دنیا بھر میں اومیکرون کے وار جاری: بھارت میں 90 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کے باعث دنیا بھر میں انفیکشنز کی تعداد یکدم عروج پر پہنچ گئی ہے جس کے باعث ہزاروں پروازوں کی منسوخی اور پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں اومیکرون ویرینٹ کے باعث صرف 2 روز میں مصدقہ کیسز کی تعداد 3 گنا بڑھ گئی جس کے پیشِ نظر مہاراشٹرا میں آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ریلیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

متعدد شہروں میں کورونا کے سلسلے میں کرفیو کے نفاذ اور ماہرین کی جانب سے انفیکشن کے پھیلاؤ کے انتباہات کی وجہ سے سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم روک دی ہے۔

اس کے علاوہ متعدد ریاستوں میں تعلیمی ادارے بند، دفاتر میں عملے کی حاضری، ٹرانسپورٹ میں مسافروں اور بند احاطے میں تقریبات میں شرکت کرنے والے افرادکی تعداد محدود کردی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس بھارت میں ڈیلٹا ویرینٹ کے بدترین پھیلاؤ کے سبب 2 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے، ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہوگئی تھی اور شمشان گھاٹوں کے دلسوز مناظر سامنے آئے تھے۔

تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کورونا کیسز میں ایک دم بڑا اضافہ دیکھا گیا اور 90 ہزار 928 کووڈ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ مزید 325 افراد انتقال کر گئے۔

دوسری جانب امریکا میں انفیکشن کی صورتحال بے قابو ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں دو روز قبل یومیہ کیسز کی تعداد ریکارڈ 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔

ایسے میں ماہرین صحت نے امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کو 12 سے 15 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے بھی فائزر، بائیو این ٹیک کے بوسٹر شاٹس کی تجویز دی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا میں انفیکشن کی شرح میں اس وقت تیزی آئی جب تعطیلات کے بعد ورکرز اور اسکولوں کے طالبعلم واپس آئے جس سے نظامِ صحت پر گنجائش سے زیادہ دباؤ پڑنے، کاروبار اور تعلیمی اداروں کی بندش کا امکان ہے۔

فاریسٹ اسکول آف میڈیسن کا کہنا تھا کہ ’کووڈ ہمارے اور بچوں کے ہسپتالوں کو بھر رہا ہے، (بوسٹر شاٹ) وہ چیز ہے جسے ہمیں استعمال کرنے اور بچوں کو اس وبا سے گزرنے میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے۔

ادھر آسٹریلیا میں بھی یومیہ کورونا کیسز نئی بلندی پر پہنچ گئے جس سے ہسپتالوں پر دباؤ، آئسولیشن کی وجہ سے افرادی قوت کی کمی کے سبب کاروبار اور سپلائی چینز معطل ہورہی ہیں۔

جمعرات کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں 72 ہزار 392 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ایک روز قبل سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 64 ہزار 774 تھی۔

ایسے میں وزیراعظم اسکاٹ موریسن کو اینٹیجن ٹیسٹس کے اسٹاک کی قلت اور ٹیسٹنگ مراکز پر طویل انتظار کے باعث تنقید کا سامنا ہے۔

ادھر وبا کی پہلے لہر کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اٹلی 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے کورنا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانا لازمی قرار دے دیا ہے تا کہ اموات کی شرح کم رہے اور نظام صحت پر دباؤ نہ پڑے۔

مذکورہ اقدام فوری طور پر نافذ کردیا گیا ہے جو 15 جنوری تک جاری رہے گا۔

فروری 2020 میں وبا کے آغاز سے اب تک اٹلی میں کورونا وائرس سے ایک لاکھ 38 ہزار اموات ہوچکی ہیں جو یورپ میں برطانیہ کے بعد اموات کی دوسری بڑی تعداد ہے۔