دو سوال

پہلا سوال،سائنس سے:تم تو جانتی ہو میں تمہارا بڑا مداح ہوں،ہمہ وقت تمہارے گُن گاتا ہوں،ہر محفل میں تمہارے حسن کی تعریف کرتا ہوں، آخر یہ تم ہی تو ہو جس نے ہم انسانوں کی زندگیاں آسان بنائی ہیں،تمہارے ہی دم سے اِس جہان میں رونق ہے، تمہاری بدولت ہی ہم انسان ’تو شب آفریدی چراغ آفریدم‘ گنگناتے پھرتے ہیں۔ دس ہزار سال پہلے کی زندگی کے مقابلے میں آج جو آسایشیں انسان کو میسر ہیں وہ سب تمہاری مرہون منت ہیں۔ کہاں انسان معمولی بخار سے مر جاتا تھا اور کہاں آج تمہاری بدولت اُس نے موذی امراض پر قابو پا لیا ہے۔کبھی اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں برسوں لگ جاتے تھے اور آج وہ چند گھنٹوں کی مسافت سے ہواؤں میں تیرتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔ کہاں وہ چاند ستاروں کی پرستش کیاکرتا تھا اور کہاں آج وہ تمہاری بدولت اُن پر کمند ڈال کر رہا ہے۔اور اب جوں جوں تمہاری عمر بڑھ رہی ہے توں توں تمہارے حسن میں مزید نکھار آ رہا ہے۔ روزانہ تم نئے اسرار سے پردہ اٹھاتی ہو۔ تمہارے حسن کے جلوؤں کے اب وہ لوگ بھی عاشق ہیں جو پہلے کسی طرح مان کر ہی نہیں دیتے تھے۔تم نے انہیں بھی لا جواب کر دیا ہے، تمہارے آگے سب کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ مگر اے محبوبہ دل نواز، بے شک میں بھی تیرا چاہنے والا ہوں، تیری زلف کا اسیر ہوں، تیرے جادوکا قائل ہوں مگر تو نے اپنے حشر سامانیوں سے نقصان بھی بہت پہنچایا ہے۔زیادہ دور کیوں جائیں، ابھی کل کی بات ہے جب ہیرو شیما اور ناگا ساکی پرایٹم بم گرائے گئے، لاکھوں بے گناہ افراد مارے گئے، جو بچ گئے وہ مردوں سے بد تر رہے،آج تک تمہارے دامن سے یہ داغ نہیں دھل سکا۔میں جانتا ہوں تمہارا دفاع یہی ہوگا کہ اِس میں تمہارا کوئی قصور نہیں کہ یہ فیصلہ تو سیاست دانوں نے کیا تھامگر تمہارا یہ عذر قابل قبول نہیں۔اپنے دامن میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے تم کسی کو حصہ دار نہیں بناتیں،اسی اصول کے تحت تمہیں ناکامی کا بھی ذمہ پورا ذمہ لینا چاہیے۔آج کل کے کیمیائی ہتھیار، ڈرون، زہریلی گیسیں، خود کار مشین گن،ہائیڈروجن بم، نیوکلئیر ہتھیار یہ سب تمہاری دین ہے۔اگر تم نے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائی ہیں تو کروڑوں انسانوں کا خون بھی تمہاری گردن پر ہے اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ یہی نہیں بلکہ انسانوں کی نجی زندگی تمہاری وجہ سے برباد ہو کر رہ گئی ہے، تم ہماری زندگیوں میں اِس قدر دخیل ہو چکی ہو کہ پرائیویسی کا تصور خاک میں مل گیا ہے، تم ہر قدم پر ہمارا تعاقب کرتی ہو، ہر چیز پر تمہاری نظر ہے۔تم نے بظاہر انسان کو آزادی دی ہے مگر حقیقت میں اُس کی آزادی کے آگے بند باندھ دیا ہے،یہ ایک ایسا خطرناک سفر ہے جس کا انجام سوچ کر ہم انسان لرز جاتے ہیں۔اِس کے باوجودحیرت کی بات یہ ہے کہ تمہارے چاہنے والوں میں کمی نہیں بلکہ دن بدن ضافہ ہو رہا ہے۔خاص طور سے جب سے یہ وبا آئی ہے ہر کوئی تمہارے نام کی مالا جپ رہا ہے،حتی کہ تمہارے بد ترین

ناقد بھی چپکے چپکے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ سائنس نے ویکسین کب تیار کرنی ہے۔مگر دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو تمہیں اِس وائرس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں،اُن کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انسانوں میں نہ آتا اگر تمہاری وجہ سے انسان جنگلوں میں گھس کر زمین کا توازن برباد نہ کرتا اور جانوروں کی بستیاں نہ اجاڑتا۔ تمہاری بدنامی کے ڈرسے میں زیادہ تفصیل میں نہیں جا رہا، تھوڑے کہے کو بہت جانو،اورہوسکے تو اِن اعتراضات کا جواب لکھ بھیجو۔فقط،تمہارامحبوب۔
دوسرا سوال، مذہب سے: سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں، تمہیں محبوب کہوں یا دوست، ناصح کہوں یا غمگسار!ہزاروں لاکھوں سال گذر گئے مگر تمہارا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے،نہ جانے تم میں ایسا کیا سحر ہے کہ سائنس کا حسن اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود تمہارے آگے پھیکاپڑ جاتا ہے۔ آج بھی دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں سے سات ارب لوگ تمہارے آگے جھک کر اپنی بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بے بس انسان میں بھی ہوں۔اِس بیکراں کائنات پر جب میں نظر دوڑاتا ہوں تو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے اور اِس کرہ ارض پر انسان کی زندگی مجھے لا یعنی اور بے مقصد لگتی ہے۔ڈور کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔مجھے یوں لگتا ہے جیسے اِس دنیا میں ہمارا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا۔اِس گھٹا گھوپ اندھیرے میں جب تم آگے بڑھ کر میرا ہاتھ تھامتے ہو تو بیمار کو یکایک جیسے قرار آ جاتاہے، ایسے لگتا ہے جیسے کائنات کی ہر شے نگینے کی طرح اپنی جگہ فِٹ ہو گئی ہو، اشیا کی بے ترتیبی میں اچانک نظم آجاتاہے،زندگی کی بے معنویت کو معنی مل جاتے ہیں، انسان کی لاچارگی کو سہارا مل جاتاہے، کائنات کی وسعتیں چشم زدن میں ہم آہنگ ہو جاتی ہیں، صنعت کردگارکے رموز آشکار ہو جاتے ہیں،الجھی ہوئی ڈور کا پورا گچھا از خود سلجھ جاتاہے۔ یونہی تو سات ارب لوگ تمہارے دیوانے نہیں۔کہیں کوئی مسجد میں تمہارا شکر بجا لاتا ہے تو کوئی گرجے میں تم سے مدد مانگتا ہے، کہیں مندروں کی گھنٹیاں سے تمہارا استقبال کیا جاتا ہے تو کہیں کسی کنیسہ میں تم سے نجات طلب کی جاتی ہے۔سالہا سال سے اربوں لوگ تمہاری وجہ سے سکون پاتے ہیں، انہیں زندگی جینے کے لیے ہمت، حوصلہ اور مقصد ملتا ہے، تمہارا سہارا انہیں امید دلاتا ہے اور تمہاری ہی وجہ سے ہم انسان اخلاق کے اعلی ٰ میعار کے پابند ٹھہرتے ہیں۔یہ تم ہی ہو جس کی وجہ سے اکڑی ہوئی گردنیں سر نگوں ہوتی ہیں اور تنے ہوئے سر جھک جاتے ہیں۔تمہارے بغیر زندگی کا تصور ہی ہم انسانوں کے لیے محال ہے مگر ہم انسان بھی کیا کریں، سوال اٹھانے پر مجبور ہیں، یہ ہماری فطرت ہے کہ ہم کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔ آج میں اِس دنیا میں جگہ جگہ ظلم کا بازار گرم گرم دیکھتا ہوں، کہیں کوئی دانیال انصاف کا ترازو لیے نہیں بیٹھا اور جب لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے تو مختلف جواب ملتے ہیں۔کوئی پادری کہتا ہے یہ نظام قدرت ہے، کوئی شیخ کہتا ہے کہ ظالم کی رسی دراز ہے، کسی کی نظر میں یہ آزمایش ہے، کسی کے خیال میں تنبیہہ ہے، کوئی تسلی دیتا ہے کہ روز قیامت اِس کا اجر ملے گا، کوئی دلاسہ دیتاہے کہ اسی دنیا میں ہی بدلہ مل جائے گا۔میرے ایک دوست کی بیٹی ذہنی معذور ہے،عمر چودہ پندرہ سال ہے، اپنا خیال نہیں رکھ سکتی،اِس جملے سے آگے میرے میں کچھ لکھنے کی ہمت نہیں، میرا دوست مجھ سے پوچھتا ہے کہ یہ کس کی آزمایش

ہے، بیٹی کی یا والدین کی؟ بیٹی کا تو کوئی جرم ہی نہیں لہذا اُس کی آزمایش نہیں ہو سکتی۔ والدین کا کوئی گناہ ہو سکتا ہے یا عین ممکن ہے کہ اُن کا بھی گناہ نہ ہوپھر بھی یہ آزمایش ہو سکتی ہے۔ کیا یہ آزمایش یاتنبیہ کبھی ختم ہو گی، میرا دوست اِس کا جواب مانگتا ہے،کہتا ہے ہم میاں بیوی دعائیں مانگ مانگ کر تھک گئے ہیں، ہر در انہوں نے کھٹکھٹا کر دیکھ لیا ہے پر صدائے بر نخواست۔وہ پوچھتے ہیں کہ اُن کے مرنے کے بعد اِس بچی کا کیا بنے گا، اُن کی آزمایش تو ہوئی یا نہیں، بچی کس کے آسرے پر جیے گی؟میرے پاس اِس قسم کے سوالوں کاکوئی جواب نہیں۔ اسی لیے میرے راہ رو،آج ہمت کرکے تم سے پوچھ رہا ہوں،ہوسکے تو جواب دے دینا۔سپردم بتو مایہ خویش را، تو دانی حساب کم و بیش را۔ فقط، تمہارا تابعدار۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *