دوست ممالک کے تعاون نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا ہے کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے پیسے نہیں تھے، دوست ممالک نے مدد کر کے ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچالیا کیوں کہ اگر ملک دیوالیہ ہوجاتا تو آج ایسی مہنگائی آتی کہ جس کا لوگوں کو اندازہ بھی نہیں، دیوالیہ سے روپیہ گرتا اور ہر چیز مہنگی ہوجاتی۔

یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے نئے بلاک کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ابھی مہنگائی کی وجہ یہ ہے کہ ڈالر 2018 کے 107 روپے سے 155 پر پہنچ گیا ہے چنانچہ جب روپیہ گرتا ہے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے، یعنی یہ سب روپے کی کمزوری کے اثرات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے کے لیے کچھ نہیں تھا اس لیے دوست ممالک نے مدد کی اور ہم بچ گئے۔

عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ڈھائی سال میں بیرونی قرضوں پر 3 ہزار ارب روپے سود واپس کیا تھا جبکہ ہم نے اپنے ڈھائی سال میں 62 کھرب روپے سود واپس کرچکے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے قرضوں سمیت سود کی مد میں 20 ہزار ارب روپے واپس کیے جبکہ ہم نے 35 ہزار ارب روپے واپس کیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب آپ اتنے قرضے واپس کرتے ہیں تو تعلیم، ہسپتالوں، سڑکوں جیسے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے اس لیے ایسے منصوبے بنا رہے ہیں جس سے دولت پیدا ہو مثلاً لاہور میں راوی سٹی کے نام سے نیا شہر بنا رہے ہیں جس میں کئی ہزار ارب روپے کی دولت پیدا ہوگی، ہمارا کوئی خرچ نہیں ہوگا کیوں کہ نجی سیکٹر آئے گا، کراچی میں بنڈل آئی لینڈ ہے جس کے بڑے بڑے سرمایہ کار منتظر ہیں تاہم سندھ حکومت ہمیں اجازت نہیں دے رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم 50 سال بعد 2 بڑے ڈیمز بنا رہے ہیں، تعمیراتی صنعت کو مراعات دیں جس سے اس سطح کی تعمیرات ہورہی ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی اور اس کے ساتھ 30 دیگر صنعتیں منسلک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سیاحت ایک واحد ایسی چیز ہے کہ جو ہمارا زرِ مبادلہ کا سارا مسئلہ ختم کرسکتی ہے، جب سیاحت اٹھ گئی تو وہاں کے مقامی افراد کو نوکریوں کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک صنعتی ترقی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا صرف زرعی اجناس کی برآمد سے ملک ترقی نہیں کرسکتا، 60 کی دہائی میں اس کی صنعت اوپر جارہی تھی اور اس کے بعد اب ہم صنعت کو اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نئی سوچ کی ضرورت ہے ہم پرانے اور گھسے پٹے طریقے استعمال کررہے ہیں ایک مثال زیتون کی ہے جسے اب بڑے پیمانے پر اگایا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرا خواب ہے نمل یونیورسٹی پاکستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی بنے اور یہ صرف یونیورسٹی نہیں بلکہ ایک نالج سٹی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ القادر یونیورسٹی رواں برس ستمبر میں شروع ہوگی، جس کے لیے میں نے دنیا کے بڑے اسلامی اسکالرز کو آن بورڈ لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری کوشش یہ ہے کہ القادر یونیورسٹی سے اپنی قوم کو ایک ایسی انٹیلیکچوئل لیڈر شپ دوں کہ جو لوگوں کو سمجھائے کہ اللہ پاک نے ہمیں کیوں پیدا کیا، ہمارا دنیا میں مقصد کیا ہے، جب اس دنیا سے واپس جائیں گے تو ہمارا کیا ہوگا اور اللہ پاک نے جتنے پیغمبر دنیا میں بھیجے ان کا مقصد انسانوں کو یہی سمجھانا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک جانور دنیا میں آتا ہے کھاتا پیتا ہے بچے پیدا کرتا ہے اور مر جاتا ہے اور اگر انسان بھی دنیا میں آکر کھائے پیے، بچے پیدا کرے اور اپنے لیے پیسہ بنائے تو اس میں اور جانور میں زیادہ فرق نہیں رہ جاتا، انسان اللہ کی سب سے عظیم مخلوق ہے اللہ نے فرشتوں کو انسان کے سامنے جھکنے کا حکم دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں افراتفری مچی ہوئی ہے، لالچ ہے، پیسوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں کہ جیسے پیسے سے خوشی آجائے گی، نیویارک ٹائمز میں ایک بہترین ماہر نفسیات کی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ ان کے مریضوں کی دولت جتنی بڑھتی رہین اتنی ان کی خوشی کم ہوتی گئی۔ یعنی خوشی اور دولت کا بلاواسطہ رابطہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں اتنے بڑے بڑے اربوں پتی ہیں کہ جنہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے پاس کتنا پیسا ہے 30 سال اس ملک کا پیسہ چوری کیا ہے، لیکن لعنت ہے ایسے پیسے پر کہ بچے بھی جھوٹ بول رہے ہیں، خود بھی جھوٹ بول رہے ہیں، کبھی ہسپتال تو کبھی جیل جارہے ہیں یہ ہمارے لیے عبرت ناک چیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوشی اس بات سے ملتی ہے کہ آپ 5 وقت نماز پڑھیں اور دعا کریں کہ اللہ مجھے اس راستے پر لگائے کہ جنہیں تو نے نعمتیں بخشیں،ان کے نہیں کہ جو اپنی تباہی کے راستے پر نکل گئے، پوری زندگی یہ دو راستے آتے ہیں جس میں سے ایک خوشی کا اور دوسرا تباہی کا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک راستہ آسان راستہ نہیں مشکل ہے، اللہ نے سے زیادہ نعمتیں اپنے پیغمبروں کو بخشیں لیکن کسی بھی پیغمبر کی زندگی آسان نہیں تھی، قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے جس چیز کو تم اپنے لیے برا سمھجتے ہو وہ اچھا ہے اور جسے اچھا سمجھتے ہو وہ برا ہے مطلب یہ کہ ہم اکثر آسان زندگی کو اچھا سمجھتے ہیں لیکن وہ انسانی کی صلاحیت کو تباہ کردیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم زندگی میں شارٹ کٹ لے لیتے ہیں لیکن آج تک کسی نے اپنی زندگی میں شارٹ کٹ لے کر بڑا کام نہیں کیا، اگر اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم جن سے اللہ کو سب سے زیادہ محبت ہے انہیں 13 سال مشکل وقت سے گزارا تو ہمارے لیے تو برا نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نبوت کے 10 سال بعد تک صرف 40 لوگ مسلمان تھے لیکن نبوت کے 23 سال کے بعد جو انقلاب آیا دنیا کی تاریخ میں ایسا انقلاب نہیں آیا، اس لیے میں القادر یونیورسٹی بنا رہا ہوں کہ ہم مطالعے کریں کہ عرب جن کے پاس طاقت نہیں تھی جو تقسیم تھے ان کے پاس ایسی کیا چیز تھی کہ 15-16 کے عرصے میں دنیا کی 2 بڑی سپر پاورز ان کے سامنے گٹھنے ٹیک گئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وہ تہذب قائم کی جو سب سے عظیم تہذیب تھی جس میں علم کو ترقی دی گئی جس کی وجہ سے یورپ اور مغرب آگے بڑھا۔

انہوں نے کہا کہ القادر یونیورسٹی کا مقصد ہے یہ اسلام کے خیالات کو ترقی دیں، ہمارے دانشور آئیں اور بتائیں کہ ملک بنا کیوں تھا، اگر یہ ملک بنناتھا کہ ٹاٹا برلا کی جگہ شریف اور زرداریوں نے امیر ہونا تھا تو اس کا کوئی مقصد نہیں تھا، علامہ اقبال کا واضح مؤقف تھا کہ یہ ملک دنیا کے لیے مثال بنے گا کہ اصل میں اسلام کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکنالوج اور ٹیکنیکل تعلہیم اتنہائی ضروری ہے کیوں کہ ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ تعلیم ہمیں آگے لے کر جائے گی ہمارے نوجوان کو جب تک ٹیکنکل تعلیم نہیں ملے گی اسے روزگار نہیں ملے گا اور دنیا میں وہ معیشت اوپر جاتی ہے جو نالج اکانومی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دنیا میں یہ بہت بڑی غلطی کی کہ ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم اور نہ ہی تکنیکی تعلیم پر اتنا زور دیا ہے یہ سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں، ایک دنیا میں آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے دوسری تعلیم بتاتی ہے کہ دنیا میں ہمارا مقصد کیا ہے، یونیورسٹی کی تعلیم کا معاشرے پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 120 برس قبل امریکا نے ترقی کی کرنی شروع کی تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ دنیا میں سب سے زیادہ گریجویٹس امریکا میں نکل رہے تھے جب آپ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اپنی آبادی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ خودبخود ملک کو ترقی دیتی ہے۔

error: