دنیا کی سب سے بڑی ڈارک نیٹ سائٹ کو کیسے بند کیا گیا؟

سبیشیئن زویئبل نے ہائڈرا، ڈارک نیٹ پر دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ پلیس، کو بند کیے جانے والے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’اس وقت حیرت سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔‘

یہ ویب سائٹ سائبر کرائم یا انٹرنیٹ پر کیے جانے والے جرائم کا گڑھ تھی جس پر چھ برس سے زیادہ تک منشیات اور غیر قانونی اشیا کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ مگر اس کے متعلق مخبری ہونے کے بعد جرمن پولیس نے اس کے سرورز پر چھاپہ مارا اور تقریباً 25 ملین ڈالر کی مالیت کے بِٹ کوائن قبضے میں لے لیے۔

زویئبل کہتے ہیں کہ ’ہم اس پر کئی ماہ سے کام کر رہے تھے اور جب آخر کار ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے واقعی کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ اس مارکیٹ پلیس پر 17 ملین کسٹمر اور 19 ہزار سیلر اکاونٹ رجسٹرڈ تھے جن پر اب پولیس کی جانب سے قبضے میں لیے جانے کے نوٹس چسپاں ہیں۔

Hydra market
،تصویر کا کیپشنروسی زبان میں تحریر ہائڈرا نے ایک ہی دن میں کئی ملکوں میں منشیات فراہم کی

ہائڈرا (ڈارک نیٹ سائٹ) کسٹمر کو اسی روز سامان پہنچانے میں مہارت رکھتی تھی، اور اس کے لیے اس کے کارندے عوامی مقامات پر پہلے سے پیکٹ چھپا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اپنے گاہکوں کو آگاہ کرتے تھے۔

پچھلے چھ ماہ کے اندر ڈارک نیٹ پر کئی بڑی مارکیٹوں کو بند کر دیا گیا تھا مگر ہائڈرا ویب سائٹ پولیس کے قابو میں نہیں آ رہی تھی۔

یہ ویب سائٹ 2015 میں شروع کی گئی تھی جس پر منشیات، ہیک شدہ مواد، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی ڈیجیٹل سروسز جیساکہ بٹ کوائن مکسنگ دستیاب تھی۔ کوائن مکسنگ میں سائبر مجرم چوری کیے ہوئے ڈیجیٹل کوائن کو جائز کوائن میں بدل دیتے ہیں۔

یہ سائٹ روسی زبان میں لکھی ہوئی تھی اور اس کے سیلرز (فروخت کنندگان) روس، یوکرین، بیلاروس، قازقستان اور قریبی ممالک میں موجود تھے۔

سبیشیئن زویئبل کا کہنا ہے کہ اس ویب سائٹ کو بند کرنے کا آپریشن اس خفیہ اطلاع کے بعد شروع کیا گیا جس کے مطابق ویب سائٹ کے انفراسٹرکچر کو جرمنی میں لگایا جانا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کچھ اشارے امریکی حکام سے بھی ملے جو ڈارک نیٹ کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ تو ہم نے اس کی تفتیش پچھلے سال جولائی یا اگست میں شروع کر دی تھی۔‘

یہ جاننے میں کئی مہینے لگ گئے کہ جرمنی میں کونسی فرم ہائڈرا کو ہوسٹ کر رہی ہے۔ بالآخر اس کا پتا چل گیا جو بظاہر ایک ’بلٹ پروف ہوسٹنگ‘ کمپنی تھی۔

بلٹ پروف ہوسٹنگ کمپنی وہ ہوتی ہے جو بغیر آڈٹ کیے کسی ویب سائٹ، مواد اور جرائم پیشہ ویب سائٹ کو ہوسٹ کرتی ہے اور پولیس کو معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتی ہے۔

Hydra seizure notice
،تصویر کا کیپشنڈارک نیٹ سائٹ پر اکاؤنٹ رکھنے والوں کو اب یہ نوٹس دکھتا ہے جس میں لکھا ہے کہ سائٹ کو پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے

زویئبل نے بتایا کہ ان کے تفتیش کار دستیاب شہادتوں کو ایک جج کے پاس لے گئے تاکہ سرور کمپنی کے پاس جانے اور اسے بند کرنے کے لیے وارنٹ حاصل کیا جا سکے۔

اس کمپنی کو پولیس کا کہنا ماننے پر مجبور کیا گیا ورنہ اس کے عملے کو بھی گرفتار کر لیا جاتا۔ ویب سائٹ پر جانے والوں کو اب وہاں ایک پولیس نوٹس ملتا ہے جس پر لکھا ہے کہ ’یہ پلیٹ فارم اور اس پر موجود مجرمانہ مواد قبضے میں لیا جا چکا ہے۔‘

اگرچہ جرمن حکام اپنی کامیابی پر خوشی منا رہے ہیں، مگر ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہائڈرا چلانے والے گروہ کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا انھیں خدشہ ہے کہ ایسی دوسری ویب سائٹس سامنے آ سکتی ہیں۔

زویئبل کاکہنا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ وہ اپنے کاروبار چلانے کا دوسرا راستہ نکال لیں گے۔ غالباً وہ ایک نیا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کریں گے، اور اس سلسلے میں ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ ہم مجرموں کو نہیں جانتے اس لیے اب یہ جاننا ہی ہمارا اگلا ہدف ہو گا۔‘

یہ خبر ڈارک نیٹ کے لیے ایک ایسے برے وقت میں آئی ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں اور بھی کئی اہم ویب سائٹیں یا تو رضاکارانہ طور پر یا پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں بند ہو چکی ہیں۔

زیادہ تر ایسی ویب سائٹوں نے اپنے آپریشن کو بتدریج کم کیا اور پھر خوب سارا پیسہ لے کر غائب ہو گئیں۔

جنوری میں چوری شدہ کریڈٹ معلومات بیچنے والی ڈارک نیٹ ویب سائٹ، یونی سی سی، کے ایڈمنسٹریٹرز نے صحت کی خرابی کو وجہ بتا کر کام بند کر دیا تھا۔

رضاکارانہ طور پر بند ہونے والی ویب سائٹوں میں گزشتہ برس اکتوبر میں وائٹ ہاؤس مارکیٹ، نومبر میں کینازون اور دسمبر ٹوریز شامل ہیں۔

اس برس کے اوائل میں کی گئی بی بی سی کی تحقیق کے مطابق ڈارک نیٹ سائٹس کے بند کرنے کا سب سے عام طریقہ ’ایگزٹ سکیم‘ ہے جس میں ایڈمنسٹریٹرز رضاکارانہ طور پر سائٹس کو بند کر دیتے ہیں مگر اس دوران اپنے کسٹمرز کا تمام پیسہ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