دورہ جنوبی افریقہ، زمبابوے کیلئے اسکواڈز کا اعلان، شرجیل خان کی 4 سال بعد واپسی

قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے 20 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا، جس میں شرجیل خان کی واپسی ہوئی ہے اور مزید نئے کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا۔

چیف سلیکٹر محمد وسیم نے لاہور میں قومی اسکواڈ کا اعلان کیا اور نئے شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو مبارک باد دی۔

قومی ٹیم دونوں دوروں میں مجموعی طور پر 7 ٹی ٹوئنٹی، 3 ون ڈے اور 2 ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔

دورے کے لیے اعلان کردہ قومی ٹی ٹونٹی اور ون ڈے اسکواڈز میں 18، 18 کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں، جن میں 14 کھلاڑی ایسے ہیں جو دونوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں 20 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا اور ان میں سے 8 کرکٹرز ایسے ہیں جو تینوں فارمیٹ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

دورہ جنوبی افریقہ میں شامل 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہیں، 13 مختلف ٹیموں کے درمیان جاری اس ایونٹ کی 7 بہترین ٹیمیں آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں براہ راست پہنچ جائیں گی۔

جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ایک روزہ انٹرنیشنل میچز اور 4 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کے لیے قومی اسکواڈ 26 مارچ کو جوہانسبرگ روانہ ہوگا۔

قومی اسکواڈ وہاں سے 17 اپریل کو 3 ٹی ٹوئنٹی میچوں اور 2 ٹیسٹ میچوں کے لیے بلاوایو روانہ ہوگا، جہاں سے قومی اسکواڈ 12 مئی کو وطن واپس پہنچے گا۔

جوہانسبرگ روانگی سے قبل قومی اسکواڈ 19 مارچ سے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ کا آغاز کرے گا اور کھلاڑیوں کی پہلی کووڈ-19 ٹیسٹنگ 16 مارچ کو متعلقہ شہروں میں ہوگی، پھر 18 مارچ کو لاہور آمد پر ان کی دوسری کووڈ-19 ٹیسٹنگ ہوگی۔

بعد ازاں قومی اسکواڈ کی تیسری اور چوتھی ٹیسٹنگ 21 اور 24 مارچ کو لاہور میں ہی ہوگی جبکہ اسکواڈ کا یہ تربیتی کیمپ بھی بائیو سیکیور ماحول میں لگایا جائے گا۔

محدود طرز کی کرکٹ میں پاکستان کے نائب کپتان شاداب خان اور مڈل آرڈر بلے باز محمد حفیظ کی قومی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے اور دونوں کھلاڑی جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

قومی اسکواڈ میں 31 سالہ شرجیل خان بھی چار سال بعد جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

شرجیل خان نے ڈومیسٹک سیزن میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں 233 رنز بنائے او پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 کے التوا سے قبل کھیلے گئے 14 میچوں میں 200 رنز بنائے اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلےبازوں میں تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

سلیکشن کمیٹی نے صوابی سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ فاسٹ باؤلر ارشد اقبال اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ محمد وسیم جونیئر کو بھی پہلی مرتبہ قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔

ارشد اقبال نے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 میں ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 10 اور ون ڈے میچوں میں 7 وکٹیں حاصل کیں۔

محمد وسیم جونیئر نے ون ڈے میچوں میں 7 جبکہ پی ایس ایل 6 میں 4 وکٹیں اپنے نام کیں اور اچھی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔

قومی سلیکٹرز نے ٹیسٹ اسکواڈ میں بھی ایک نیا چہرہ شامل کیا ہے جہاں لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ فاسٹ باؤلر شاہنواز دھانی نے اپنے ڈیبیو سیزن میں 26 وکٹیں حاصل کرکے سلیکٹرز کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی ہے اور قومی اسکواڈ کا حصہ بنگئے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے اسکواڈ میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں جہاں 20رکنی اسکواڈ میں کامران غلام اور یاسر شاہ کی جگہ شاہنواز دھانی اور زاہد محمود کو شامل کرلیا گیا ہے۔

یاسر شاہ بائیں گھٹنے کی انجری کے باعث زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچز کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم کا کہنا تھا کہ ارشد اقبال، محمد وسیم جونیئر اور شاہنواز دھانی کو قومی اسکواڈ میں شمولیت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یہ ان کھلاڑیوں کی محنت کا صلہ ہے۔

محمد وسیم نے کہا کہ شرجیل خان کی بھی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے ، اگرچہ وہ ابھی وہاں نہیں پہنچے جہاں ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں تاہم وہ اس سے زیادہ دور بھی نہیں ہیں اور انہیں اپنی فٹنس میں بہتری کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملنا چاہیے۔   چیف سلیکٹر کا کہنا ہےکہ لیگ اسپنر یاسر شاہ بائیں گھٹنے کی انجری کا شکار ہیں، انہیں مکمل صحت یابی کے لیے ابھی مزید 6 ہفتے درکار ہیں، ان کی عدم دستیابی نے زاہد محمود کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے کھول دئیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عماد وسیم کو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ ہم محمد نواز کو ابھی مزید موقع دینا چاہتے ہیں۔

چیف سلیکٹر کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے عامر یامین، عماد بٹ اورکامران غلام قومی اسکواڈز میں جگہ نہیں بناسکے، عامر یامین اور عماد بٹ نے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں محمد حفیظ اور شاداب خان کی واپسی کے لیے راہ ہموار کی ہے۔

جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے دورے کے لیے اسکواڈز:

ٹی ٹوئنٹی: بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان، ارشد اقبال، آصف علی، دانش عزیز، فہیم اشرف، حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شرجیل خان اور عثمان قادر۔

ون ڈے: بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، عبداللہ شفیق، دانش عزیز، فہیم اشرف، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی، امام الحق، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، سرفراز، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی، عثمان قادر

ٹیسٹ: بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان (نائب کپتان)، عبداللہ شفیق، عابد علی، اظہر علی، فہیم اشرف، فواد عالم، حارث رؤف، حسن علی، عمران بٹ، محمد نواز، نعمان علی، ساجد خان، سلمان علی آغا، سرفراز احمد، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی، شاہنواز دھانی، تابش خان، زاہد محمود

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ شیڈول:

2 اپریل : پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ، سپراسپورٹس پارک ، پریٹوریا

4 اپریل: دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ، وانڈررز اسٹیڈیم ، جوہانسبرگ

7 اپریل : تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ، سپراسپورٹس پارک ، پریٹوریا

10 اپریل: پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، وانڈررز اسٹیڈیم ، جوہانسبرگ

12 اپریل:دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، وانڈررز اسٹیڈیم ، جوہانسبرگ

14 اپریل : تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، سپراسپورٹس پارک ، پریٹوریا

16 اپریل : چوتھا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، سپراسپورٹس پارک ، پریٹوریا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *