دیسی نوبیل پرائیز

"احمد علی کورار "

کچھ عرصہ سے زمانہ اشغال میں اتنے مشغول رہے کہ لکھنے پڑھنے سے واسطہ خال خال پڑا۔ مشاغل لایعنی نے رکاوٹیں حائل کیں۔
بڑا کٹھن ہے خود کو اس سانچے میں ڈھالنا،کوشش بسیار کے بعد خود کو اس راہ پہ لایا ہے
لکھنے کے لیے موضوعات کا انبار ہے،لیکن اتنی سکت نہیں کہ محدود وقت میں لامحدود باتوں کو محدود مضمون میں سمیٹا جائے۔
اکتوبر ہماری تاریخ کا بڑا اہم مہینہ ہے لیکن گنجلک باتوں کو چھیڑنے سے پرہیز کیا جائے، اس سے تلخی پیدا ہوسکتی ہے اور تلخی پیدا کرنا ہمارا شیوہ نہیں۔امسال مختلف زمرات کو سویڈش اکیڈمی کی طرف سے نوبیل پرائیز سے نوازا گیا۔
برادر یاسر پیرزادہ فرماتے ہیں کہ یہ مغرب کی بددیانتی ہے یا ہماری نالائقی کہ اس مرتبہ نوبیل پرائیز سائنس میں نہ سہی لیکن ادب میں بھی ہمیں نصیب نہیں ہوا۔
ہمارے ہاں تو پایے کے ادیب موجود ہیں اور وہ ادب میں شاندار مقام رکھتے ہیں۔
موصوف کس حد تک درست ہیں یہ ایک پیچیدہ گتھی ہے ہم اس گتھی میں نہیں پڑتے۔
بات کرتے ہیں عامر خان کے اس بیان کی جو کل میری نظر سے گزرا موصوف تعلیم کے مقصد کو جاندار انداز میں بیان کرتے ہیں۔
قابل ِ سماعت باتیں تھیں ۔عامر خان کہتے ہیں کہ ہم نے آج تک اپنے بچوں کو گریڈز کی تعلیم دی ہے ہمیشہ ہم نے اپنے بچوں کو اے گریڈ کی ریس میں ڈالا ہوا ہے،اور ان کے اذہان میں یہ بات پیوست کر دی ہے کہ تم نے راجو سے آگے جانا ہے۔
اب راجو سے آگے جانے سے یہ مراد نہیں کہ اخلاقیات میں آگے جانا غریبوں کی مدد کرنے میں آگے جانا کسی کو خوش رکھنے میں آگے جانا،ایسا ہر گز بھی نہیں محض گریڈز میں آگے جانا ہے۔
نتیجہ کیا نکلتا ہے بچہ جب بیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو خود غرض بن جاتا ہے اور آگے بننے کی جہت میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ اسے "میں"کے علاوہ کچھ نظرنہیں آتا ۔گریڈز کے چکر میں اپنے بچوں کو خود غرضی کی تعلیم نہ دیں۔
بلکہ اپنے بچوں کو ایسی تعلیم دیں جس میں اخلاقیات کا عنصر برملا نظر آتا ہو۔
موصوف کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم تعلیم کی اصل روح کو سمجھیں۔
بچوں کو ان کی مطابقت اور شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم دیں انھیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائیں۔
اگر اسی ٹرینڈ کے پیچھے لگے رہے تو ایک دن ہمیں گریڈز کی تعلیم میں دیسی نوبیل پرائیز سے نوازا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *