دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ تجاہلِ عارفانہ کے بارہا اظہار کے باوجود محترم نصرت جاوید سوشل میڈیا کی حرکیات پر بہت سوں سے گہری نظر رکھتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا تو الیکٹرانک میڈیا آنے کے بعد اپنی کلیدی اہمیت کھو چکا تھا۔ اگر ہر اہم خبر چند منٹ میں ٹیلی وژن اسکرین پر جگمگا رہی ہو گی تو اگلی صبح اخبار کے صفحۂ اول پر کیا رکھا ہو گا؟ کبھی کبھار کوئی خصوصی رپورٹ البتہ توجہ کھینچتی تھی۔ خدا بھلا کرے انگریزی معاصر کے وقائع نگار سیریل المیڈا کا کہ اکتوبر 2016میں ایک ہی خبر دے کر شہر پناہ کی بنیاد اڑا دی۔ اس ایک خبر نے وہ طوفان اٹھایا کہ اخبار کے اظہار کو پالا مار گیا۔ لے دے کے ادارتی صفحہ بچا تھا، کیا رہا ہے مشاعرے میں اب، لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں۔ فلک کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔ کچھ نام اہلِ حکم کے ایما پر قلم زد ہوئے، کچھ کو دھونی دے کر نکالا گیا، کچھ رنگ محفل دیکھ کر خاموش ہو رہے۔ کلک محرر کی روشنائی جاتی رہی، مردہ لفظوں کی کچرا کنڈی کا بھاؤ البتہ اچھا جا رہا ہے۔ ٹیلی وژن کی اسکرین پر کچھ طوطیان خوش بیان بدستور زمزمہ پیرا تھے، ایک ایک کر کے توپ دم ہوئے۔ برسوں کے ریاض سے سرگم میں رس کا جادو دکھانے والے اوجھل ہو گئے، طفلان گلی کوچہ کے شور و غل سے البتہ کان پھٹے پڑتے ہیں۔

قوم کا سیاسی شعور زیر زمین نمی سے عبارت ہوتا ہے۔ اظہار کی جڑیں کلراٹھی دھرتی کے بھیتر میں اپنا جال بنے جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے عام شہری کے ناتراشیدہ اظہار سے نمو پائی تھی۔ 2018کے بعد روایتی ذرائع ابلاغ کا ناطقہ بند ہوا تو پختہ کار صحافیوں نے سوشل میڈیا کی راہ لی۔ منزل نہ ملی تو قافلوں نے/ رستے میں جما لئے ہیں ڈیرے۔ اظہار کے ہر نئے سانچے میں ابتدائی تجربات رطب و یابس سے عبارت ہوتے ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ معیاری مکالمے کے شانہ بشانہ بہت کچھ غیرٹکسالی بھی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہر کس و ناکس کو تبصرہ کرنے کی آزادی ہے۔ قلمی نام اور نامعلوم شناخت کی اوٹ سے ’’شرم کی آنکھیں بند اور بےحیائی کا منہ کھول کر بےنقط سنائیے‘‘۔ کچھ برس قبل تک ایک خاص گروہ نے اس طرز دشنام میں نام پایا تھا، اب چہار سو ایک ہی رنگ کلام ہے۔ کسی کی پگڑی سلامت نہیں۔ نصرت جاوید کا حوصلہ ہے کہ کمنٹ اور تبصرے دیکھ لیتے ہیں، اس خانہ برباد نے تو مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا۔ کوشش کرتا ہوں کہ ابنائے وطن کی ژاژخائی سے صرف نظر کروں۔ 1978کی تعلیمی پالیسی سے تشکیل پانے والے اذہان کے استفراغ سے طبیعت ایسی بدمزہ ہوتی ہے کہ دلیل، مکالمے اور تہذیب سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔

یہ سب تو ہوا لیکن خیال رہے کہ گزشتہ برسوں میں بہت سے ایسے معاملات سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئے کہ ریاست کو ردعمل دینا ہی پڑا۔ روایتی میڈیا کے مقابل سوشل میڈیا ایک توانا متبادل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ چنانچہ اب اس بلائے بے اماں کو بھی نکیل ڈالنے کا ارادہ باندھا جا رہا ہے۔ متعدد قانونی مسودوں کی اطلاعات ہیں۔ عوام کی بےخبری کو فن لطیف کا درجہ دینے والے کچھ ممالک کی مطلق العنانی ہمارے صاحبان حکم کو بہت پسند ہے۔ ’ہیں جواں، اختیار رکھتے ہیں‘۔ دو گزارشات البتہ ضروری ہیں۔ ہماری دھرتی پر آزادی صحافت کی روایت آزادی سے بہت پیچھے جاتی ہے۔ ہمارا سیاسی شعور کیسا ہی پسماندہ کیوں نہ ہو، اظہار کی لگن ہمارے اجتماعی لاشعور کا حصہ ہے۔ اس ملک میں خبر پر کمبل ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ریاست کی رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہے گی۔ اظہار کے نئے ذرائع ایسے طرحدار ہیں کہ انہیں کسی پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس سے قابو نہیں کیا جا سکتا۔ خبر تو بہر حال نکل جائے گی اور اپنے ساتھ قیاس آرائی کا غبار بھی لائے گی۔ بہتر ہو گا کہ خبر سے خوفزدہ ہونے کی بجائے عوام کے احساس ذمہ داری پر بھروسا کیا جائے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ سازش، دھوکہ دہی، تحریص اور زورآوری کے چار ستونوں پر استوار موجودہ سیاسی بندوبست کیسا ہی مخدوش کیوں نہ ہو، بہرصورت آئین سے استنباط کیا گیا ہے۔ آئین کے تار و پود میں اظہار کی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس آزادی کے بغیر جمہوری تسلسل کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔ یاد رہے کہ یورپین پارلیمنٹ کی قرارداد اور آر ایس ایف کی درجہ بندی میں ہمارے ہاں آزادی اظہار کی صورت حال پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ ہم اپنے گھر میں بیٹھ کر ان بیرونی تبصروں کو مسترد کر سکتے ہیں لیکن معاشی احتیاج، سیاسی عدم استحکام اور گنجلک خارجہ مسائل سے دوچار ملک عالمی رائے سے بےنیازی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ہمارے محترم و مقبول کالم نگار افغانستان میں طالبان کی ’فتح‘ پر پانچ چھوڑ، دس اقساط کا قصیدہ بہاریہ قلمبند کر لیں، یہ طے ہے کہ 2001سے 2021تک بیس برس گزر چکے ہیں۔ افغانستان میں ایک سے زائد فریق کے مفادات جنم لے چکے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور چین کے مہرے ہوں گے، دوسری طرف ترکی، ایران اور بھارت نے بساط بچھا رکھی ہے۔ 1979ءاور 2001ءمیں ہمیں جو عالمی تائید میسر تھی، اب اس کا تصور بھی محال ہے۔ دنیا بھر سے اٹھنے والی آوازوں پر توجہ دیجئے کیونکہ چھ ارب ڈالر کی برآمدات یورپ میں دائو پر ہیں اور چھ ارب ڈالر کا قرض آئی ایم ایف کے پنجہ استبداد میں ہے۔ سیاست میں ضابطہ پسندی کی بجائے دھینگا مشتی کا سماں ہے۔

پرویز خٹک حزب اختلاف کو نازک حالات کی خبر دیتے ہیں۔ بس یہی نکتہ وزیر اعظم کے گوش گزار بھی کر دیں جو اہم ترین مشاورت میں بھی قدم رنجہ فرمانے کو اپنی شان سے فروتر سمجھتے ہیں۔ اس ملک کے باشندوں کو گہری تشویش میں ہونا چاہیے جہاں ذرائع ابلاغ کا مستقبل غیریقینی ہو اور سیاسی پیش رفت اخفا کے گہرے پردوں میں پوشیدہ ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: