درمیانی عمر میں 2 دائمی طبی مسائل سے ڈیمینشیا کا خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے، تحقیق

درمیانی عمر میں 2 یا اس سے زائد دائمی طبی مسائل سے دماغی تنزلی کا باعث بننے والے عارضے ڈیمینشیا کا خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس سے زندگی کے ابتدائی حصے میں اچھی صحت کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔

اب تک شواہد سے معلوم ہوا تھا کہ ڈیمینشیا کے شکار افراد میں متعدد دیگر امراض عام ہوتے ہیں مگر اس حوالے سے زیادہ کام نہیں ہوا تھا کہ جوانی میں ہونے والے امراض سے دماغی تنزلی کا خطرہ کس حد تک بڑھتا ہے۔

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ ڈیمینشیا ایسا مرض ہے جو عموماً معمر افراد کو متاثر کرتا ہے اور ان کی یادداشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

الزائمر ڈیمینشیا کی ہی ایک قسم ہے جو خراب یادداشت، صحیح الفاظ کے چناؤ میں مشکل؛ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشکل ہونا مثلاً کپڑے خود سے نہ تبدیل کر سکنا، گھبراہٹ، ڈپریشن؛ اور اس بات کو ماننے سے انکار کرنا کہ ان کی ذہنی صلاحیتیں پہلے جیسی نہیں ہیں چاہے باقی گھر والوں کو واضح طور پہ ایسا لگ رہا ہو ۔ حالت زیادہ خراب ہوجائے تو ڈیمینشیا کا مریض اپنے ہی گھر میں راستے بھول سکتا ہے۔

ڈیمینشیا کے مریض اپنے شوہر، بیوی یا بچوں کو بھی نہیں پہچان پاتے۔

لندن کالج یونیورسٹی اور پیرس یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں اسی پر کام کیا گیا اور 55، 60، 65 اور 70 سال کی عمر کے افراد میں مختلف امراض اور ڈیمینشیا کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق کے لیے 10 ہزار سے زائد ایسے افراد کا ڈیٹا حاصل کیا گیا جن کی عمریں 1985 سے 1988 کے دوران 35 سے 55 سال کے درمیان تھیں۔

تحقیق میں دائمی امراض میں 13 بیماریوں جیسے امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہارٹ فیلیئر، ڈپریشن، جگر کے امراض، فالج، جوڑوں کے امراض اور کینسر قرار دیا گیا تھا۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ ڈیمینشیا کا خطرہ اس وقت بہت بڑھ جاتا ہے جب 50 سال کی عمر سے قبل لوگوں میں ایک سے زیادہ دائمی امراض کی تشخیص ہوجائے۔

جتنی کم عمر میں لوگ دائمی امراض کا شکار ہوں گے بڑھاپے میں ڈیمینشیا کا خطرہ اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

تحقیق میں شامل 7 فیصد افراد میں سے 639 میں ڈیمینشیا کی تشخیص 32 سال کے دوران ہوئی۔

تمام عناصر جیسے سماجی حیثیت، غذا اور طرز زندگی کو مدنظر رکھنے کے بعد دریافت ہوا ہوا کہ 55 سال کی عمر میں مختلف امراض کا شکار ہونا ڈیمینشیا کا خطرہ اس عمر میں صحت مند افراد کے مقابلے میں لگ بھگ ڈھائی گنا بڑھا دیتا ہے۔

60 سے 65 سال کی عمر میں 2 دائمی امراض کا سامنا ہونے پر دماغی تنزلی کا خطرہ ڈیڑھ گنا بڑ جاتا ہے۔

محققین نے کہا کہ ڈیمینشیا کے حوالے سے موثر علاج کی دستیابی نہ ہونے کے باعث ضروری ہے کہ اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے، تحقیق کے نتائج سے دائمی امراض کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ دائمی امراض کی روک تھام یا بہتر علاج سے بعد کی زندگی میں ڈیمینشیا سے بچنا بھی ممکن ہوسکتا ہے۔