دلِ مومن: ’اداکار کی کوئی عمر نہیں ہوتی، کردار کی ہوتی ہے‘

ڈرامہ سیریل دلِ مومن کو دیکھنے والے کتنے جذباتی ہو جاتے ہیں، یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن اس ڈرامے میں مومن کا مرکزی کردار ادا کرنے والے فیصل قریشی کہتے ہیں کہ ڈرامے کا سکرپٹ پہلی بار ہی پڑھ کر وہ اتنے جذباتی ہوئے کہ رات گئے رو پڑے تھے۔

بی بی سی کے لیے صحافی براق شبیر نے ڈرامہ دل مومن میں مایا اور مومن کے مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکاروں مدیحہ امام اور فیصل قریشی سے گفتگو کی تو فیصل نے بتایا کہ انھیں کیسے پہلی بار اس سیریل کی آفر ہوئی جس کا سکرپٹ جہانزیب قمر کا لکھا ہوا ہے۔

'میں فتور کے سیٹ پر تھا جب مجھے فون آیا کہ ایک پراجیکٹ ہے اور شہرزادے شیخ اسے ڈائریکٹ کر رہی ہیں۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ اس سے پہلے ہمارا مقدر میں اکھٹے کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا تھا تو میں نے بڑی خوشی سے کہا کہ ہاں سکرپٹ بھیجو۔'

'سکرپٹ پڑھا تو رو پڑا'

فیصل بتاتے ہیں کہ انھیں ڈرامے کا سکرپٹ ملا تو وہ تھوڑا کنفیوز تھے۔ 'نام دل مومن تھا تو میں نے سوچا پتہ نہیں کیا ہے۔ جب میرے پاس سکرپٹ آیا اور میں نے پڑھنا شروع کیا تو رات کے ڈیڑھ بجے اٹھارہ انیس قسطوں کا سکرپٹ پڑھنے کے بعد میں نے جذباتی ہو کر میری (مہرالنسا مستقیم) کو ایک وائس نوٹ بھیجا۔ وہ بھی جذباتی ہو گئی اور ہم دونوں روئے جا رہے ہیں، پڑھے جا رہے ہیں۔'

فیصل قریشی کے مطابق ڈرامے کی ڈائریکٹر شہرزادے شیخ پہلے سے ہی طے کر چکی تھیں کہ مومن کا کردار وہی کریں گے۔ لیکن مایا کا کردار نبھانے والی مدیحہ کا معاملہ تھوڑا مختلف تھا۔

بی بی سی سے گفتگو میں مدیحہ امام نے بتایا کہ ان کو دل مومن کے بارے میں جب بتایا گیا تو وہ اس وقت عشق جلیبی پر کام کر ہی تھیں۔ 'میرے پاس وقت نہیں تھا تو بات ختم ہو گئی۔ بات بھی ایسے کی گئی تھی کہ کہیں اداکار کو زیادہ امید نہ مل جائے۔'

'پھر میری شہرزادے سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ کچھ وجوہات کے باعث زارا یہ رول نہیں کر رہیں۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ کیا تم کرو گی؟ کیوں کہ یہ ایک مختلف کردار تھا تو میں نے کہا کہ ہاں ضرور میں کروں گی۔ تو بس قسمت میں تھا۔'

فیصل قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرامے کا شوٹ شروع ہوئے تقریباً ڈیڑھ مہینہ گزر چکا تھا جب مدیحہ شامل ہوئیں۔

دل مومن

فیصل قریشی اور مدیحہ امام کی جوڑی میں مخلتف کیا ہے؟

فیصل قریشی اور مدیحہ امام اس سے پہلے بھی تین مختلف کرداروں میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ زخم، بابا جانی، مقدر اور اب دل مومن۔ مدیحہ کہتی ہیں کہ شروع میں فیصل قریشی کے ساتھ کام کرنے کی ان کی اپنی خواہش تھی کیوں کہ وہ ایک بڑے سٹار ہیں۔

لیکن اب 'فیصل کے ساتھ کام کرنے میں مجھے بالکل کوئی مشکل نہیں ہوتی، نا ہی میں نروس ہوتی ہوں۔ مجھے کبھی یہ نہیں لگا کہ مجھے کام کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔ نا ہی کبھی ایسا لگا کہ فیصل تو اتنے بڑے سپر سٹار ہیں تو مجھے کون دیکھے گا۔ مجھے فیصل نے کبھی روک کر یہ نہیں بولا کہ یہ ایسے نہیں بلکہ ایسے کر لو۔'

مدیحہ امام کہتی ہیں کہ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ 'میں نے تو فیصل کو کبھی اپ سیٹ ہوتے بھی نہیں دیکھا۔ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ سین خراب ہو جائے اور میں پریشان ہو جاتی ہوں تو یہ ہنس کر کہتے کہ کوئی بات نہیں دوبارہ کر لیتے ہیں۔'

مدیحہ کے مطابق فیصل قریشی کے ساتھ کام کرنے سے انھیں سیکھنے کا بھی موقع ملا۔

'فیصل نے مایا کا کردار سمجھایا تو سمجھ آئی'

مدیحہ کہتی ہیں ہیں کہ ان کی نظر میں مایا کا کردار کچھ مختلف تھا۔ لیکن ' فیصل نے مجھے ایک بلکل مختلف زاویے سے کردار سمجھایا لیکن مجھے اپنے اوپر اتنا غصہ آیا کہ میں نے اتنے سال کام بھی کیا، پورا سکرپٹ میں نے پڑھا۔ کیریکٹر کو سمجھا بھی۔لیکن میں یہ بات نہیں سمجھ پائی جو فیصل نے اب مجھے سمجھائی۔'

فیصل قریشی کہتے ہیں کہ کچھ لکھاری ایسی باتیں لکھ دیتے ہیں کہ وہ آپ کو خود ڈھونڈنی پڑتی ہیں۔ 'اگر آپ سطحی طور پر چیزیں دیکھیں گے تو سمجھ نہیں آّتی لیکن اگر آپ تلاش کریں جو ڈرامے کا اصل مقصد ہے۔'

مدیحہ

'سینیئر اداکار کو بھی جونیئر کے سامنے ٹینشن ہوتی ہے'

فیصل قریشی کہتے ہیں کہ زمانہ بدلا تو ہے لیکن زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ بات ہو رہی تھی کہ انھیں نئے لوگوں کے ساتھ کام کرنا کیسا لگتا ہے۔

'پہلی بات تو یہ ہے جونیئر کو ٹینشن ہوتی ہے کہ سینیئر سامنے کھڑا ہے تو سینیئر کو بھی ٹینشن ہوتی ہے کہ جونیئر کے سامنے بے عزتی نہ ہو جائے۔ مطلب آپ سے جونیئر ایکٹر کو چھ صفحے کا سین یاد ہو اور سینیئر اداکار کو تین لائنیں بھی یاد نہ ہوں تو بے عزتی والی بات ہے۔ تو زیادہ فوکس کام پر ہوتا ہے۔'

فیصل کہتے ہیں کہ اب'ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے' لیکن دل مومن کی ٹیم میں زیادہ اداکار سوشل میڈیا کی بجائے کام پر دھیان دیتے ہیں۔

'جس دن آپ سمجھ لیں کہ آپ کو سب آتا ہے تو سمجھیں اس دن آپ کا کام رک گیا۔اب نئے اداکاروں کو بھی سمجھ آ رہی ہے کہ اگر واقعی اپنا کام دکھانا ہے تو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ سوشل میڈیا پر کتنا ہیں۔'

مایا کا منفی کردار نبھانا مدیحہ کے لیے کتنا مشکل تھا؟

مایا کا کردار منفی ہے یا نہیں؟ یہ بھی ایک بحث ہے۔ لیکن مدیحہ امام کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ مدیحہ کہتی ہیں کہ 'مجھے تھوڑی سی پریشانی تھی کیوں کہ مجھے منفی کردار سے بہت ڈر لگتا ہے۔ بہت سے لوگ مجھے کہتے تھے کہ یہ تو منفی رول خود جان بوجھ کر نہیں کرتی تو سچ یہ ہے کہ مجھے کبھی کسی نے ایسا کردار آفر ہی نہیں کیا۔'

فیصل قریشی کے مطابق مایا کا کردار منفی ہے ہی نہیں۔ صرف دیکھنے کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ 'مایا بلکل بھی ایک منفی کردار نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر ہم دیکھیں تو ہر انسان غلطیاں کرتا ہے اور وہ ان سے سیکھتا ہے۔'

فیصل نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'لوگ کہتے ہیں کہ جب مایا کی ماں کو طلاق ہوئی تو وہ گلے کیوں نہیں لگی، اس نے تسلی کیوں نہیں دی۔ تو مایا کی نظر سے دیکھیں تو اس کے نزدیک وہ آزاد ہو گئی اس وقت، اس کی ماں بھی آزاد ہو گئی۔'

فیصل

مدیحہ کو شروع میں یہ کردار اپنانا مشکل لگا۔ وہ کہتی ہیں کہ 'میں شروع میں شہرزادے (ڈائریکٹر) کو کہتی تھی کہ یہ ایسا کیوں کر رہی ہے ، یہ غلط ہے تو وہ مجھے سمجھاتی تھیں کہ اس کردار کی نظر سے دیکھو تو وہ غلط نہیں لگے گا اور میں یہ سوچتی تھی کہ کیا سکرین پر لوگوں کو بھی نظر آئے گا کہ یہ ایسا کیوں کر رہی ہے تو ہاں اب نظر آرہا ہے اور لوگوں کو اس کردار سے ہمدردی ہو رہی ہے۔'

'ایکٹر کی کوئی عمر نہیں ہوتی، کردار کی ہوتی ہے'

فیصل قریشی کے لیے ایک تیس سالہ نوجوان کا کردار ادا کرنا کتنا مشکل تھا؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دس بارہ سال پہلے 'میں نے میری ذات ذرہ بے نشان میں عمران عباس کے باپ کا رول کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت تو میں آج سے کافی جوان تھا۔ لیکن میں تب بھی ایسے کردار کرتا تھا کیوں کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اس کیٹگری میں آ جاؤں کہ کہا جائے کہ میں نے مختلف نوعیت کے کردار کیے۔'

مومن کے کردار کو اپنانے میں سکرپٹ اور ڈائریکٹر کا بھی اہم کردار تھا۔ فیصل کے مطابق مومن کی عمر سکرپٹ میں تیس سال رکھی گئی تھی اور ڈائریکٹر نے چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھا۔

'شہرزادے بٹن تک دیکھتی ہے، بال کیسے ہونے چاہیئے۔ چپل تک پر انھوں نےکہا کہ یہ ہونی چاہیئے۔ ہمارے لیے بہت سی چیزیں کرنے سے پہلے آسان ہو گئی۔'

ہاں، فیصل قریشی نے نیا روپ دھارنے کے لیے کچھ محنت خود بھی کی۔ 'میں نے کہا کہ میں منہ تھوڑا بدلتا ہوں۔ تھوڑے بال براؤن کیے۔ کچھ ینگ لک آئی۔'

مدیحہ امام کہتی ہیں کہ اس کردار کو ادا کرنے کے لیے سب سے اہم مرحلہ وہ تھا جب انھیں اپنی چال بدلنے کو کہا گیا۔ 'مجھے بہت پہلے بتا دیا گیا تھا ڈائریکٹر کی جانب سے کہ آپ کی باڈی لینگوئیج مدیحہ کی طرح ہو ہی نہیں سکتی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ آپ اس طرح چلیں جیسے یہ کردار ہے اور اس کی کافی تفصیل لکھی گئی تھی۔ ایک دفعہ جب مجھے اس کیریکٹر کی چال سمجھ آئی تو مجھے باقی بھی کردار سمجھنے میں آسانی ہو گئی۔'

'ابھی بہت سے موڑ آئیں گے'

فیصل قریشی کہتے ہیں کہ انھوں نے تقریباً سات ماہ اس ڈرامے کا شوٹ کیا جس کے دوران بہت عجیب و غریب لمحات بھی آئے لیکن ٹیم میں سے کسی کی بھی دلچسپی کم نہیں ہوئی۔'اس کی وجہ سکرپٹ، ٹیم، ڈائریکٹر تھے۔'

فیصل قریشی کہتے ہیں کہ ابھی اس ڈرامے میں بہت سےاہم موڑ آنے ہیں اور کریدنے کے لیے بہت کچھ باقی ہے۔

'اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ ایسا کیوں ہوا تو میرا صرف یہ جواب ہے کہ سکرپٹ رائٹر نے ہر سوال کا جواب دے رکھا ہے جو آپ کو ڈرامے میں ہی مل جائے گا۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: