دنیا بھر سے لوگ سرجری کے لیے انڈیا کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟

ہوان فرانسسکو پالاڈائنز کو جب چیزیں دو دو نظر آنے لگیں تو وہ سمجھ گئے کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔

ڈاکٹروں نے انھیں ان علامات کے بارے میں بتایا جن میں چیزوں کا دو دو نظر آنا بھی شامل تھا۔ پہلی بار انھیں اس کا احساس دس سال قبل ہوا تھا جس کی وجہ ان کے دماغ میں موجود ٹیومر یا رسولی تھی۔

چلی کے سینٹیاگو سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ ہوان پیشے کے لحاظ سے ایک صنعتی انجینئر ہیں۔

ہوان کہتے ہیں: 'یہ میری زندگی کا بہت مشکل مرحلہ تھا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ بہت سے دوست اور کنبے کے افراد میرے ساتھ کھڑے رہے۔ یہ لوگ ہی میری طاقت ہیں۔'

سرجنوں نے انھیں بتایا کہ ان کا ٹیومر سائز میں غیر معمولی ہے اور اسے مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہو گا۔ لیکن ریڈی ایشن تھراپی سے کیے جانے والے علاج کے بعد انھیں دو دو نظر آنے والی علامات ختم ہو گئیں۔

اگلے چار برس تک کیے گئے سکینوں اور جانچوں سے معلوم ہوا کہ ٹیومر کا سائز نہیں بڑھ رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں: 'سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا اور میں اس کے بارے میں بھولنے بھی لگا تھا۔'

لیکن پھر سنہ 2019 میں چیزوں کے دو نظر آنے والی علامت دوبارہ لوٹ آئی۔ 'مجھے اس کی وجہ معلوم تھی اور میں ریڈی ایشن تھراپی کا متبادل تلاش کر نے لگا۔'

پروٹون بیم تھراپی

پروٹون بیم تھراپی

حالیہ برسوں میں کینسر کا ایک نیا علاج سامنے آیا ہے جسے پروٹون بیم تھراپی کہا جاتا ہے۔ یہ تابکاری سے علاج کا ایک طریقہ ہے جس میں کبھی بھی مہلک روپ اختیار کرنے والے ٹیومر سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔

اس تھراپی یا طریقہ علاج میں ہائی پاور ایکس رے کی بجائے ہائی انرجی پروٹون استعمال کیے جاتے ہیں جو خود ایٹم کے چھوٹے حصے ہوتے ہیں۔

پروٹون بیم آسانی سے جسم سے گزر کر ٹیومر تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر یہ ٹیومر کو تباہ کرنے میں بہت موثر ہیں۔

یہی نہیں، انھیں بہت درستگی کے ساتھ ٹیومر تک پہنچایا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ طریقۂ علاج جسم کے حساس حصوں جیسے دماغ، ریڑھ کی ہڈی یا گردن میں موجود رسولیوں کو ختم کرنے میں بہت موثر ہے۔

کافی چھان بین اور تگ و دو کے بعد ہوان نے فیصلہ کیا کہ یہ ان کے لیے صحیح علاج ہو گا۔ لیکن پروٹون بیم تھراپی چلی میں دستیاب نہیں تھی۔ نہ ہی یہ علاج کسی پڑوسی ملک میں دستیاب تھا۔

ہوان کہتے ہیں کہ 'میں نے دنیا بھر میں مختلف ممالک کے ہسپتالوں کے بارے میں کافی تحقیق کی جو پروٹون بیم تھراپی کی پیشکش کرتے ہیں۔'

'بہت سے آپشن بہت مہنگے تھے یا ان کے لیے موزوں نہیں تھے۔ بالآخر انھیں انڈیا کے شہر چینئی کا اپولو ہسپتال ملا۔'

انھوں نے بتایا کہ 'یہاں جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے، اور مغربی ممالک کے مقابلے یہاں پر اخراجات بھی بہت کم ہیں۔'

ڈاکٹر دنیش مادھون
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر دنیش مادھون

وہ نومبر 2021 میں علاج کے لیے انڈیا آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ہسپتال نے بھی ان کے قیام اور آمدورفت کے انتظامات میں مدد کی۔

ہوان کہتے ہیں: 'یہ تمام چیزیں بہت اہمیت رکھتی ہیں، میں ہزاروں میل دور تھا، یہ میرے لیے بالکل نیا ملک تھا اور میرے ذہن میں کئی طرح کے خدشات بھی تھے۔ زبان اور ثقافت بھی مختلف تھی۔'

ہوان ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہیں جو ہر سال علاج کے لیے انڈیا آتے ہیں۔

سنہ 2016 اور 2019 کے درمیان بیرون ملک سے علاج کے لیے انڈیا آنے والے مریضوں کی تعداد چار لاکھ تیس ہزار سے سے بڑھ کر سات لاکھ ہوگئی ہے۔

سنہ 2019 میں انڈیا کا طبی سیاحت کا شعبہ نو ارب ڈالر کا کاروبار کر رہا تھا۔

لیکن کووڈ کی عالمی وبا کے دوران عائد سفری پابندیوں نے اس شعبے کو تقریبا ٹھپ کر دیا۔

انڈیا کی وزارت سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2021 میں صرف ایک لاکھ تیراسی ہزار غیر ملکی علاج کے لیے انڈیا آئے جو کہ سنہ 2019 کے مقابلے میں 73 فیصد کم تھے۔

اس دوران دنیا کے دیگر ممالک کی تصویر بھی کم و بیش ایسی ہی رہی۔ یہی صورتحال تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سنگاپور جیسے دیگر ممالک میں بھی تھی جو میڈیکل ٹورزم کے لیے مشہور ہیں۔

انٹرنیشنل اپولو ہاسپیٹل انٹرپرائزز گروپ میں آنکولوجی (کینسر کے علاج کے) شعبے کے صدر دنیش مادھون کہتے ہیں کہ 'جنوبی ایشیائی ممالک میں انڈیا میں ڈاکٹروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔'

وہ کہتے ہیں: 'ہماری مالامال ثقافت اور مہمان نوازی ہمیں اس خطے میں ایک خاص مقام عطا کرتی ہے، اس کے ساتھ ہمارے پاس جدید اور روایتی دونوں قسم کے طبی طریقۂ علاج ہیں۔'

داکٹر ایس بھاٹیہ
،تصویر کا کیپشنداکٹر ایس بھاٹیہ

ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے لوگ نہ صرف کینسر جیسی مہلک بیماری کے علاج کے لیے انڈیا آرہے ہیں بلکہ جسم سے چربی کم کرنے اور گنجے پن سے چھٹکارے کے لیے بال لگانے جیسی کاسمیٹک سرجری کے لیے بھی یہاں آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ممبئی کے امراضِ جلد کے ماہر ڈاکٹر ستیش بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس امریکہ، خلیجی ممالک اور یہاں تک کہ افریقہ سے بھی مریض آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ ان کا کاسمیٹک طریقہ علاج یورپ، مشرق وسطیٰ یا افریقہ کے مقابلے میں کم از کم 50 فیصد سستا ہے۔

بہر حال وبا کے دوران سفری پابندیوں کی وجہ سے ہر قسم کا سفر روک دیا گیا تھا، اس سے طبی سیاحت بھی متاثر ہوئی ہے۔

تاہم ڈاکٹر بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ کام ایک بار پھر ٹھیک ہو رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ مستقبل اور بھی بہتر ہو گا۔

تاہم بیرون ملک سے آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔

ڈاکٹر بھاٹیہ کہتے ہیں 'پورے انڈیا میں نئے جمالیاتی کلینک کا جال سا پھیل رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے غیر تربیت یافتہ لوگ بھی آسانی سے پیسہ کمانے کے لیے اس میدان میں آ رہے ہیں۔'

ان کا مشورہ ہے کہ کسی بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے پہلے ان کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کر لینی چاہیے۔

چینئی میں اپولو کینسر سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر شنکر وانگی پورم کا کہنا ہے کہ مریضوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آیا ہسپتال میں بعد از علاج دیکھ بھال کا مکمل نظام موجود بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات کوالیفائڈ ڈاکٹروں کو جانچ کی مشینوں کی کمی کی وجہ سے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ علاج کے اثرات کیا ہوئے کہیں زہر تو نہیں پھیلا۔

اس کے ساتھ ہی حکومت یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس وقت میڈیکل ٹورازم کے شعبے میں سخت ضابطے کی ضرورت ہے۔

انڈیا کی وزارت سیاحت میں ایڈیشنل سیکریٹری راکیش کمار ورما کہتے ہیں کہ 'انڈیا میں میڈیکل ٹورزم کے شعبے میں کوئی موثر ضابطہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ غیر منظم ہے اور اس کی نگرانی نہیں کی جاتی ہے۔'

علاج

ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز علاج سے قبل کئی سال کی ٹریننگ لیتے ہیں جس سے تصدیق ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں کے بارے میں درست نہیں ہے جو ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان ہوتے ہیں۔

مسٹر ورما کا کہنا ہے کہ درمیان میں موجود ان لوگوں کو ٹریول ایجنٹ کہا جا سکتا ہے، ان کا کردار اہم ہے لیکن وہ منظم شعبے میں نہیں آتے ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ان ایجنٹوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کا پتہ لگانے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں علاج معالجے کا خرچہ بھی ایک جیسا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایجنٹ بھولے بھالے مریضوں سے اضافی رقم بھی وصول کرتے ہیں۔

میڈیکل ٹورزم کے شعبے سے وابستہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر اس پر نظر رکھنے کا کوئی نظام بنایا جائے تو حالات بہتر ہوں گے۔

میڈیکل ٹریول ایجنسی میڈ سرج MedSurge کی ڈائریکٹر گریما میگگو کہتی ہیں: 'حکومت کی جانب سے کچھ رہنما خطوط طے کرنے کی اشد ضرورت ہے، جن پر ہسپتالوں، خدمات فراہم کرنے والوں اور دیگر فریقوں کو عمل کرنا چاہیے تاکہ طبی سیاحت کو پیشہ ورانہ بنایا جا سکے۔'

ہسپتالوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مریض انڈیا آمد پر اپنا ارادہ بدل لیتے ہیں اور ایک ہسپتال میں سب کچھ طے ہونے کے بعد دوسرے ہسپتال چلے جاتے ہیں جہاں علاج سستا ہو رہا ہوتا ہے۔ اس سے ہسپتالوں کا وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔

ماگو کا کہنا ہے کہ اگر حکومت علاج کے لیے معیاری قیمت مقرر کر دے تو یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے اور ملک میں آنے سے قبل مریض اس ہسپتال میں کچھ رقم ادا کر دیں۔

بہر حال ہوان جو اس وقت سینٹیاگو میں رہ رہے ہیں، اپنے علاج سے خوش ہیں۔ چینئی سے ڈاکٹر ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'میں اس وقت اچھا ہوں، اور کسی حد تک پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں۔'