Site icon Dunya Pakistan

درخت آدمی ہیں

"احمد علی کورار"

اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ انسان اور درخت کا آپس میں گہرا تعلق ہےان کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان کی .انسان نے درختوں کی سنگت اور قربت میں ایک وقت گزارا ہے.
قدیم زمانے میں لوگوں کو درخت اتنے عزیز تھے کہ جب کسی درخت پہ ان کا دعویٰ ہوتا اگر کوئی اور اسی درخت پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا تو بات مرنے مارنے تک جاتی.
بد قسمتی سے آج کا انسان درختوں کی صحبت سے کوسوں دور ہو چکا ہے.دور ہونے کی کئی وجوہات ہیں یہاں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا کیوں کہ مضموں کا دائرہ محدود ہے اورجو موضوع زیرِ بحث ہے اس سے ہٹنے کا امکان غالب ہے
بات ہورہی ہے انسان اور درخت کے تعلق کے متعلق شاذ ہی آپ کو کوئی ایسا آدمی ملے جو درخت بیزار ہو.
درخت اور انسان کا رشتہ ایسے ہی ہے جیسے ایک خاندان کے افراد کا رشتہ.آج اس موضوع کی طرف دھیان اس لیے گیا کہ مکرمی عرفان جاوید کی کتاب "عجائب خانہ" میں ایک پورا باب انسان اور درخت کے تعلق کے متعلق ہے.
انہوں نے اس باب میں پودوں درختوں جنگلوں کی رومانی اور روح پرور کائنات کا نقشہ کھینچا ہے.
انہوں نے اس باب میں بے شمار درختوں کا ذکر کیا ہے.بات درختوں کے ناموں کے تذکروں تک محدود نہیں جو مرکزی خیال انہوں نے کشید کیا ہے وہ
درخت اور انسان کا تعلق ہے.
یہاں اس مضمون میں عرفان جاوید کے ان واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو درخت کا انسان سے حیران کن تعلق یا انسان کا درخت سے عجیب و غریب تعلق ظاہر کرتے ہیں
اپنے اسی باب میں عرفان جاوید رقم طراز ہیں
شعیب صاحب بتاتے ہیں کہ ڈیفینس لاہور میں واقع ان کے گھر کی کھڑکی سے ہم سائے گھر کی چمکیلی سفید عمارت سے منعکس ہو کر آنکھیں چندھیا دینے والی سورج کی روشنی ان کے کمرے میں آتی تھی.وہ روزانہ ان کے لیے رحمت کا باعث بنتی تھی انھیں خیال آیا کی اگر کھڑکی میں کوئی دلکش پودا لگا دیں تو نہ صرف نظر کو گھائل کرتی روشنی سے بچاؤ ہو جائے گا بلکہ کمرے سے باہر خوبصورت پودا خوشگوار احساس پیدا کرے گا.
وہ نرسری سے گل مہر کے جڑواں پودے لے آئے.ایک پودا اپنی کھڑکی کے برابر لگا دیا اوردوسرا اپنے گھر کے بیرونی دروازے کے قریب.اس کے بعد وہ روزانہ اس پودے کو پر شوق نگاہوں سے دیکھتے اور اس کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے منتظر رہتے.
جوں جوں پودا بڑھتا گیا اس نے کھڑکی کے راستے آنے والی روشنی کی چکا چوند کو اپنی ٹہنیوں اور پتوں سے روک لیا.گل مہر کے اس پودے پر خوبصورت پھول آئے اور ماحول کو دل آویز کرگئے.
شعیب صاحب گل مہر کے جڑواں پودے لائے تھے وہ پودا جسے انہوں نے اپنی کھڑکی کے قریب لگایا اور پرشوق اور منتظر نگاہوں سے اسے دیکھتے رہے خوب پھل پھول کر اونچا لمبا ہو گیا.اس کے برعکس وہ پودا جسے نظروں سے دور بیرونی گیٹ کے ساتھ لگایا تھا اور اسے توجہ حاصل نہ تھی کمزور بدن اور چھوٹے قد کا رہ گیا اب معاملہ ایسا ہو ا کہ کھڑکی والا پودا اپنے جڑواں بھائی سے قد مہں سہ گنا ہو گیا.
عین ممکن ہے اس کی دیگر نباتاتی وجوہ ہوں مگر شعیب صاحب سمجھتے ہیں کہ محبت بھری نظروں نے توانا پودے کی حوصلہ افزائی کی.دوسرا پودا ایسی توجہ نہ پاکر قدرتی قدوقامت سے زیادہ نہ بڑھ پایا.
ایک اور واقعہ یا واہمہ ان کے بین بین ہے.
ہمارے گھر کے سامنے ایک گھر میں ایک متمول خاندان آکر آبادہوا.
میاں بیوی لاہور کے ایک معروف ادارے سے وابستہ تھے.
ان کی بیٹی کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہواتو نانی اور ماں باپ کا لاڈلا ٹھہرا.اس کی دیکھ بھال پر ایک ملازم علیحدہ مقرر کر دیا گیا جو اس کے ساتھ کھیلتا تھا اور بچہ جب چلنے کے قابل ہوا تو اس کے ہم راہ ہوتاتھا پہلوٹھی کا بچہ تھا اس کے خوب نخرے اٹھائے جاتے.
تب ہمارے گھر والی سڑک اسد جان روڈ پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا سو بچہ اپنے ملازم کے ساتھ سڑک پار کرکے ہمارے گھر کی بغل میں لگے ارجن کے بزرگ درخت کے نیچے کھیلتا رہتا اور آتی جاتی اکا دکا گاڑیاں تکتا رہتا.خدا کا کرنا یہ ہوا کہ وہ سست اور بیمار رہنے لگا. جب تحقیق کی گئی تو یہ روح فرسا خبر سامنے آئی کہ اسے جان لیوا بیماری تھی.وہ بیماری اسے مہینوں میں نگل گئی.
وہ بچہ فوت ہوا تو ہر سو سوگ کا سماں تھا.دوپہر میں جنازے کے وقت اس چار پائی کو جس معصوم کا بے جان بدن تھا اسی درخت کے نیچے لاکر رکھا گیا جس کے نیچے وہ کھیلا کرتا تھا.
ہو کا عالم تھا ہوا یوں تھمی ہوئی تھی کہ ایک پتا بھی نہ ہلتاتھا یوں لگتا تھا جیسے ماحول پر سکتہ طاری ہو.وہاں موجود سبھی سوگوران نے دیکھا اور اس کا ایک بڑا سا شاخہ ٹوٹا اور اپنی ٹہنیوں اور پتوں سمیت بچے کی چار پائی کے ساتھ آن گرا.لوگ چونک اٹھے غالباً یہ اس درخت کی جانب سے سوگ کا اظہار تھا یا فقط اتفاق تھا.
گئے وقتوں میں درختوں سے مافوق الفطرت حکایات اور خواص وابستہ ہوتے تھے.آج بھی پاک وہند میں بہت سے درختوں کی شاخوں پر منت کی رنگا رنگ کپڑوں کی ٹکڑیاں بندھی نظر آجاتی ہیں عموماً ایسا کرنے والوں کو ضعیف الاعتقاد سمجھا جاتا تھا.البتہ بعض اوقات ایک انسان کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں جن کی وضاحت باآسانی کی جا سکتی ہیں.
یہ سترھویں صدی کا واقعہ ہے کہ پانچ سو برس عمر کے اس درخت پر آسمانی بجلی گری.بجائے اس کے کہ وہ برقِ فلک اسے جلا کر خاک کر دیتی اس کے تنے کی بنیاد میں ایک شعلہ جل اٹھا اس شعلے نے آگ کی نیم دھار کی شکل اختیار کی جو اسے اندر سے کھوکھلا کر بجھ گئی درخت زندہ رہا صدیوں سے ہر سال اس پر نئے پتے آتےہیں اور وہ اپنا مخصوص پھل بھی فراہم کرتا ہے.
مقامی باشندوں کا اعتقاد ہے کی اس درخت کے زندہ رہ جانے کا معجزہ خدائی حکم کا نتیجہ ہے.
اس دور کے ایک پادری ڈیوکر چونے نے یہ پورا واقعہ خدا کا پیغام قرار دیا.
پاک مریم کے نام پر اس کے اندر اور اوپر ایک ننھا سا چرچ بنایا.اس کے گرد ایک بل کھاتی سیڑھی بھی بنائی گئی ہےجو اوپر کمرے تک جاتی ہے جسے جوگی کا کمرا کہا جاتا ہے.یہ درخت آج بھی عبادت کے لیے استعمال ہوتا ہے.مقامی لوگ اس کی بہت توجہ اور محبت رکھوالی کرتے ہیں.
تقدس تو ہمدوستان میں تامل ناڈو کے گاؤں کنچی پرم میں واقع شیوا کے مندر کے صحن میں ساڑھے تین ہزار پرانے آم کے درخت کو بھی حاصل ہے.
حیران کن طور پر یہ درخت اپنی چار شاخوں پر چار موسموں میں چار بالکل مختلف قسم کے آم پیدا کرتا ہے.عقیدت مندوں کا اعتقاد ہے کہ آم کا یہ درخت چاروں ویدوں کی نمائمدگی کرتا ہے.
ایک امر ملحوظ نظر رکھنا ضروری ہے کہ اس دور میں پیوندکاری کا نہ تو علم تھا اور نہ ہی یہ ممکن تھی.عین ممکن ہے کہ یہ قدرتی پیوندکاری ہو.
یوں تو اس باب میں انسان اور درخت کے تعلق پر بہت کچھ تحریر کیا گیا ہے لیکن جو حیران کن اور عجیب و غریب واقعات تھے وہ اس محدود مضمون میں قلم بند کیے گئے ہیں.

Exit mobile version