دلی میں کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ: کسان مورچہ کا دلی میں پریڈ ختم کرنے لیکن احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان

انڈیا میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی کسانوں کی نتظیم متحدہ کسان مورچہ نے منگل کی شام دلی میں فوری طور پر ’ٹریکٹر پریڈ‘ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

منگل کی صبح ہزاروں کسان مختلف رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے ٹریکٹروں سمیت داخل ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس سے جھڑپوں میں ایک کسان کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دلی پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران ان کے کم از کم 80 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زخمی اہلکاروں پر احتجاج کرنے والے کسانوں نے حملہ کیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے دلی پولیس کے ترجمان اِش سنگھل کے حوالے سے بتایا کہ ’بعض مقامات پر مظاہرین پرتشدد ہوگئے تھے۔ تشدد کے دوران پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔‘

اس سے پہلے دلی کے جوائنٹ کمشنر آلوک کمار نے تنبیہ کی تھی کہ پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جبکہ کسان مورچہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’غیر سماجی عناصر‘ تحریک میں گھس گئے تھے۔

کسان مورچہ نے منگل کی شام پریڈ کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن کہا ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ اطلاعات کے مطابق پریڈ ختم کیے جانے کے اعلان کے باوجود بعض کسانوں کو اپنے ٹریکٹروں پر لال قلعے کی طرف جاتے دیکھا گیا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی اپیل اور کسانوں کا تشدد سے لاتعلقی کا اظہار

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کسانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ دلی سے واپس لوٹ آئیں۔

کسانوں کی تنظیم متحدہ کسان مورچہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود کچھ دیگر تنظیمیں اور کچھ غیر سماجی عناصر، اب تک پر امن رہنے والی تحریک میں شامل ہو گئے، انہوں نے ہمارے راستے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے قامبل مذمت اقدامات کیے ہیں۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ امن ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسی حرکتوں سے تحریک کو نقصان پہنچتا ہے۔'

’تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں‘

کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انھوں نے حکومت سے اہیل کی کہ ’کسانوں کی سنیں اور ملک کے مفاد میں زرعات کے خلاف قانون کو واپس لے لیں۔‘

ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’دلی میں مناظر حیران کن ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے کیے گئے پرتشدد اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ اس سے پرامن کسانوں کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ کسان لیڈروں نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور ٹریکٹر ریلی معطل کر دی ہے۔ میں تمام حقیقی کسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دلی سے نکل آئیں‘۔

عام آدمی پارٹی نے بھی دلی میں کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ وفاقی حکومت نے حالات کو اس حد تک متاثر ہونے دیا۔

عام آدمی پارٹی نے بیان جاری کیا کہ 'تحریک گزشتہ دو ماہ سے پر امن طریقے سے جاری تھی۔ کسان راہنماؤں نے کہا ہے کہ جو لوگ آج تشدد کے لیے ذمہ دار تھے وہ تحریک کا حصہ نہیں تھے بلکہ باہر سے آنے والے عناصر تھے۔ وہ جو بھی تھے، تشدد نے یقینی طور پر تحریک کو کمزور کیا ہے، جو اب تک اتنے امن اور ڈسپلین کے ساتھ چل رہی تھی۔'

اس سے پہلے کسانوں نے حکومت کی جانب سے دارالحکومت کی داخلی اور اندرونی سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینرز اور سیمنٹ کے بھاری بلاک ٹریکٹروں کے ذریعے ہٹا کر راستے کھول دیے ہیں جبکہ پولیس کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے جگہ جگہ آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کر رہی ہے۔

کسانوں کی ایک بڑی تعداد لال قلعہ تک پہنچ گئی اور سینکڑوں مظاہرین قلعہ کی فصیل کے اس مقام پر کھڑے پرچم لہراتے دکھائی دیے جہاں روایتی طور پر انڈیا کے یوم آزادی پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے۔

کسانوں اور پولیس کے درمیان شہر میں کئی جگہ جھڑپیں ہوئیں اور اس دوران ایک کسان کی ہلاکت جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ یہ شخص آئی ٹی او کے مقام پر نکالی جانے والی ریلی میں شامل تھا اور کسانوں نے اس کی لاش کے ساتھ کئی گھنٹے تک دھرنا بھی دیا تاہم بعد ازاں پولیس نے انھیں وہاں سے ہٹا دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، دہلی کے پولیس کمشنر ایس این شریواستو نے کہا تھا کہ کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد میں متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس دوران عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کمشنر نے مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو تشدد میں ملوث نہ ہونے کی اپیل کی اور کہا تھا کہ امن قائم رکھیں اور مقررہ راستے سے واپس چلے جائیں۔ ایس این شریواستو نے کہا ہے کہ ’ٹریکٹر ریلی کے لیے وقت اور راستہ کئی اجلاسوں کے بعد طے کیا گیا تھا لیکن کسان ٹریکٹر ریلی کو مقررہ روٹ کے بجائے کسی اور جگہ سے لے آئے اور وہ بھی مقررہ وقت سے پہلے‘۔

پولیس نے کسانوں کو اس ریلی کے لیے شہر کے تین نواحی علاقوں میں محدود پریڈ کی اجازت دی تھی لیکن کسان دلی کا احاطہ کرنے والی مرکزی رنگ روڈ پر ریلی نکالنے پر مُصِر تھے۔

ٹریکٹر پریڈ

دلی میں کسانوں کا احتجاج

یاد رہے کہ انڈیا کے 72ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں کسان ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اس ریلی کو ٹریکٹر پریڈ کا نام دیا گیا ہے۔

پنجاب ہریانہ، مغربی اتر پردیش، راجستھان اور کئی دیگر ریاستوں سے ہزاروں کسان اپنے ٹریکٹر لے کر دلی کے نواح میں پہنچے اور پھر وہ مختلف اطراف سے دارالحکومت میں داخل ہوئے ہیں۔

نئی دہلی میں اس وقت موجود ٹریکٹروں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے جبکہ اس ریلی کو ’کسانوں کی طاقت‘ کا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انڈیا ٹریکٹر ریلی

واضح رہے کہ انڈیا کے کسان حکومت کی جانب سے بنائے گئے نئے زرعی قوانین کے خلاف گذشتہ دو ماہ سے احتجاجی دھرنے دے رہے ہیں۔ یہ احتجاج دلی کے نواح میں تین مختلف مقامات پر جاری ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں کسان اور ان کے خاندان شریک ہیں۔

اُن کا مطالبہ ہے کہ یہ متنازع قوانین واپس لیے جائیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ان سے انھیں اپنے اناج کی فروخت کے عوض مناسب دام نہیں مل سکیں گے اور مقامی منڈیوں پر نجی تاجروں کا قبضہ ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ انڈیا میں یوم جمہوریہ کے موقع پر پریڈ میں مختلف فوجی دستے مارچ کرتے ہیں اور ملک کی مختلف ریاستوں کی ثقافت کی جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اس پریڈ میں جنگی ساز و سامان کی نمائش کے ذریعے ملک کی جنگی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔

اس دن کی مناسبت سے انڈین دارالحکومت اور اس کے اطراف میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

انڈیا ٹریکٹر ریلی

ٹریکٹر ریلی کے بارے میں کاشتکاروں میں کافی جوش وخروش نظر آتا ہے۔ انھیں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ حکومت پر ان کی نفسیاتی جیت کا نتیجہ ہے۔

پنجاب کے کسان ترنجیت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم یہ ٹریکٹر ریلی اس لیے نکال رہے ہیں کہ حکومت کے سامنے پر امن طریقے سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت لاکھ کوشش کر لے، توپیں لگا دے، رکاوٹیں کھڑی کر دے لیکن اب وہ ہمیں نہیں روک پائے گی۔‘

مدھیہ پردیش کی ایک خاتون کسان رہنما پوتر کور کا کہنا تھا کہ ٹریکٹر ریلی سے یوم جمہوریت کے جشن میں کسانوں کی بھی شمولیت ہو گی۔ ’آج بہت بڑا دن ہے۔‘

کسانوں کا خیال ہے کہ وہ اتنے دنوں سے دھرنے پر بیٹھے ہیں، ہڑتال پر بیٹھے ہیں تو سب مل کر اسے ٹریکٹر ریلی کی شکل میں منائیں کیونکہ ٹریکٹر کسان کا سب سے اہم آوزار ہے۔‘

ہریانہ کے کسان اجیت شرما حکومت پر کافی برہم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آزادی کے بعد یہ پہلی بار ہے جب کسان اس طرح بے بس ہوئے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ حکومت سرمایہ داروں کے ہاتھوں کھیل رہی ہے۔‘

’اگر نئے قوانین سے کسانوں کو فائدہ ہوتا تو وہ یہاں دھرنے پر کیوں بیٹھے ہوتے۔‘

اناج کی مقررہ قیمت کی قانونی ضمانت کے مطالبے پر زور دینے کے لیے ہزاروں کسان ممبئی کے آزاد میدان میں بھی جمع ہیں۔ منگل کو ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی پریڈ کے بعد کسانوں کی حمایت میں جلسے جلوس کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا تھا کہ کسانوں کو یوم جمہوریہ کے موقع پر ریلی نہیں کرنی چاہیے تھی اور وہ کسی اور دن یہ ریلی کر سکتے تھے۔

اس دوران کسان یونیینز نے اعلان کر رکھا ہے کہ اگر حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔

نئے زرعی قوانین پر کیا اعتراض ہے؟

انڈیا ٹریکٹر ریلی

مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمت کا تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہیں جو ملک میں طویل عرصے سے رائج ہیں اور جس کا مقصد کسانوں کو آزاد منڈیوں سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔

نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔

پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان قوانین میں ’کانٹریٹک فارمنگ‘ کے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کو وہی اجناس اگانا ہوں گی جو کسی ایک مخصوصی خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی۔

سب سے بڑی تبدیلی یہ آئے گی کہ کسانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی پیداوار کو منڈی کی قیمت پر نجی خریداروں کو بیچ سکیں گے۔ ان میں زرعی اجناس فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹیں اور آئن لائن پرچون فروش شامل ہیں۔

اس وقت انڈیا میں کسانوں کی اکثریت اپنی پیداوار حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

دلی میں کسانوں کا احتجاج

یہ منڈیاں کسانوں، بڑے زمینداروں، آڑھتیوں اور تاجروں کی کمیٹیاں چلاتی ہیں جو کسانوں اور عام شہریوں کے درمیان زرعی اجناس کی ترسیل، ان کو ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو فصلوں کے لیے پیسہ فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے کچھ قواعد اور اصول ہیں اور جس میں ذاتی اور کارروباری تعلقات کا بھی بہت عمل دخل ہے۔۔

نئی اصلاحات کہنے کی حد تک تو کسانوں کو یہ سہولت فراہم کرتی ہیں کہ وہ روایتی منڈیوں سے ہٹ کر بھی اپنی پیداوار فروخت کر سکتے ہیں۔

ابھی تک واضح نہیں کہ اس پر حقیقی طور پر کس طرح عمل ہو گا۔ انڈیا کی بہت سی ریاستوں میں اب بھی کسان اپنی پیداوار نجی خریداروں کو فروخت کر سکتے ہیں لیکن یہ قوانین اس کو قومی سطح پر لے جائیں گے۔

کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اس سے آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے کا راستہ نہیں ہو گا اور ان کے پاس سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ منڈیوں کا نظام جاری رہے گا اور وہ کم از کم امدادی قیمت جسے (ایم ایس پی) بھی کہا جاتا ہے اسے ختم نہیں کیا جا رہا۔ لیکن کسان اس پر یقین نہیں رکھتے۔

error: