دمہ: مردوں کے مقابلے میں خواتین میں دورے پڑنے کے امکانات زیادہ ہیں

ایک برطانوی خیراتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دمے میں مبتلا خواتین جو بلوغت، حاملہ یا ماہواری کے مراحل میں ہیں ان میں دمے کے شدید دورے پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں دمے اور پھیپھڑوں کے مرکز کی طرف سے کی گئی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کے ہارمونز دمے کے دورے کو متحرک کر سکتے ہیں۔

ادارے نے اس حوالے سے مزید تحقیق کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مختلف اصناف میں اس کے رویے میں فرق جانچا جا سکے۔

30 سالہ بوبی ہڈکنسن کو نوعمری میں دمے کا باقاعدہ دورہ پڑا تھا اور انھیں چار بار وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔

ہڈکنسن کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگا جیسے میں ایک نلکی سے سانس لے رہی ہوں‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ برسوں سے جاری جنگ ہے، جب سے میں بالغ ہوئی ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے مجھے ایک روایتی علاج دیا گیا جس میں انہیلر، سٹیرائڈز اور اینٹی بائیوٹکس شامل تھے۔ میں نے تقریباً ہر چیز آزمائی ہے لیکن کچھ بھی دوروں پر قابو نہ پا سکا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے دنوں اور ہفتوں تک مسلسل سانس لینے میں تکلیف رہی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں ایک نلکی سے سانس لے رہی ہوں۔‘

ہڈکنسن یاد کرتی ہیں کہ جب وہ 2013 میں انتہائی نگہداشت میں تھیں، تو انھوں نے اپنی والدہ سے ’بالوں کو صاف کرنے والے خشک شیمپو اور تازہ پھیپھڑوں‘ کی فرمائش کی تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے انھیں ایک ہفتے تک کوما میں رکھا۔

30 سالہ ٹی وی پریزنٹر کا دمہ اب قابو میں ہے۔ ہڈکنسن کو ایک ایسے مرکز میں ماہانہ انجکشن لگایا جاتا ہے جو شدید دمہ کے علاج میں مہارت رکھتا ہے، جس سے وہ کہتی ہیں کہ ان کی زندگی بدل گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دوا ملنے کے آٹھ ہفتوں کے اندر، میری پوری دنیا بدل گئی ہے۔ اب میں دو انہیلر کے علاوہ کوئی دوسری دوا نہیں لے رہی۔‘

ہڈکنسن کو معلوم ہوا کہ ان کا دمہ ماہواری کے دوران بدتر ہو جاتا ہے، لیکن وہ انہیلر کے استعمال میں اضافہ کرتی ہیں تاکہ انھیں اس مدت سے گزرنے میں مدد ملے۔

پوپی ہیڈکنسن
،تصویر کا کیپشنسٹیرائیڈ کے باقاعدگی سے استعمال کی وجہ سے، پوپی ہیڈکنسن کو 'مون فیس' کا سامنا کرنا پڑا، یہ ایک عام علامت ہے جس میں چہرہ سوج جاتا ہے

’دمہ کے مریض صرف ایک نمبر نہیں ہیں‘

ہڈکنسن امید کرتی ہیں کہ خواتین ہارمونل تبدیلیوں اور دمے کے درمیان تعلق کے بارے میں مزید آگاہ ہوں گی۔ انھوں نے مزید کہا ’مختلف علاج اور دوائیں ہونی چاہیں جو مختلف افراد کے لیے بہتر کام کرتی ہوں، اور ہر ایک کے علاج کے لیے ایک طریقہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دمے کے مریض کافی زیادہ ہیں، ہر کوئی بالکل مختلف ہے۔‘

خواتین میں دمے سے ہونے والی اموات زیادہ ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً 13 کروڑ 60 لاکھ خواتین دمے میں مبتلا ہیں جن میں سے 30 لاکھ برطانیہ میں ہیں۔

رپورٹ میں دفتر برائے قومی شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ پانچ سالوں میں 5,100 سے زیادہ خواتین دمے کے دورے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، جبکہ گذشتہ پانچ سالوں میں مردوں کی تعداد 2,300 سے بھی کم تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انگلینڈ میں دمے کے لیے ہسپتال میں داخلے کی شرح لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے ان کی ابتدائی نوعمری میں یکساں ہے، لیکن 20 سے 50 سال تک کی عمر کی خواتین کے لیے یہ شرح دگنی سے بھی زیادہ ہے۔

موٹاپا

برطانیہ میں دمہ اور پھیپھڑوں کی فاؤنڈیشن میں ریسرچ اینڈ انوویشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سمانتھا واکر کہتی ہیں، ’اکثر دمے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘

وہ امید کرتی ہیں کہ تازہ ترین تحقیق مردوں اور عورتوں میں دمے کے مختلف محرکات کی طرف توجہ مبذول کرے گی۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے محقق مم مکھرجی نے جنسی ہارمونز اور دمے کے درمیان تعلق پر تحقیق کی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس بارے میں کافی تحقیق نہیں ہے کہ آخر کیوں خواتین کو دمے کے نتیجے میں ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے اور ان کی موت کا زیادہ امکان ہوتا ہے اور کون سے نئے اور موجودہ علاج سے خواتین کی مدد ہو سکتی ہے۔‘

دمہ کیا ہے؟

دمہ پھیپھڑوں کی ایک عام حالت ہے جو بعض اوقات سانس لینے میں دشواری کا باعث بنتی ہے اور ہر عمر کو متاثر کر سکتی ہے۔

اہم علامات یہ ہیں:

  • سانس لینے کے دوران سیٹی جیسی آواز
  • سانس اکھڑنا
  • سینے کی جکڑن
  • کھانسی