دبئی صحرا کی بڑھتی ہوئی حدود کے مسئلے کا کیسے مقابلہ کر رہا ہے؟

متحدہ عرب امارات کی ریاستوں میں سب سے اہم تجارتی اور سیاحتی مرکز دبئی ہے جہاں تقریباً 40 لاکھ لوگ رہائش پذیر ہیں۔ لیکن صحرا دبئی کی دہلیز پر موجود ہے۔ جہاں ایک جانب اس ریاست کے گرد خلیج فارس ہے، تو وہیں دوسری جانب تاحد نگاہ ریت کا قالین بچھا ہے۔

گذشتہ پانچ دہائیوں سے یہ شہر ایک ناقابل یقین کامیابی کی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ ماضی میں مچھیروں کی بستی ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ ایک چمکتا دمکتا جدید شہر بن چکا ہے۔

لیکن اس تمام رونق اور دولت کے باوجود دبئی کا سامنا ایک بڑے چیلنج سے ہے: اور وہ ہے صحرا کی بڑھتی ہوئی حدود جس سے دبئی کی رہی سہی زرخیز زمین کو خطرہ ہے۔

متحدہ عرب امارات رقبے کے اعتبار سے یورپی ملک پرتگال کے برابر ہے لیکن اس کا 80 فیصد حصہ صحرا پر مبنی ہے۔ یہاں کا ماحولیاتی نظام بہت نازک ہے اور بڑھتی ہوئی صحرائی حدود کے باعث یہاں کی قیمتی زمین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

سنہ 2019 میں شائع ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ’آبادی اور غذا کی طلب میں اضافے کے باعث صحرا بندی میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘

اس صورتحال میں متحدہ عرب امارات کے لیے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صحرا کو فتح کر لیا جائے، بلکہ ان کی خواہش ہے کہ وہ زمین جو صحرا کی حدور بڑھنے کے باعث ضائع ہو گئی ہے اسے دوبارہ قابل استعمال بنا لیا جائے۔

صحرا بندی کے خطرے سے دوچار دیگر ممالک کے برعکس متحدہ عرب امارات کے پاس اپنی مالی استطاعت کے باعث یہ موقع ہے کہ وہ جدید طریقوں کی مدد سے اس صورتحال کا مقابلہ کر سکے۔

دبئی کی ریاست اس حوالے سے پیش پیش ہے اور وہ ایسے ماحول دوست سٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے والے اداروں میں سرمایہ کر رہی ہے جو ماحول پر کام کرتے ہیں۔

دبئی کی بذات خود موجودگی اس بات کی گواہی ہے کہ اگر جدت کے جذبے اور بھرپور توجہ کو مالی اعانت بھی میسر ہو تو کیسے اس کی مدد سے حیران کن کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اور اگر صحرا بندی سے نمٹنے کے معاملات میں دبئی کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو وہ عالمی طور پر بہت گہرا مثبت اثر قائم کر سکتا ہے۔

صحرا بندی کیا ہے؟

دبئی

صحرا بندی زمین کے ضائع کا ایک ایسا عمل ہے جس میں زمین اپنی قدرتی زرخیزی کھو دیتی ہے اور قابل کاشت یا استعمال کے قابل نہیں رہتی۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب زمین کے اندر قدرتی وسائل جیسے پانی اور مٹی پر بوجھ بڑھ جاتا ہے جس کے باعث متاثرہ زمین پر زراعت کرنا ممکن نہیں رہتا۔

یہ عمل قدرتی طور پر بھی ہوتا ہے لیکن متحدہ عرب امارات اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں یہ عمل انسانی سرگرمیوں کے باعث ہو رہا ہے۔ زراعت میں بے تحاشہ اضافہ یا زمین کو تعمیراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔

نیو یارک کے ’کیری انسٹیٹیوٹ آف ایکو سسٹم سٹڈیز‘ کے سربراہ ولیم شیلسنگر کہتے ہیں کہ صحرا بندی اس وقت ہوتی ہے جب صحرا کے قریب واقع زمین پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

گذشتہ 30 برسوں سے صحراؤں پر تحقیق کرنے والے ولیم شیلسنگر کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زراعت کی پیداور کم ہو جاتی ہے۔

دنیا بھر میں سالانہ 46 ہزار مربع میل سے زیادہ زمین قحط اور صحرا بندی کے باعث ضائع ہو جاتی ہے۔ صرف گذشتہ 20 برسوں میں متحدہ عرب امارات کو اس عمل کے باعث بڑے رقبے پر محیط زمین کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2002 میں متحدہ عرب امارات کے پاس 290 مربع میل (75 ہزار ہیکٹر) زراعت کے قابل زمین تھی لیکن سنہ 2018 تک گھٹ کر یہ صرف 163 مربع میل (42 ہزار ہیکٹر) تک رہ گئی۔

برسوں قبل 1970 اور 1980 کی دہائی میں متحدہ عرب امارات نے اپنے وسیع تیل کے ذخائر کا استعمال کیا تو وہاں تیزی سے ترقی دیکھنے میں آئی، لیکن اس عمل کے دوران ماحولیاتی نظام کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبے عمرانیات کی پروفیسر ڈان چیٹی کہتی ہیں کہ گذشتہ 40 برسوں میں متحدہ عرب امارات کی ترقی میں ماحول دوست اقدامات استعمال نہیں کیے گئے تھے۔

ان کے مطابق ماضی کی ان غلطیوں کو درست کرنے کے لیے نہ صرف بڑے پیمانے پر مالی کوششیں کرنی ہو گی بلکہ سماجی رویوں کو بھی بدلنا ہو گا۔

متحدہ عرب امارات کی مستقبل کے لیے نئی حکمت عملی

ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچانے کے نتیجے میں میڈیا میں منفی کوریج کی وجہ سے متحدہ عرب امارات اور بالخصوص دبئی نے عہد کیا کہ وہ معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

سنہ 2012 میں متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد ال مکتوم نے ’یو اے ای گرین گروتھ‘ کے عنوان سے ایک حکمت عملی کا اعلان کیا جس کے مقصد ایسے ماحول کا قیام اور اسے برقرار رکھنا تھا جس کی مدد سے ریاست میں طویل مدتی ترقی ممکن ہو سکے، ایسی ترقی جو کہ ماحول دوست بھی ہو۔

نیو یارک کی سائراکوز یونیورسٹی کی پروفیسر نٹالی کوچ کہتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے سیاسی اور کاروباری رہنما اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ماحول دوست پالیسیاں اپنانا کسی بھی ریاست اور شہر کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہیں۔

دبئی

امریکی ریاست ٹیکساس کی رائس یونیورسٹی کی پروفیسر گوکے گونیل کہتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں فیصلہ سازوں کے لیے ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ جب مستقبل میں تیل کے ذخائر ختم ہو جائیں گے یا وہ اپنی قدر کھو بیٹھیں گے تو وہ اپنے مالی ذخائر کیسے برقرار رکھیں گے۔

’سنہ 2000 کے بعد سے دبئی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ وہاں ٹیکنالوجی کے سٹارٹ اپس کو مدعو کیا جا رہا ہے تاکہ دبئی اپنی معیشت کا دار و مدار تعلیم اور اختراع پر کر سکے۔‘

اس حوالے سے کئی اقدامات لیے جا چکے ہیں۔ دبئی صنعتی سٹریٹجی 2030 کے مطابق یہاں ماحول دوست مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے گا اور اس کے علاوہ دبئی سے 50 کلومیٹر جنوبی میں ایک ارب واٹ پیدا کرنے والا محمد بن راشد ال مکتوم سولر پارک دنیا کے سب سے بڑے سولر پارکس میں سے ایک ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود دبئی میں ماحول سے متعلق مسائل حل نہیں ہوئے ہیں اور ان میں صحرا بندی سب سے آگے ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں جیسے قحط سالی، قدرتی وسائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال، اور زمین کا ناقابل زراعت ہو جانا وغیرہ۔

مزید یہ کہ کیونکہ متحدہ عرب امارات اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے لیے برآمدات پر انحصار کرتا ہے، تو اس وجہ سے اس بات کی ضرورت کہ اندرونی طور پر غذا کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔

صحرا بندی روکنے کے لیے اقدامات

دبئی

گذشتہ برس مئی میں دبئی کے حکمران نے ’فوڈ ٹیک ویلی‘ کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا جس کا مقصد جدید طریقے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے متحدہ عرب امارات میں غذا کی پیداور میں تین گنا اضافہ کرنا تھا۔

لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے دبئی کو صحرا بندی روکنے کے لیے موثر اقدامات لینے ہوں گے۔

متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی میں سب سے اہم درخت لگانا تھا، جو کہ عرصہ دراز سے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سادہ اور موثر سمجھا جاتا ہے۔

سویڈن کی لونڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اینا ٹینگ برگ کہتی ہیں کہ درختوں کی مدد سے زمین کی زرخیزی بڑھتی ہے اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھی بڑھ جاتے ہیں۔

دبئی کے فیصلہ سازوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ درختوں کی مدد سے صحرا بندی کا زبردست مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ سنہ 2010 میں حکمران شیخ محمد نے ’ون ملین ٹری‘ یعنی دس لاکھ درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا تھا تاکہ صحرا بندی کے عمل کو روکا جا سکے۔

تاہم اس منصوبے پر کام کرنے والے ادارے گرین لینڈ کے ایک نمائندے حمزہ نزال نے بتایا کہ یہ منصوبہ پوری طرح ناکام ہو گیا اور لگائے گئے تمام درخت ختم ہو گئے۔

حمزہ نزال کہتے ہیں کہ سرمایہ کاری کرنے والے ایک حکومتی ادارے دبئی ہولڈنگ نے اعلان کیا کہ وہ اسی زمین پر ترقیاتی منصوبہ شروع کریں گے جہاں پر درخت لگائے جانے تھے تو اس کے بعد درختوں کے منصوبے کو ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ بعد ازاں وہ تعمیراتی منصوبہ بھی نہ بن سکا۔

’یہ واضح ہے کہ درختوں کا منصوبہ صرف تعلقات عامہ اور میڈیا پر تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اگر وہ واقعی ماحول کے لیے پرواہ کرتے تو اپنے سامنے ختم ہونے والے دس لاکھ درختوں کو بچانے کی پوری کوشش کرتے۔‘

نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر کرسچین ہینڈرسن بھی اس منصوبے کے اصل مقاصد پر سوالات اٹھاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ماحول دوست ہونے کا تاثر دینا بھی شاید اس کا مقصد تھا۔

’ماحولیاتی طور پر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبے کے ناکام ہونے کی وجہ یہ تھی کہ لگائے جانے والے درخت متحدہ عرب امارات کے آب و ہوا سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔‘

پروفیسر اینا ٹینگ برگ کہتی ہیں کہ درخت لگانے کے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر موافق درختوں کو اگایا جائے اور ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ خشک علاقوں میں اتنے درخت لگانے سے مقامی آبادی کو کیا فوائد مل سکتے ہیں۔

دبئی
،تصویر کا کیپشندبئی کے کمران شیخ محمد نے 2010 میں 'ون ملین ٹری' یعنی دس لاکھ درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا لیکن وہ تمام درخت ضائع ہو گئے

لیکن اس منصوبے کی ناکامی کے باوجود ابھی بھی درختوں کو اگانا مشرق وسطیٰ میں صحرا بندی کے عمل کو روکنے کے لیے اہم حکمت عملی کے طور پر موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے اپنے ’سعودی گرین انیشی ایٹو‘ کی مد میں اگلے دس برسوں میں دس ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن درخت اگانے کے کسی بھی منصوبے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ خشک علاقوں میں پانی کا استعمال ذہانت سے کیا جانا چاہیے تاکہ وہ درختوں کی نشو نما کر سکیں۔

دبئی سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ کے عمل پر بہت سرمایہ کاری کی ہے جس کی مدد سے مصنوعی طور پر بارشیں برسائی جاتی ہیں، لیکن یہ عمل متنازع ہے اور کئی ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے اور دیگر کہتے ہیں کہ اس کے لیے استعمال کیے جانے والے مواد میں سے کئی مضر صحت ہیں۔

کیا یہ نئی ٹیکنالوجی صحرا بندی کو روک سکتی ہے؟

دوسری جانب ماحول دوست سٹارٹ اپس جیسے ناروے کی ’ڈیزرٹ کنٹرول‘ مختلف نوعیت کے حل پیش کر رہی ہیں۔

ڈیزرٹ کنٹرول دبئی کی صحرا بندی کو روکنے کے لیے قدرتی مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات یعنی نانو پارٹیکلز کو مائع حالات میں استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جس کا مقصد ہے کہ دبئی کی صحرائی مٹی کو زرخیز بنایا جا سکے۔

دبئی

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ان ذرات کو زمین میں 50 سینٹی میٹر کی گہرائی میں ڈال کر اس کی تہہ بنائی جاتی ہے۔

یہ عمل زمین کو زرخیز بنانے کے علاوہ یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ زمین میں پانی کی موجودگی دیر تک رہے جس کی مدد سے نمکیات میں اضافہ ہوتا ہے اور زمین دوبارہ قابل استعمال ہو جاتی ہے۔

ڈیزرٹ کنٹرول کا یہ عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن سنہ 2019 سے انھوں نے تجرباتی طور پر یہ ذرات دبئی کے کسانوں اور دبئی کے انٹرنیشنل سینٹر فار بائیو سالین ایگریکلچر (آئی سی بی اے) کے ساتھ استعمال کیے ہیں۔

آئی سی بی اے کی تحقیق کے مطابق اس عمل کی مدد سے 47 فیصد پانی کو بچایا گیا جبکہ غذا کی پیداوار جیسے مختلف پھل اور سبزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لیکن مائع قدرتی مٹی کو استعمال کرتے ہوئے پورے دبئی میں درخت اگانا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ مثال کے طور پر کھجور کا ایک درخت فی دن 55 گیلن پانی یعنی ڈھائی سو لیٹر پانی استعمال کرتا ہے۔

لیکن جہاں ایک جانب اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر کافی جوش و خروش ہے، وہیں برطانیہ کی ریڈنگ یونی ورسٹی سے منسلک اور مٹی کی طبیعات کی ماہر این ویرہوف کہتی ہیں کہ یہ درست ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اصولی طور پر بہت عمدہ ہے لیکن ابھی بھی اسے کے استعمال اور عملداری پر سوالات ہیں۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیونکہ متحدہ عرب امارات میں تازہ، میٹھا پانی کم ہے تو وہاں زراعت کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کی مدد سے پانی استعمال کیا جاتا ہے جو کھارا ہوتا ہے اور اس میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے پانی کے استعمال سے زمین کے قابل استعمال رہنے کی مدد متاثر ہو سکتی ہے۔

این ویرہوف کہتی ہیں کہ یہ بہت اہم ہے کہ مائع قدرتی مٹی کو آہستگی سے استعمال کیا جائے اور اس سے قبل طویل عرصے تک جاری رہنے والے تجربات کیے جائیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ یہ کہیں مقامی آبادی اور ماحول پر مضر انداز میں تو اثر نہیں کر رہا۔

لیکن بدقسمتی سے حتی کہ یہ ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر صحرائی علاقوں میں زراعت کو ممکن نہیں بنا سکتی۔

دبئی

کچھ تحقیق کے مطابق زمین کا 75 فیصد حصہ پہلے ہی خراب ہو چکا ہے لیکن اس پر جتنی توجہ دینی چاہیے وہ نہیں دی جاتی۔

اینا ٹینگ برگ کہتی ہیں کہ یہ مسئلہ افریقی، ایشیائی اور لاطینی امریکی ممالک کو زیادہ درپیش ہے لیکن امیر مغربی ممالک ماحولیاتی تبدیلی اور کیمیائی آلودگی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں صحرا بندی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے جو اجلاس ہوا تھا اس میں دی جانے والی فنڈنگ کی مالیت ماحولیاتی تبدیلی اور بائیو ڈائورسٹی کے لیے دی جانے والی مالیت سے کہیں کم ہے۔

لیکن متحدہ عرب امارات کی جانب سے صحرا بندی روکنے کے عمل پر اتنا زور دینا شاید دنیا کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر وہ اپنی دولت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اس عمل میں کوئی جدت لا سکیں تو یہ مستقبل میں دنیا کے دیگر علاقے جو صحرا بندی سے متاثر ہیں، ان کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.