دشواریاں،ذمہ داریاں اور اللہ کی مرضی

فروری 2020میں برطانیہ میں کورونا وائرس کا چرچا شروع ہوا۔اور دیکھتے دیکھتے کورونا وائرس نے برطانیہ کے تقریباً علاقوں میں موت کا جال بچھا دیا۔ اور مارچ آیا تو برطانیہ لاک ڈاؤن میں پوری طرح قید ہوگیا۔

ہر طرف خوف کا اثر دکھنے لگا۔ ٹیلی ویژن پر روزانہ بڑھتی ہوئی موت کی شرح دکھائی جانے لگی۔ حکومت روزانہ ایک نئے اعلان کے ساتھ لوگوں کو یقین دہانی کرانے لگی۔ ہسپتال کورونا سے متاثر مریضوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی تھی۔راستے سنسان ہوگئے تھے اور زیادہ تر لوگ گھروں سے کام کررہے تھے۔ہر آدمی خوف سے اسی سوچ میں ڈوبا ہو اتھا کہ اب کس کی باری ہے۔دھیرے دھیرے وقت کٹتا رہا۔ لیکن پھر جون کے مہینے میں جب کیسز کم ہونے لگے تو کچھ پل کے راحت ملی۔ دکانیں کھلنے لگی اور برطانیہ لاک ڈاؤن سے نکل کر ٹئیر سسٹم میں شامل ہوگیا۔ یعنی مختلف علاقوں کے کیسز کے اعتبار سے ان علاقوں میں پابندیاں عائد ہوئی۔ جس سے کچھ علاقوں کے لوگوں کو کچھ رعایت ملی۔

یہ سلسلہ کچھ مہینے ہی چلا ہوگا کہ سائنسدانوں نے ایک بار پھر برطانیہ میں کورونا کی دوسری لہر کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد وزیراعظم بورس جونسن نے کرسمس سے دوبارہ لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا۔ تب سے اب تک برطانیہ لاک ڈاؤن کی مار سے دوچار ہے۔ دکانیں بند پڑی ہیں۔ چھوٹے بڑے کاروبار تباہ ہوچکے ہیں اور لوگ ذہنی دباؤ میں جی رہے ہیں۔تاہم دسمبر سے ہی برطانیہ نے کورونا ویکسن دینے کے آغاز سے پوری دنیا میں ویکسن دینے والا پہلا ملک بن گیا۔ سب سے پہلے کیئر ہوم کے ضعیفوں سے ویکسین کی شروعات ہوئی اور پھر عمر کے حساب سے لوگوں کو کورونا ویکسن دی جانے لگی۔ لیکن کورونا ویکسین کی سست رفتاری پر اپوزیشن کی تنقید اور لوگوں کی بے چینی کی وجہ سے حکومت نے فوج کی مددسے بڑے پیمانے پر کورونا ویکسین لگانے کے کام میں تیزی لائی جس سے ویکسین لینے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ کر دس میلین سے زیادہ ہوگئی ہے۔ جس سے حکومت کو کچھ راحت ملی ہے اور لوگوں کی بے چینی بھی کم ہوئی ہے۔

وزیراعظم بورس جونسن نے ٹیلی ویژن پر آکر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ لوگ جو اب تک کورونا ویکسین نہیں لے رہے، وہ فوراً کورونا ویکسین لگوالیں۔دراصل بورس جونسن کی اپیل کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اقلیتی طبقے کے زیادہ تر لوگ کورونا ویکسین پر اعتبار نہیں کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومت پریشان ہے کہ کیسے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کورونا ویکسین لگا ئی جائے۔کہا جارہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ مارچ تک آبادی کا اچھا خاصہ حصہ اگر کورونا ویکسین لے لیتا ہے تو حکومت برطانیہ سے لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔تاکہ زندگی معمول پر آئے اور لوگوں میں اعتماد بحال ہو۔لیکن حکومت کی کورونا پالیسی پر جہاں حزبِ اختلاف مسلسل نشانہ بنا رہی ہے تو وہیں لاک ڈاؤن کے حمایتی اور مخالف لوگوں میں بحث بھی بڑھتی جارہی ہے۔

