دو معاہدے!

موجودہ حالات سے کئی اہم نوعیت کے سوال اٹھتے ہیں۔مثلاًکیا بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا گیا ہے؟اس مرحلے پر معاہدہ کرنے کی انہیں آخر ایسی کیا مجبوریاں ہیں؟یہ معاہدہ کس قسم کا ہو سکتا ہے؟دونوں فریق بہ اصرار یہ بات کیوں کہتے ہیں کہ کوئی معاہدہ نہیں ہو رہا؟کیا انتخابات سے قبل یہ معاہدہ باہمی اعتماد کے قیام کی ایک کوشش ہے تاکہ انتخابات کے بعد ایک زیادہ دیر پا معاہدہ ترتیب دیا جا سکے؟مشرف صاحب اور محترمہ دونوں ہی مضبوط شخصیات ہیں اور ددنوں میں باہمی عدم اعتماد کا ایک طویل سلسلہ رہا ہے تو کیا ایسے میں یہ دونوں جیو اور جینے دو کے اصول پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں؟
مشرف صاحب اور محترمہ دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔پچھلے دو سالوں میں جنابِ مشرف کی مقبولیت میں کافی حد تک کمی آچکی ہے۔اس کی وجوہات متعدد ہیں۔مثال کے طور پر اخراجاتِ زندگی میں اضافہ ہوا ہے، امریکہ خلاف جذبات میں شدت آئی ہے، ایک طویل عرصے تک جنرل مشرف اقتدار میں رہے ہیں اور اب تک اپنے کئی وعدے وہ توڑ چکے ہیں،سیاسی پسپائیاں انہوں نے قبول کی ہیں اور چیف جسٹس کے علاوہ جامعہ حفصہ والے معاملے کو بھی ان کے زیرِ حکمرانی انتہائی غلط طور سے نمٹایا گیا ہے۔بد قسمتی سے یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ ان کے لبرل اصلاحات کے ایجنڈے کو اس سے کہیں زیادہ قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے جو فی الوقت انہیں حاصل ہے۔اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کی صورت میں انہیں ایک سنگین نوعیت کا چیلنج درپیش ہے۔اگر یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوئے تو ان کی شکست کا پورا امکان ہے اور اس شکست کے نتائج بھی ان کے لئے تباہ کن ہوں گے۔اگر ان انتخابات میں دھاندلیاں ہوئیں اور وہ جیت گئے تو پھر انہیں ایک متحدہ حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ اور اپنے خلاف تحریک کا سامنا ہو گا۔اسی لئے انہیں انتخابات کا ”انتظام و اہتمام“ کچھ اس طرح سے کرنا ہے کہ ان کے ذریعے اپنی حکمرانی کے لئے وہ ایک جواز حاصل کر سکیں۔اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ محترمہ اور ان کی پی پی پی کو اپنے ساتھ واضح طور پر ملا لیا جائے کیونکہ ایک جیسے سیاسی ایجنڈے اور اقدار کی بدولت وہ ہر طرح سے ان کی ”فطری“ سیاسی ساتھی معلوم ہوتی ہیں۔ان کا ساتھ پانے کے لئے مشرف صاحب کا عبوری انتظامیہ کی تشکیل میں ان کی سننی ہو گی اور انہیں اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات سے نمٹنے کی زحمت کے بغیر آئندہ انتخابا ت میں اپنی جماعت کی قیادت کی اجازت دینا ہو گی۔
محترمہ کو بھی اسٹیبلشمنٹ میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے مشرف صاحب کی ”ضرورت“ ہے۔وہ گیارہ برس سے اقتدار سے محروم رہی ہیں اور ان گیارہ برسوں میں زیادہ عرصہ انہوں نے خو د ساختہ جلا وطنی میں گزارا ہے۔انیس سو چھیانوے میں اقتدار سے ان کی بے دخلی کا سبب فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ان کا کوئی گہرا اختلاف نہیں تھا بلکہ ان کی اس بدقسمتی کا زیادہ تعلق ان کے اپنے چنیدہ سویلین صدر فاروق لغاری سے بنتا تھا۔محترمہ نے تو اس امید پر نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کا خیر مقدم بھی کیا تھا کہ جنرل مشرف انہیں اقتدار میں شمولیت کی دعوت دیں گے لیکن ایسا کچھ جنرل صاحب نے کیا نہیں بلکہ سیاستدانوں کے خلاف اپنے اصلاحی ایجنڈے پر عمل درآمد کے جوش میں انہو ں نے محترمہ کے خلاف ان مقدمات کو آگے بھی بڑھایا جو نواز شریف نے قائم کئے تھے۔اس وقت محترمہ کی سوچ یہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ موقع ضائع کر دیا تو اس سے فوجی اور پی پی پی کے درمیان اس عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہو گا جو آج تک ان کے مقاصد کو شدید نقصان پہنچاتا آیا ہے۔ان کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ میں ان کی حیثیت مستحکم ہونے سے قبل اگر جنرل مشرف کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو فوج بیرکوں میں واپس جا کر میاں صاحب کی زیرِ قیادت متحدہ مسلم لیگ کے ساتھ ایک بار پھر اسی طرح خفیہ سازشوں میں مصروف ہو جائے گی جس طرح انیس سو اکاسی تا انیس سو ننانوے ہوتا رہا تھا۔یہ امر ان کے لئے ایک بار پھر اقتدار سے ایک طویل عرصے کی محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام آباد میں قدم جمانے کے لئے مشرف صاحب کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل کے لئے تیار ہوں گی۔
مشرف اور محترمہ کے درمیان یہ ڈیل نا گزیر بھی ہے۔اس کی تفصیلات کچھ یوں معلوم ہوتی ہیں کہ سب سے پہلے تو مشرف صاحب یہ ڈیل قاف لیگ سے علیحدگی کی قیمت پر نہیں کریں گے بلکہ ان کی تو کوشش ہو گی کہ اس کی قیادت میں قائم گرینڈ نیشنل الائنس کو ہر طرح سے تقویت دی جائے تاکہ محترمہ انتخابات میں مکمل فتح پا کر کہیں حالات ان کے لئے نا سازنہ کردیں۔دوسرے یہ کہ محترمہ کے خلاف مقدمات پر نہ تو زور دیا جائے گا اور نہ ہی وہ واپس لئے جائیں گے۔محترمہ کے اپنے حدود میں رہنے کے لئے ان مقدمات کا استعمال کسی انشورنس پالیسی کی طرح کیا جائے گا۔تیسرے محترمہ موجودہ اسمبلیوں سے مشرف صاحب کے بطورِ صدر انتخاب کے معاملے پر یا پھر اگلے دو تین ماہ میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے چیف جسٹس کی حتمی برطرفی کے بعد حزبِ اختلاف کی تحریک میں شامل ہو کر انتخابات کو ناکام بنانے کی کسی کوشش سے گریز کریں گی۔انتخابات سے قبل اگر جنرل مشرف کو کھلم کھلا بطورِ صدر منتخب کرنے کے لئے وہ ووٹ نہیں دے سکتیں تو انہیں غیر مستحکم کرنے یا پھر ان کی راہ میں آنے کی بھی وہ کوئی کوشش نہیں کریں گی۔چوتھے جب انتخابات کے نتائج سامنے آ جائیں گے تو تب محترمہ اور مشرف صاحب مل بیٹھ کر اسی طرح اشتراکِ اقتدار کا کوئی انتظام سوچیں گے جیسا کہ سن دو ہزار دو میں جنابِ مشرف اور مولانا فضل الرحمان نے کیا تھا۔مشرف صاحب کی وردی اور محترمہ کی وزارتِ عظمیٰ کا فیصلہ اس اعتماد کی بنیاد پر کیا جا سکے گا جو اگلے چھ ماہ میں کے عرصے میں ان کے درمیان قائم ہو سکتا ہے جیسا کہ سن دو ہزار تین میں ایم ایم اے کے سلسلے میں بھی ہوا تھا۔
در ایں اثناء دونوں جانب سے کسی ڈیل کے طے پانے کی تردید ہی ہوتی رہے گی کیونکہ جنرل مشرف کے لئے ایسی ڈیل کا اعتراف قاف لیگ کے کئی اسٹیبلشمنٹ نواز انتخابی امیدواروں کو پنجاب میں پی پی پی میں شمولیت کی تحریک دے سکتا ہے جبکہ پی پی پی کے لئے ایسی باتیں اس کی اسٹیبلشمنٹ خلاف ساکھ اور عوامی تاثرات کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں جس کے بعد ممکن ہے کہ سندھ اور پنجاب میں اس کے متعدد ووٹرز نواز شریف و جماعتِ اسلامی کے ساتھ ہو جائیں۔
ڈیل تو بہر حال ہو چکی ہے اور یہ اس دوسری ڈیل کی محض ابتداء ہے جو انتخابات کے بعد ہونے والی ہے اور جو اگلے پانچ برسوں کے لئے پاکستان کی قسمت کا تعین کرے گی!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: