔

تو میاں ٹیسٹ تو کر لیا آپ نے.کیسا لگا؟
اب "داڑھی والا" لیجیئے اور انجوائے کیجیے

Exit mobile version