لاک ڈاؤن سے مجھے گھر میں نظر بند ہوئے لگ بھگ ایک سال ہوچکا ہے۔ تاہم خوش قسمتی سے ہسپتال کی نوکری قائم رہنے سے میں بر سرِ روزگار ہوں۔ لیکن لاکھوں لوگ کورونا کی وبا سے بے روزگار ہوچکے ہیں۔ حکومت فر لو اسکیم کے تحت لوگوں کو مالی امداد پہنچا رہی ہے لیکن زیادہ تر لوگ ذہنی دباؤ کی وجہ سے مختلف طرح کے مسائل میں الجھ گئے ہیں۔برطانیہ میں ایک بحث یہ بھی ہورہی ہے کہ برطانیہ کا ہیلتھ کئیر دنیا کا سب سے اعلیٰ مانا جاتا ہے تو کیونکر برطانیہ دنیا میں امریکہ کے بعد دوسرا ایسا ملک بن گیا جہاں کورونا سے اب تک 100,000 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ آخر کیوں برطانیہ میں ہی اتنی تعداد میں کورونا سے لوگوں کی جان چلی گئی۔ اب تو مرنے والوں کے رشتہ داروں نے اپنی ایک انجمن بھی بنا لی ہے جو حکومت سے پبلک انکوائری کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔تاکہ پتہ چلے کہ کیا حکومت ناکام ہوئی ہے یا ہسپتال کے عملہ نااہل تھے؟

ان باتوں میں ایک بات تو یہ سچ ہے کہ برطانیہ لوگوں کی جینے کی شرح کافی بڑھ چکی ہے۔ اور پچھلے تیس برسوں سے بہت سارے لوگ ضعیفی، تنہائی یا کسی بیماری کی وجہ سے کئیر ہوم میں رہائش پزیر ہیں۔ جس سے ممکن ہے اتنے زیادہ مرنے والوں میں ایسے ہی لوگ شامل ہیں جو کافی عمر رسیدہ تھے۔جس کی کچھ تصدیق حکومت کے ڈاٹا سے ہوتی ہے۔اس میں سچائی بھی ہے کیونکہ مجھے جتنے بھی میرے جاننے والوں کی موت کی خبر ملی ہے ان میں زیادہ تر ستر یا اسّی کے عمر کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

جب جذبات عروج پر ہیں تو انتہائی سوچ سمجھدار بھی پھسل سکتے ہیں۔ ایک برا ماحول ہمیں فتنوں میں ڈال سکتا ہے۔ اور آپ بہرے،گونگے اور حقیقت سے اندھے ہوجاتے ہیں۔ آپ کو کچھ بھلا نہیں دکھے گا اور ہر طرف اندھیرا نطر آئے گا۔ ضمیر مردہ ہوجاتا ہے اور انسان غلط سے صحیح فرق کرنے کا اہل نہیں رہتا ہے۔لیکن ہمارا ایمان اور عقیدہ اللہ کی کتاب قرآن پر ہے۔ قرآن ہدایت کی کتاب ہے، یہاں یہ جدوجہد کرنے والے گنہگار، ناامید، شیطان اور بدحواس لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ روشنی فراہم کرتا ہے۔ تو کیا، معافی کی کوئی گنجائش ہے؟ یہ آیت امیدوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے کہ ہاں اگر آپ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں، اپنی غلطیوں پر ندامت کرتے ہیں اور ان پر شرم محسوس کرتے ہیں تو آپ کومعاف کیا جاسکتا ہے۔اس سے اللہ کے احسان پر اعتماد ہوتا ہے۔

حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگ جو اسلام قبول کرنے کے راستے پر تھے، رسول اللہ کے پاس تشریف لائے اور کہا، ’ہماری سابقہ زندگی قتل، دھوکہ دہی، زنا، اور نا قابل بیان جرائم کی داغدار ہیں۔ تو ہمیں کس طرح معاف کیا جاسکتا ہے؟‘ اس وقت آیت ان کو یہ یقین دلانے کے لئے نازل ہوئی کہ اللہ کی مغفرت وسیع ہے اور احسان آزاد وسیع کی طرح ہے۔ یہ خدائی تضاد اور سخاوت ہے۔

جب ہم وبائی امراض، ملازمتوں کے ضیاع، ذہنی صحت کے مسائل، معاشرتی رابطے کے خاتمے کے ذریعے جدوجہد کرتے ہیں تو، یہ ایک بہت بڑا کام لگتا ہے۔ اللہ غیر متوقع ذرائع اور غیر متوقع لوگوں سے، غیر متوقع طریقوں سے حل فراہم کرتا ہے! دشمنوں سے صلح ہوسکتی ہے۔ انصاف کی کھوج میں روشنی آسکتی ہے اور چوری شدہ سامان واپس آسکتا ہے۔ راز یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنا، اس کی ذمہ داری اس کے سپرد کرو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *