Site icon Dunya Pakistan

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

جیسا کہ غالب نے فرمایا ہے: دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے۔آخر اس درد کی دوا کیا ہے۔ رپورٹ آئی ہے کہ دل کے امراض بیشتر ممالک میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہوتے ہیں۔ دل ہمارے جسم کا ایک بہت ہی اہم عضو ہے اور پورا نظامِ خون اس پر منحصر ہے۔ ہر سال امراض قلب کی جانکاری کے لئے 29ستمبر کو’ورلڈ ہارٹ ڈے‘ منایا جاتا ہے۔

ویسے بھی اردو زبان میں ’دل‘کے حوالے سے ہم سب اپنی گفتگو میں روز کچھ نہ کچھ کہتے رہتے ہیں۔اردو محاوارات میں دل اُٹھنا، دل اچاٹ ہونا، دل بجھنا، دل بھاری کرنا، دل دھڑکنا، دل بیٹھ جانا، دل پر چوٹ لگنا، دل پھٹنا، دل توڑنا، دل جلانا، دل چیر کر دیکھنا، دل سے دل ملنا، دل برداشتہ ہونا، دل دھواں اٹھنا، دل کی بھڑاس نکالنا، دل لگی کرنا وغیرہ ایسے عام محاورے ہیں جس کا استعمال ہم روزانہ ہی کرتے رہتے ہیں۔

ہمارے جذبات کا دل سے ایک گہرا رشتہ ہے اور دل کے حوالے سے زیادہ تر محاورے دلی احساسات، جذبات اور ہماری طبیعت کو بیان کرتا ہے۔ ان ہی لفظوں کے استعمال سے انسان اپنی کیفیت کو بحسنِ خوبی بیان کرتا ہے۔ چاہے عشق ہو یا تکرار، ہم دل کے حوالے سے اردو کے ان محاورے کو استعمال کر کے اپنی بات کو کہہ جاتے ہیں۔

لیکن آج ہم ایک ایسے دل کی کہانی آپ کو بتائیں گے جو بیمار ہوگیا تھا اور جس کے بدلے میں کسی اور کا دل لگا کر اس انسان کو ایک نئی زندگی ملی۔ برطانیہ کے ٹیڈ وارنر نے اپنی نوے سالگرہ مناتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباًہر روز اس ڈونر خاندان کے بارے میں سوچتے ہیں جس کی وجہ ابھی تک وہ زندہ ہیں۔ ٹیڈ وارنرکا دل ٹرانسپلانٹ ہوا تھا۔ ٹیڈ وارنر نے اگست 1990میں کیمبرج کے رائل پیپ ورتھ ہسپتال میں سرجری کی تھی اور اس وقت ڈاکٹروں نے انہیں صرف آٹھ سال تک زندہ رہنے کی توقع کی تھی۔

لیسٹر شائر سے تعلق رکھنے والے ٹیڈ وارنر جون میں 90 نوے سال کے ہونے کے بعد اتوار کو تاخیر سے اپنا سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سب میرے ڈونر کی وجہ سے ممکن ہے‘۔ٹیڈ وارنر مزید کہتے ہیں کہ ’میں نے کئی سال قبل ان کے خاندان کو ایک خط لکھا تھا اور ان سے مختصر سا رابطہ بھی ہوا تھا۔ لیکن پھر وہ لوگ کسی دوسری جگہ منتقل ہوگئے اور میرا ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ لیکن یہ ٹھیک ہے کیونکہ ان کے لئے مشکل تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ ان پر کیا گزر رہی ہوگی‘۔ ٹیڈ وارنر کہتے ہیں کہ ’میں ہر دن سوچتا ہوں۔ آپ کبھی بھی اسے الفاظ میں نہیں کہہ سکتے کہ وہ اور ان کا خاندان کسی کو اپنا دل عطیہ کر نے کے لئے کتنا مہربان، فیاض اور بے لوث ہے‘۔

پیس میکر کا استعمال کرتے ہوئے ٹیڈ وارنر کو لیسٹر کے گلین فیلڈ ہسپتال کے ماہر امراض قلب نے بتایا کہ جنوری1990میں ایک ٹیسٹ کے بعد انہیں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے۔ تاہم مسٹڑ وارنر کو ڈونر کے لئے اگست تک انتظار کرنا پڑا تھااس اطلاع کے ساتھ کہ ان کی زندگی مزید تین ہفتے کی ہے۔

رائل پیپ ورتھ ہسپتال جس نے 1979میں برطانیہ کا پہلا کامیاب ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیا تھا اس نے تصدیق کی کہ مسٹڑ وارنر کے آپریشن کے وقت متوقع بقا کی شرح آٹھ سال تھی۔یعنی ٹرانسپلانٹ دل آٹھ سال بعد ناکارہ ہوجائے گا۔آج اکیس سال بعد مسٹر وارنر برطانیہ میں سب سے عمر رسیدہ شخص ہیں جو اس وقت ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے ساتھ زندہ ہیں۔

مسٹر وارنر نے برطانیہ کے این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس) کی دیکھ بھال کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ’میں سبھوں کا شکر گزار ہوں اور ان برسوں میں جس طرح میں نے زندگی گزاری ہے اور آج بھی ایک فعال طرز زندگی سے لطف اندوز ہورہا ہوں‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں اپنی مرحوم بیوی، بیٹوں اور دوستوں کے باقابل یقین تعاون کے بغیر زندگی گزار نہیں سکتا تھا جو میرے اس سفر میں میرے ساتھ ساتھ رہے‘۔ مسٹر وارنرنے اب تک گولف کھیلنا جاری رکھا ہے اور ہفتے میں دوبار مٹی کے کبوتر کی شوٹنگ کرتے ہیں۔ وہ سال میں دو بار چیک اپ کے لیے رائل پیپ ہسپتال جاتے ہیں۔ ہسپتال کے ڈاکٹر جین پرمیشور جو مسٹڑ وارنر کی سالگرہ کی تقریب میں موجود ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’مسٹر وارنر ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے ایک بہترین اشتہار ہیں کہ دل کیسے ٹرانسپلانٹ کے بعد بھی عمدہ طور پر کام کر سکتی ہے۔مسٹر وارنر ٹرانسپلانٹ کمیونٹی کے لئے ایک عمدہ مثال ہے۔

چالیس سال قبل برطانیہ کا پہلا کامیاب ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیمبرج کے پیپ ورتھ ہسپتال میں کیا گیا تھا۔دل اورپھیپھڑوں کی پہلی مشین دل کی سرجری کے لیے استعمال ہوئی جسے(cardiopulmonary bypass) کارڈیو پلموناری بائی پاس بھی کہا جاتا ہے۔یہ ایک ایسی مشین ہے جو دل اور پھیپھڑوں کے سرجری میں کام آتی ہے اور جس نے اوپن ہارٹ اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجری کو ممکن بنایا ہے۔

یوں توگردے امریکہ کے بوسٹن میں کامیابی سے ٹرانسپلانٹ ہونے والا پہلا بڑا عضو تھا جو ایک جڑواں بچوں کے درمیان تھا۔ اس کے بعد ٹرانسپلانٹ دن بدن ترقی کرتی گئی اور جس کے بعد جسم کے دوسرے اعضاء کی ٹرانسپلانٹ کی راہ ہموار ہونے لگی۔برطانیہ میں پہلا انسانی دل کا ٹرانسپلانٹ 3مئی 1968کو لندن کے نیشنل ہارٹ ہسپتال میں کیا گیا تھا۔ یہ دنیا کا دسویں دل کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ تھا۔ لیکن برطانیہ کا یہ پہلا مریض، فریڈ ویسٹ صرف 45دن تک زندہ رہا۔

مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ چند اہم چیزیں دل کی دھڑکن رواں رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہیں۔جیسے کہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند دل کو تحفظ فراہم کرتی ہے، کسی بھی عمر میں جسمانی وزن کم کرنا آپ کے دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے، ہنسنا انسانی قلب کے لئے فائدہ مند ہے،اسپرین کی گولی خون کی رکاوٹ کو دور کرتی ہے، خراٹے دل کے مسائل کا سبب بن سکتے ہے یا ان میں اضافہ کر سکتے ہیں،دل کا ٹوٹنا یا غمزدہ ہونا، نمک کاکم استعمال کرنا، پر امید شخصیت ہونا،زیادہ دیر بیٹھے رہنا، شریک حیات سے قربت اور اس کی نگہداشت جو بلڈ پریشر، تناؤ اور خوف جیسے امراض سے بچاتی ہے اورجو کہ دل کی صحت کے لیے فائندہ مند ثابت ہوتا ہے۔

میں ٹید وارنر کو ان کی نوے سالگرہ کی دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ دنیا میں جتنے مریض بیمار ہیں انہیں اللہ شفاء دے اور ہم سب کو اللہ تمام بیماریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Exit mobile version