دلہن کی قیمت: ’میرے شوہر مجھے افورڈ ہی نہیں کر سکتے‘

’میں دلہن کے لیے دیے گئے پیسے کو ایسے نہیں دیکھتی کہ یہ میری قیمت ہے۔۔۔ جیفری مجھے ایفورڈ ہی نہیں کر سکتے۔‘ یہ الفاظ تھے اینجیلا کے جو گھانا سے تعلق رکھنے والے خاندان کے ہاں برطانیہ میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں۔

اینجیلا سب صحران افریقہ یا افریقی صحرائے اعظم کے جنوبی ممالک میں دلہن کے لیے پیسے دینے کے ایک رواج کے متعلق بات کر رہی تھیں جو کہ وہاں عام ہے۔

’اس کے بجائے مجھے یہ خیال اس لیے پسند ہے کہ میرا منگیتر اور اس کے خاندان والے میرے ان کے ہاں آنے کو ایسا سمجھ رہے ہیں جیسے کہ کوئی خزانہ آ گیا ہو۔‘

’برائیڈ پرائس‘ یعنی دلہن کے لیے دی جانے والی رقم وہ رواج ہے جو دلہے کا خاندان اپنے ہونے والے سمدھیوں کو شادی سے پہلے دیتا ہے۔

یہ ادائیگی پیسوں، تحائف یا دونوں کی ملی جلی شکل ہوتی ہے۔ یہ اکثر یک مشت ہی ادا کی جاتی ہے لیکن اقساط میں دینا بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اس کا رواج تھائی لینڈ، چین اور پپوا نیو گنی میں بھی ہے۔

اینجیلا کے لیے یہ اپنی جڑوں کو تسلیم کرنے کا ایک حصہ ہی ہے۔

بلیسنگ اور چیلسی اپنی بچی کے ساتھ
بلیسنگ کہتے ہیں کہ انھوں نے برائیڈ پرائس کے لیے رقم ہفتے میں سات سات دن کام کر کے اکٹھی کی

’آپ کو پتہ ہے نہ کہ افریقی اپنے افریقی ہونے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ضروری نہیں تھا کہ افریقی ہونا کوئی قابلِ فخر بات سمجھی جاتی ہو۔ لیکن اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ افریقی ثقافت کو کس طرح اپنایا گیا ہے۔‘

ان کے شوہر جیفری بھی برطانیہ میں ہی گھانا سے تعلق رکھنے والے والدین کے ہاں ہی پیدا ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دلہن کے خاندان کی قدر دانی کا ایک چھوٹا سا طریقہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس چھوٹے سے ٹوکن سے زیادہ کوئی اور چیز اس عمل کی اہمیت کو خراب بھی کر سکتی ہے کیونکہ پھر یہ برائیڈ پرائس کو حقیقی مطلب دے دیتا ہے۔‘

’آپ بکاؤ مال نہیں ہیں، آپ کو کوئی نہیں خرید سکتا‘

قانونی تقریب کے ایک ہفتے قبل جیفری اور اینجیلا نے گھانا کے رواج کے مطابق روایتی تقریب کا انتظام کیا۔

اس تقریب میں اینجیلا کے خاندان کو پیسے اور تحائف دیے گئے۔

لیکن دونوں نے اس رواج کو ذرا نیا رنگ دیا۔ ’جو برائیڈ پرائس (میرے خاندان کو) دیا گیا تھا وہ اب ہم دونوں کو واپس ملنے والا ہے۔‘

’میری ماں میرے ساتھ انتہائی درجے تک شفاف ہیں اور انھوں نے ہمیشہ سے ہی کہا ہے کہ ’تم بکاؤ مال نہیں ہو، تمہیں کوئی خرید نہیں سکتا۔‘

برائیڈ پرائس کی قیمت کافی حد تک بدلتی رہتی ہے۔ جیفری کہتے ہیں کہ ’وہ کافی حد تک معمولی ہے، سینکڑوں میں ہے۔‘

لیکن ڈربی میں مقیم میاں بیوی بلیسنگ اور چیلسی کے لیے یہ ذرا مختلف طریقے سے ہوا۔

بلیسنگ جو زمبابوے نژاد برطانوی شہری ہیں، کہتے ہیں کہ انھوں نے برائیڈ پرایس کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے دو دو نوکریاں کیں۔ ’میں صرف یہ کہوں گا کہ یہ بس اتنا ہے جتنا آپ برطانیہ میں مارٹگیج کے لیے ڈیپازٹ دیتے ہیں۔‘

ابتدا میں چیلسی روایتی شادی نہیں چاہتی تھیں کیونکہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔

’میں سوچ رہی تھی کہ پیسہ کون لے گا؟ کیونکہ یہ عموماً آپ کے والد یا والدہ کے متعلق ہوتا ہے۔ اور مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔‘

شرمیلی دلہن کی روایتی چھاپ بدلنے والی دلہن

لیکن پھر بلیسنگ نے چیلسی کو قائل کیا۔ ایک بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ برائیڈ پرائس ایک اچھا رواج ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انھوں نے برائیڈ پرائس نہ دیا ہوتا تو ان کے لیے اپنی بیوی کے خاندان کا سامنا کرنا مشکل ہوتا۔

یہ پتہ نہیں کہ برائیڈ پرائس کب افریقہ میں ایک رواج بنا لیکن کئی ممالک میں یہ نقد رقم کے استعمال میں آنے سے پہلے کی رسم ہے۔

تاریخی طور پر یہ روایت مختلف ثقافتوں اور ممالک میں مختلف طریقے سے رائج ہے۔

ایولن شلر
ایولن شلر سمجھتی ہیں کہ برائیڈ پرائس میں تحائف کے بجائے رقم پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے

ایولن شلر یوگینڈا میں برائیڈ پرائس کے خلاف مہم چلاتی رہی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ گذشتہ تین دہائیوں میں روایت کا محور بدل گیا ہے۔

’آپ دیکھیں کہ آج کل تحائف کس قسم کے ہیں۔ وہ پیسے کی شکل میں ہیں اور یہیں سے لفظ برائیڈ پرائس آیا ہے۔ یہ اب دلہن کا تحفہ نہیں رہا۔ یہ برائیڈ پرائس بن چکا ہے۔‘

سنہ 2015 میں یوگینڈا کے سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ برائیڈ پرائس آپشنل ہونا چاہیئے لیکن اگر جوڑے میں طلاق ہو جاتی ہے، اس کے لیے ریفنڈ کا دعویٰ کرنا غیر قانونی ہو گا۔ برائیڈ پرائس کے لیے یوگینڈا میں حمایت موجود ہے کیونکہ وہاں اسے برادریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے والی چیز سمجھا جاتا ہے۔

ٹولی ٹی
پوڈ کاسٹ کی شریک میزبان ٹولی ٹی سمجھتی ہیں کہ برائیڈ پرائس ملکیت کی طرح لگتا ہے

’سیاہ فام برطانوی افراد کی اب اپنی ثقافت ہے‘

برطانیہ میں پیدا ہونے والی نائجیریائی پوڈ کاسٹر ٹولی ٹی سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا برائیڈ پرائس ان کے کچھ کام کا ہے۔ ’آخر میں ۔۔۔ یہ رقم میرے بچے کے لیے ہی ہو گی۔ یہ کافی حد تک ملکیت کی طرح لگتا ہے۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ یہ روایت عورت کی مادی قابلیت کے تصور کی حوصلہ افزائی کرتی ہے: ’مثال کے طور پر یہ خود اعتمادی کی طرح ہے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کیونکہ میں یونیورسٹی نہیں جا سکی تھی یا میں نے اتنی رقم نہیں کمائی تھی۔‘

’اور آخر میں اس کا میرے اچھی بیوی بننے سے کیا تعلق ہے؟‘

’میں اپنے جیسے میلینیئلز کے لیے بہت سوچتی ہوں، جیسے سیاہ فام برطانوی یا سیاہ فام برطانوی نژاد نائجیریئن، یا کوئی بھی، اب ہماری ایک اپنی ہی ثقافت ہے۔‘

’ہم کچھ چیزیں جو ہمیں پسند ہیں افریقی ہونے کی وجہ سے اپنا رہے ہیں اور کچھ برطانوی ہونے کی وجہ سے۔ سو ہم نے ایک سب کلچر بنا لیا ہے جہاں ہم چیزوں پر سوال اٹھاتے ہیں اور اگر وہ ہمیں سمجھ آتی ہیں تو ہم انھیں اپنا لیتے ہیں۔‘

error: