Dunya Pakistan

دوستی اور مذاق

اشفاق احمد اور قدرت اللہ شہاب کی بڑی گہری دوستی تھی۔اشفاق صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دوست شہاب صاحب کے ناخُن تراشا کرتے تھے ۔وہ یہ کام ایک عرصہ تک کرتے رہے ایک دن شہاب صاحب انہیں کہنے لگے کہ ہمارے ہاں المیہ ہے کہ یہاں لوگ برسوں کی دوستی لمحوں میں ختم کر لیتے ہیں اور کئی دفعہ دیکھا ہے کہ بہت پرانی دوستی بغیر کسی قابل ذکر وجہ کے بھی منٹوں میں ایسے ختم ہوتی ہے کہ پھر دوست ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔۔تو اگر کبھی ایسی نوبت ہمارے بیچ آئے تو صرف ایک بات کا خیال رکھنا کہ میرے ناخن پھر بھی تُم ہی تراشتے رہنا۔ کیونکہ تم اتنے عرصے سے یہ کام کر رہے ہو کہ اب خود میں یہ بالکل نہیں کر سکوں گا۔ شہاب صاحب اور اشفاق احمد کے بیچ میں تو یہ نوبت شاید کبھی نہیں آئی کہ دوستی میں ایسی دراڑیں پڑیں لیکن اپنے آس پاس ہم نے یہ ضرور دیکھا ہے کہ برسوں کے دوست یک دم یوں علیحدہ ہوتے ہیں کہ جیسے کبھی ملے ہی نہ تھے۔
دوستی کے یوں اختتام کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اس میں شاید ایک قابلِ ذکر وجہ بلا سوچے سمجھے کا وہ بے تُکا مذاق ہے جو دوست احباب ایک دوسرے کے خلاف محفلوں میں کرتے رہتے ہیں ۔۔جس طرح اُدھار اور لالچ کو تعلق کی قینچی کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح ایک حد سے بڑھا مذاق بھی کسی بھی نوعیت کے تعلق کو خراب کرتا ہے۔ہم نے یہ بات نہ صرف سُنی ہوئی ہے کہ فُلاں شخص جُملہ ضائع نہیں کرتا بندہ ضائع کردیتا ہے ، بلکہ اس کی عملی تعبیر ہوتے بھی کئی بار دیکھی ہے۔چنانچہ ہوتا یہ ہے کہ کئی دفعہ یہ ”ضائع شُدہ بندے“ اپنے دوستوں سے کنی کترانا شروع کر دیتے ہیں اور یوں دوستی ایک خاموش انجام کو پہنچ جاتی ہے۔
دوستی سرمائے کی مانند ہوتی ہے۔اچھی دوستی بنتے بنتے بنتی ہے۔ دوستی بھی ایک طرح سے آپ کی انویسٹمنٹ ہوتی ہے۔ سو! انویسٹمنٹ کو لمحوں میں اُجاڑ دینا عقلمندی نہیں ہے۔ سمجھدار لوگ یہ تعلق بنانے اور خاص طور پر اسے نبھانے میں ہمیشہ احتیاط اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہیں۔ دوستوں کے بیچ بے تُکے مذاق سے دوستی کمزور ہوتی ہے اور کبھی کبھا رختم بھی ہوجاتی ہے۔ مجھے اس بات کا اندازہ اور تلخ تجربہ کافی پہلے سے ہوگیا تھا۔ کالج لائف کے اوائل کی بات ہے ! میرا ایک دوست شیراز ہوا کرتا تھا۔شیراز میں کئی خوبیاں تھیں ۔ وہ بہت ہی شریف النفس، کم گو اور نسبتاًکم آمیز سا لڑکا تھا لیکن ان سے بھی بڑھ کر اُس کی کُشادہ دلی۔ مہمان نوازی او ر خاص طور پر ہمیشہ دوستوں کے کام آنے کی عادت مجھے بہت بھاتی تھی۔۔مجھے ہلکے پھُلکے مذاق کی عادت تھی۔ شیراز اس ٹائپ کا مذاق برداشت کرتا رہتا تھا۔ پھر انہی دنوں ایک اور لڑکے ٹیپو کے ساتھ ہماری دوستی ہوئی۔ٹیپو بلا کا جُگت باز اور جُملے باز تھا ۔۔وہ ہر وقت موقع محل دیکھے بغیر ہر کسی کو ہر قسم کا مذاق کرتا رہتا۔ ہمارے چند دوستوں کی محفلوں میں اکثر شیراز ہمارے مذاق کے نشانے پر ہوتا۔ قدرے مذاحیہ طبیعت کی بنا پر میں کبھی ہنسی اور کبھی قہقہوں سے ٹیپو کے مذاق میں میں اُس کا ساتھ دیتا۔ شیراز طبعاً اس ٹائپ کے تُندو تیز مذاق کا بالکل عادی نہیں تھا۔ چنانچہ اس کا نتیجہ چند ہی دنوں میں یہ نکلا کہ شیراز ہماری محفلوں سے آہستہ آہستہ غائب ہونا شروع ہو گیا۔ اور پھر کُچھ عرصے بعد اُس نے ہمارے ساتھ ملنا ملانا بالکل ہی موقوف کر دیا۔ شیراز جیسے نفیس دوست کو محض مذاق کی عادت کی بنا پر کھونا میرے لیے بڑا تلخ تجربہ تھا لیکن یہ مجھے زندگی بھر کے لیے ایک سبق سکھا گیا کہ مذاق ضرور کریں لیکن دوستی کی قیمت پر نہیں۔
محفل ِ دوستاں میں مذاق عام بات ہے۔احباب کی محفل ہو ، دوستوں کی منڈلی سجی ہو اور وہاں ہنسی مذاق اور قہقہے نہ ہو ں یہ ہو نہیں سکتا۔ایسی محفل ناراض رشتے داروں کی تو ہو سکتی ہے دوستوں کی نہیں۔ بعض احباب کے بیچ بلا کی بے تکلفی ہوتی ہے۔ اُن کے درمیان مذاق کی کوئی حدیں سرحدیں نہیں ہوتیں۔وہ ہر قسم کا ذاتی،خاندانی مذاق خود کرتے ہیں اور دوسروں کا ایسا مذاق سُنتے اور برداشت کرتے ہیں۔اُنہیں اس عمل میں طبعاً کوئی دقّت نہیں ہوتی۔ لیکن ہر دوست کا مزاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔چنانچہ میری ذاتی رائے ہے کہ دوستوں کے بیچ مذاق کے شائق افراد کو تھوڑا محتاط اور چوکس رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔انہیں اپنے ہر دوست کی طبیعت اور مذاج کا ادراک ہونا چاہیے۔ انہیں احباب کے مذاجوں کا ایک اچھا نبّاض ہونا چاہیے۔ جُگتووں، جُملوں اور گونجتے قہقہوں کے درمیان ان کی انگلیاں محفل کی نبض پر ہونی چاہییں۔انہیں احساس ہونا چاہیے کہ ان کے جُملے کس دوست پر کس طرح کے اثرات ڈال رہے ہیں۔ کوئی اُن کی بات یا کوئی لفظ دل پر تو نہیں لے رہا۔ دوستی کو سمجھنے والے احباب تو دردِ دل کہنے کے لیے بھی التفاتِ دلِ دوستاں کا انتظار کرتے رہتے ہیں چہ جائیکہ اُن کو کسی بھونڈے مذاق کے نشانے پہ دھرکے اُن کے دردِ دل کا باعث بنا جائے۔امیرؔ مینائی نے کہا تھا:


امیرؔ جمع ہیں احباب دردِدل کہہ لے پھر التفاتِ دل دوستاں رہے نہ رہے


دوسری طرف آپ دیکھیں کہ ہلکے پھُلکے اور نفیس مزاح سے بھی دوستوں کی محفلوں کو پُر لُطف بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی محفلوں میں بھی آپ کبھی بور نہیں ہوتے۔شائستگی اور تہذیب ایسی بیٹھکوں کا خاصہ ہوتی ہیں۔ ایسی نشستوں میں دوستوں کے بیچ پُر لطف جُملوں کا تبادلہ عمدہ ذوق کا پتہ دیتا ہے۔شائستہ اور شستہ مذاق کی علامت یہ ہے کہ اس سے سبھی حظ اُٹھاتے ہیں حتیٰ کہ وہ بھی جس کے خلاف کیا جائے۔یار لوگ جانتے ہیں کہ ہلکے پھُلکے اور نفیس مذاق سے بھی محفلیں کشتِ زعفران بنائی جا سکتی ہیں اور کسی کی دل آزاری بھی نہیں ہوتی۔ احباب کی محفلیں کیا ہوتی ہیں اور انہیں کیسے آباد رکھا جاتا ہے یہ جاننے کے لیے انتظار حسین کی ”چراغوں کا دُھواں“ اور عبدالمجید سالک کی ”سر گزشت“ جیسی کتابوں کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ انہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بزم آرائیاں اور محفل دوستاں بھی ضروری ہیں اور ان میں ہونے والا مذاق بھی۔۔لیکن ساتھ ہی ساتھ اس امر کا احساس اور ادراک بھی ہمہ وقت رہنا چاہیے کہ آپ کی لمحاتی خوشی کی خاطر بولا گیا کوئی جُملہ کسی دوست کی دل آزاری کا باعث تو نہیں بن رہا۔۔ دیکھیے انیس ؔ نے اسی بات کو کس خوبصورت انداز سے بیان کیا ہے:


خیال خاطر احباب چاہیے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

Exit mobile version