دو بیمار دوستوں کی ملاقات

میرے سامنے بے شمار ’’کھانے پینے‘‘ کی اشیا دھری تھیں، میرے پاس میرا پوتا ارسلان بیٹھا تھا، میں ابھی کھانے پینے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ میرا پرانا دوست مسعود لاٹھی ٹیکتا ہوا آیا اور کرسی پر براجمان ہو گیا۔ میں نے اس سے سلام دعا کے بعد ارسلان سے کہا ’’لو بیٹے پہلے پروسٹیٹ کی میڈیسن نکالو‘‘۔ اس نے فوراً ہومیوپیتھک ڈراپس دیئے اور اس کے بعد پروسٹیٹ کی ایلوپیتھک میڈیسن دی۔ میں نے پہلے ڈراپس میں پانی ملایا اور غٹا غٹ پی گیا۔ پھر میں نے ذرا سے پانی سے ایلوپیتھک کیپسول نگل لیا۔ اس کے بعد ارسلان نے کھانسی کا سیرپ اور ایک اینٹی بائیوٹک دی، بعد میں ایک پینا ڈول بھی۔ اس ’’خوراک‘‘ سے فارغ ہوا تو ارسلان نے میری ڈپریشن کی دوا نکالی، میں نے وہ بھی ہڑپ کرلی۔ اب قبض دور کرنے کی میڈیسن میرے سامنے تھی۔ میں نے اس سے بھی پورا ’’انصاف‘‘ کیا۔ بعد ازاں ارسلان نے گھٹنوں کے درد کی میڈیسن میرے سامنے رکھی۔ میں نے وہ بھی ’’ اللہ کا شکر‘‘ ادا کرتے ہوئے پیٹ میں اتار لی۔ بعد ازاں RINOCLENILچھینکوں کی روک تھام کے لیے ناک کے دونوں نتھنوں میں اسپرے کیا۔ سانس لینے میں دشواری کا تدارک کرنے کے لیے حلق کے راستے اندر کی ہوا باہر پھینکی اورپھر سانس روک کر انہیلر کا بھی ’’کش‘‘ لیا۔ ابھی جوڑوں کے درد، بے خوابی کے پرابلم اور کچھ دیگر امراض کی دوا کے کورس باقی تھے، مگر میں نے سگریٹ کے لیے انٹرول کیا اور سگریٹ سلگا لیا۔

مسعود اس سارے عرصے میں خاموشی کے ساتھ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس نے درمیانی وقفے میں مجھ سے کہا ’’مارکیٹ میں ان مسائل کے حل کے لیے نئی ورائٹی بھی آئی ہے، تم وہ بھی ٹرائی کرو۔ اچھی مزے کی چیزیں ہیں اور خوش نما بھی ہیں‘‘۔ پھر اس نے تفصیل سے مجھے بتایا کہ وہ یہ سب ادویات ان دنوں استعمال کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا ’’تمہیں کچھ افاقہ محسوس ہوا؟‘‘ اس نے غالب کا یہ شعر پڑھا؎

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

اور اس کے ساتھ ہی واہیات انداز میں ہنسنا شروع کردیا۔ میں نے کہا ’’یار تم عجب آدمی ہو، میں تو ایک عرصے سے ہنسنا بھول گیا ہوں، دوستوں سے ملنا جلنا ہی چھوٹ گیا ہے، اب تو میں ہوں اور یہ رنگ برنگی مختلف ذائقوں کی ادویات ہیں ‘‘ مسعود نے یہ سن کر ایک اور قہقہہ لگایا اور بولا ’’آج شام کو میں نے گھر پر باربی کیو پارٹی کا اہتمام کیا ہے، میں تمہیں اس کے لیے انوائٹ کرنے آیا تھا‘‘۔ میں نے کہا ’’یار تم عجیب واہیات آدمی ہو۔ میری طرح تم بھی بہت سے امراض کا شکار ہو، میرا تو کسی کو دیکھنے کو بھی دل نہیں چاہ رہا اور تم دوستوں کےساتھ ہلہ گلہّ کرنے کے انتظام میں لگے ہوئے ہو‘‘۔ یہ سن کر مسعود ایک دفعہ پھر ہنسا اور بولا ’’ہمارے علماء کہتے ہیں کہ دین اور دنیا کو ساتھ ساتھ رکھنا چاہیے،اسی طرح امراض اور ان کی ادویات کے ساتھ دوستوں کی کمپنی کی ’’ڈوز‘‘ لینا بھی ضروری ہے‘‘۔ میں نے کہا ’’اس سے گرم سرد تو نہیں ہو جاتا‘‘ مسعود بولا ’’نہیں دوستوں کی کمپنی اور ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی تو میڈیسن ہی ہے۔ اس سے گرم سرد کیا ہوناہے، تکلیف بانٹی جاتی ہے‘‘۔

میں مسعود کی رائے سے متفق نہیں تھا اور نہ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسان خود بھی مستقل تکلیف میں رہے اور پورے اہل خانہ اور عزیز و اقربا کو بھی اپنے حوالے سے پریشان رکھے۔ لوگ جب پرسش احوال کرتے ہیں اور آپ اپنے ساتھ ان کو بھی پریشان دیکھتے ہیں تو ’’میرے ول تک سجنا‘‘ کے مصداق دل کو ٹھنڈ پڑتی ہے کہ آخر SELF PITY (خود رحمی) بھی تو کوئی چیز ہے۔ تاہم میں نے مسعود سے وعدہ کرلیا کہ میں شام کو آجائوں گا اور اس کے ساتھ ہی ڈرائیور کو بلا کر کہا کہ میری وہیل چیئر کار کی ڈگی میں رکھ دو۔ ڈرائیور واپس گیا تو میں نے مسعود سے پوچھا ’’تم چائے تو نہیں پیو گے؟‘‘ بولا ’’یار میں تم سے ملنے آیا ہوں، چائے پینے نہیں، لیکن اگر تم بضد ہو تو دو پراٹھے اور دو فرائیڈ انڈے تیار کرا دو، میں نے ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا‘‘۔ میں نے کہا ’’یار مسعود، تم پرہیز بالکل نہیں کرتے، میں نے تو کھانا پینا چھوڑا ہوا ہے، دو سوکھے سلائس اور ایک کپ چائے کا ناشتہ کرتا ہوں۔ دوپہر کو سلاد، رات کو ایک چپاتی شوربے کے ساتھ۔ رات کو چونکہ لحاف میں سے نکل کر سات مرتبہ واش روم جانا پڑتا ہے، چنانچہ فریج میں جو کچھ نظر آئے، ہر بار جاگنے پر کچن کا رخ کرتا ہوں اور ہلکی پھلکی سی کوئی چیز کھا لیتا ہوں‘‘۔ مسعود بولا ’’اس احتیاط کے باوجود تم خود کوبیمار کیا لاعلاج بیمار سمجھتے ہو۔ مجھے دیکھو بھرپور زندگی گزار رہا ہوں، تمام تر تکلیفوں کے باوجود جینے میں مزا آ رہا ہے، اور تم اپنی رہی سہی زندگی کو بھی عذاب بنا رہے ہو‘‘۔

مسعود جب بھی ملتا ہے اسی طرح کی مثبت باتیں کرتا ہے، مگر میں جو کہ زندگی گزارنے ہی کے خلاف ہو چکا ہوں، اس طرح کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا ہوں۔ (اور ہاں یاد آیا، میں آج کان میں ڈراپس ڈالنا بھول گیا ہوں) مسعود 6پراٹھے پھاڑ کےاور انڈوں کو اپنےفانی جسم میں انڈیل کر جانے لگا تو میں نے اسے مخاطب کیا اور کہا ’’میں نے آج تمہاری پارٹی میں آنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ جھوٹ تھا، میں ان دنیاوی لذتوں سے بہت دور جا چکا ہوں، میں نہیں آ رہا‘‘۔ مسعود بولا ’’میں تمہیں اٹھا کر لے جائوں گا‘‘ اور پھر لاٹھی ٹیکتا ہوا پورچ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف چل پڑا۔

مسعود کے جانے کے بعد میری بیوی نے مجھے مخاطب کیا ’’میں مسعود بھائی کی ساری باتیں سن رہی تھی، وہ ٹھیک کہتے ہیں، آپ اللہ کا شکر ادا کیا کریں، آپ آج بھی لاکھوں سے بہتر ہیں‘‘۔ اس پر میں نے اسے گھورکر دیکھا اور جو میڈیسن رہ گئی تھی، ارسلان سے کہا ’’بیٹے یادداشت کی کمزوری والی دوا رہ گئی تھی وہ بھی نکال کر مجھے دے دو‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.