دلیپ کمار کے آبائی گھر اور کپور حویلی کی قیمت پر تنازع: ’حکومت پاکستان اور موجودہ مالکان مل کر قیمت کا تعین کریں‘

پاکستان کے شہر پشاور میں بالی وڈ اداکار دلیپ کمار کے گھر اور کپور خاندان کی رہائش گاہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی خبر سے ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن اس اقدام میں اب بھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔

دلیپ کمار کے ترجمان فیصل فاروقی نے پشاور میں دلیپ کمار اور کپور خاندان کے آبائی گھروں کے حوالے سے موجودہ مالکان اور حکومت کے درمیان تنازع کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب سے حکومت پاکستان کی جانب سے دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی کو محفوظ کرنے اور میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا اور اس حوالے سے عملی کام کا آغاز ہوا ہے، تب سے ان فنکاروں کے چاہنے والے کافی خوش ہیں۔

فیصل فاروقی نے انڈیا کے شہر ممبئی سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اور گھروں کے موجودہ مالکان کو چاہیے کہ وہ ’مل کر باہمی اتفاق سے قیمتوں کا تعین کریں تاکہ میوزیم قائم کرنے کا منصوبہ جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔‘

یاد رہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ دلیپ کمار کے اس گھر کے موجودہ مالک نے اسے حکومت کو 80 لاکھ روپے میں فروخت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دلیپ کمار، راج کپور، پشاور، خیبر پختونخوا
،تصویر کا کیپشنراج کپور (دائیں)، دلیپ کمار (بائیں) اور دیو آنند (درمیان میں) ایک محفل میں شریک ہیں

فیصل فاروقی کا کہنا ہے کہ پشاور میں جنوبی ایشیا کے بڑے فنکاروں دلیپ کمار، کپور فیملی، شاہ رُخ خان اور دیگر فنکاروں کے آبائی گھر ہیں۔

’اس کی اپنی ایک اہمیت ہے جس کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اب اگر جنوبی ایشیا کے لیجنڈ فنکاروں دلیپ کمار اور کپور خاندان سمیت دیگر بلند پایہ فنکاروں کے آبائی گھروں کو محفوظ بنایا جائے گا تو اس سے پشاور کی نہ صرف اہمیت میں اضافہ ہو گا بلکہ اس سے پشاور اور پاکستان کی سیاحت کی صنعت کو بھی مزید استحکام ملے گا۔‘

فیصل فاروقی کا کہنا تھا کہ ’پشاور دلیپ کمار کے دل میں بستا ہے۔ وہ اکثر و بشتر پشاور اور اپنے آبائی گھر کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔‘

’اگر حکومت پاکستان کی جانب سے دلیپ کمار اور کپور فیملی کے آبائی گھروں کو محفوظ کرنے اور ان میں میوزیم قائم کرنے کے منصوبے پر گھروں کو حاصل کرنے کے بعد عملی کام شروع ہوا تو ان لیجنڈ فنکاروں کے پورے دنیا میں بسنے والے فینز کسی نہ کسی صورت میں اپنا تعاون بھی پیش کرسکتے ہیں۔‘

فیصل فاروقی کے مطابق دلیپ کمار کے دو بھائی کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ جس کے بعد اس وقت دلیپ کمار اور ان کی اہلیہ لیجنڈ اداکارہ سائرہ بانو زیادہ تر وقت قرنطینہ میں گزار رہے ہیں۔

دلیپ کمار، راج کپور، پشاور، خیبر پختونخوا

موجودہ مالکان اور حکومت کے درمیان تنازع

صوبہ خیبر پختونخوا حکومت نے گذشتہ سال دلیپ کمار اور کپور فیملی کے آبائی گھروں کو محفوظ آثاثہ قرار دے کر ان کو حاصل کرنے کا نوٹفیکیشن جاری کیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر نے ان دونوں گھروں اور ملبے کی الگ الگ قیمتیں مقرر کی ہیں۔ کپور فیملی کا گھر ڈھکی دالگراں پشاور میں اپنے دور کی ایک شاندار عمارت تھی۔ اس کا کل رقبہ لگ بھگ چھ مرلے سے کچھ زیادہ بتایا گیا ہے اور جس حصے پر عمارت کا ملبہ کھڑا ہے اس کا رقبہ 5184 مربع فٹ ہے۔

گھر کی زمین کی قیمت ایک کروڑ پندرہ لاکھ سے زیادہ مقرر کی گئی ہے جبکہ ملبے کی قیمت کا تخمینہ 34 لاکھ سے زیادہ لگایا گیا ہے۔

دوسری طرف دلیپ کمار کا مکان پشاور کے قصہ خوانی بازار میں محلہ خداداد میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ چار مرلے بتایا گیا ہے۔

اس کا تعمیرات والا حصہ 1077 مربع فٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ اس زمین کی قیمت 72 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے جبکہ اس مکان کے ملبے کی قیمت کا تخمینہ 7 لاکھ 76 ہزار سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ اس حساب سے دلیپ کمار کے گھر کی قیمت 80 لاکھ 56 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔

دلیپ کمار، راج کپور، پشاور، خیبر پختونخوا
،تصویر کا کیپشنپشاور میں واقع کپور حویلی جو اب نہایت مخدوش حالت میں ہے

ان دونوں جائیدادوں کی کل قیمت 2 کروڑ 30 لاکھ اور 56 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر دونوں گھروں کے موجودہ مالکان کو شدید اعتراضات ہیں۔

دریں اثنا دلیپ کمار والے گھر اور کپور حویلی کے مالکان حاجی لال محمد اور علی قادر نے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیموں پر گھروں کو فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

دونوں گھروں کے مالکان نے حکومت کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس حوالے سے تیاری کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔

پشاور کے مقامی میڈیا کے مطابق حاجی لال محمد کا کہنا ہے کہ گھر کی موجودہ قیمت کم از کم 25 کروڑ ہے جبکہ علی قادر نے دو ارب روپے قیمت مانگی ہے۔

راج کپور، کپور حویلی، بالی وڈ، پشاور
،تصویر کا کیپشنرشی کپور اور رندھیر کپور کی 1990 میں پشاور میں کپور حویلی کے دورے کے موقع پر لی گئی تصویر

دلیپ کمار اور کپور فیملی کی یادیں

دلیپ کمار اور کپور فیملی کے خاندانوں کی یادیں ان دونوں گھروں سے جڑی ہوئی ہیں۔

دلیپ کمار کے نام سے مشہور محمد یوسف خان کی پیدائش 11 دسمبر 1922 کو اسی گھر میں ہوئی تھی اور 1930 میں دلیپ کمار اپنے خاندان کے ہمراہ بمبئی چلے گئے تھے۔

2013 میں دلیپ کمار کے اس گھر کو وفاقی حکومت نے قومی ورثہ قرار دیا تھا۔ سنہ 1988 میں دلیپ کمار نے اپنے اس آبائی گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت انھوں نے اپنے گھر کی دہلیز کو چوما تھا اور میڈیا کے سامنے اپنے بچپن کی یادیں دہراتے رہے تھے۔

سنہ 1997 میں دلیپ کمار کو پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز 'نشان امتیاز' سے نوازا گیا تھا۔ اس موقع پر بھی وہ پشاور میں اپنے آبائی گھر جانا چاہتے تھے مگر استقبال کے لیے آنے والے عوام کی بے پناہ بھیڑ کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔

انڈیا میں بالی وڈ کو متعدد سپر سٹارز دینے والے کپور خاندان کی ایک نسل پشاور کے اس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کو 1918 سے لے کر 1922 کے درمیان میں راج کپور کے والد دیوان کپور نے تعمیر کروایا تھا۔

دلیپ کمار اور سائرہ بانو
،تصویر کا کیپشندلیپ کمار اور سائرہ بانو

وہ پنجاب سے پشاور منتقل ہوئے تھے۔

راج کپور بھی اس حویلی میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم برصغیر کے بعد یہ خاندان انڈیا منتقل ہوگیا تھا۔

رشی کپور اور ششی کپور نے ایک مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران وہ پشاور میں اپنے آبائی گھر بھی گئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: