دی بیٹل ایٹ لیک چانگجن: چینی فلم جس نے جیمز بانڈ اور مارول کو باکس آفس پر شکست دی

اس وقت دنیا میں سب سے بڑی فلم نئی جیمز بانڈ فلم ’نو ٹائم ٹو ڈائے‘ یا مارول کی ’شینگ چی اینڈ دی لیجنڈ آف دی ٹین رنگز‘ نہیں ہیں۔

بلکہ چینی پروپیگنڈا فلم ہے جو 1950 کی دہائی میں کوریا کی جنگ پر مبنی ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مشکلات کے باوجود چینی فوجی امریکی افواج کو شکست دیتے ہیں۔

اپنی ریلیز کے صرف دو ہفتوں میں ’دی بیٹل ایٹ لیک چانگجن‘ نامی یہ چینی فلم باکس آفس پر 63 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کما چکی ہے۔ اس لحاظ سے یہ عالمی سطح پر معروف فلم ’شینگ چی اینڈ دی لیجنڈ آف دی ٹین رنگز‘ کی 40 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔ اور چینی فلم نے ایسا اس ہالی وڈ فلم کے مقابلے میں صرف نصف وقت میں کر دکھایا ہے۔

یہ آمدن کے لحاظ سے چین کی سب سے بڑی فلم بننے جا رہی ہے۔

چین میں کووڈ کی وبا سے متاثرہ فلموں کی صنعت کے لیے یہ اچھی خبر ہے کیونکہ وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال کے پیش نظر سینما کبھی بند ہوتے تھے تو کبھی کھول دیے جاتے تھے۔

یہ چینی ریاست کے لیے اس سے بھی اچھی خبر ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ پروپیگنڈا کے ذریعے عوام کو متوجہ کرنے میں اس فلم نے بہترین فارمولا اپنایا ہے۔

لیکن ہالی وڈ کے لیے اس نے مزید چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں کہ اس طرح کی ایک مقامی فلم نے چین میں کس طرح اتنی پذیرائی حاصل کر لی ہے جبکہ دنیا میں فلموں کی سب سے بڑی صنعت اسی ملک میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی۔

’یہ فلم دیکھنا حب الوطنی کا تقاضہ ہے‘

دی بیٹل ایٹ لیک چانگجن نامی اس فلم کو چینی حکومت نے کمیشن کیا تھا۔ حالیہ برسوں میں یہ ان متعدد قوم پرستی پر مبنی فلموں میں سے ایک ہے جو کمرشل سطح پر چین میں ہِٹ ہوئی ہیں۔

سنہ 2017 میں فلم ’ولف واریئر ٹو‘ میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے ایک چینی فوجی نے افریقہ کے جنگ زدہ علاقے میں سینکڑوں لوگوں کو بچایا۔ اس نے صرف ایک ہفتے میں 1.6 ارب یوان کا ریکارڈ بنایا تھا۔

دی بیٹل ایٹ لیک چانگجن
،تصویر کا کیپشنایک ماہر کے مطابق ایسا لگتا ہے جیسے یہ فلم دیکھنا چین میں حب الوطنی کا تقاضہ ہے

لیک چانگجن میں سرد موسم کے دوران ایک بڑی جنگ کا منظر پیش کیا گیا ہے جسے چین کوریا کی جنگ کے دوران اہم موڑ تصور کرتا ہے۔ اس جنگ کو چین میں سرکاری سطح پر ’امریکی جارحیت اور کوریا کی مدد کی جنگ‘ کہا جاتا ہے۔

اس جھیل پر ہزاروں نوجوان چینی فوجی اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں تاکہ امریکی افواج کے خلاف اہم فتح حاصل کی جاسکے۔

فلم ریویو کی ویب سائٹ ڈوبن پر اس فلم کو پسند کرنے والے ایک شخص نے لکھا ہے کہ ’میں فوجیوں کی قربانی سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ موسم انتہائی سخت تھا لیکن وہ پھر بھی جیت گئے۔ مجھے ان پر بہت فخر ہے۔‘

یہ حیرانی کی بات نہیں کہ یہ فلم اس وقت مشہور ہوئی ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔

جنوبی کیلیفورنیا کی یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر سٹینلی روزن کہتے ہیں کہ ’ظاہر ہے اس کا تعلق امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی سے ہے۔ اور جس طرح بعض اوقات اس کی بالواسطہ طور پر تشہیر کی گئی ہے۔ لیکن یہ واضح ہے۔‘

اس فلم کی کامیابی کی ایک اور وجہ فلم سٹوڈیو اور چینی حکام کے درمیان تعاون ہے۔ وہ اس چیز کو بھی کنٹرول کرسکتے ہیں کہ ایک وقت میں کتنی فلمیں اور کس طرح کی فلمیں دکھائی جاسکتی ہیں۔

اس وقت دی بیٹل ایٹ لیک چانگجن کو سینما میں بہت کم مقابلے کا سامنا ہے۔ ہالی وڈ کی بڑی فلمیں جیسے نو ٹائم ٹو ڈائے اور ڈیون کو چین میں اکتوبر کے اواخر میں پیش کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ فلمیں دنیا بھر میں دکھائی جا رہی ہیں۔

دی بیٹل ایٹ لیک چانگجن کے تین ہدایتکار
،تصویر کا کیپشندی بیٹل ایٹ لیک چانگجن کے تین ہدایتکار

اس چینی فلم کی ریلیز کا وقت بھی موزوں رہا کیوں کہ یکم اکتوبر کو چین میں تعطیلات کا آغاز ہوا تھا۔ رواں سال چین کی کمیونسٹ پارٹی اپنے 100ویں سالگرہ منا رہی ہے۔

ڈاکٹر روزن کہتے ہیں کہ ’یہ تقریباً ایسا ہے جیسے یہ فلم دیکھنا حب الوطنی کا تقاضہ ہے۔‘

نیدرلینڈز لیڈن ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فلوریان شنائڈر کے مطابق ایسی پروپیگنڈا فلم دیکھنا چینی کمیونسٹ پارٹی کے اراکین کے لیے لازم ہوتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’(پارٹی کے) یونٹ اجتماعی طور پر یہ فلم دیکھنے کی تقاریب منعقد کرتے ہیں۔ نو کروڑ 50 لاکھ کارڈ ہولڈر ممبران سے باکس آفس پر واضح برتری یقینی ہوتی ہے۔‘

اب تک آن لائن ریویو میں فلم پر مثبت تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کی رائے میں یہ تبصرے مکمل طور پر درست نہیں کیونکہ تنقید کی سزا قید بھی ہوسکتی ہے۔

گذشتہ ہفتے سابق صحافی لو چینگپنگ کو سوشل میڈیا پر فلم میں چینی فوجیوں کے خلاف ’توہین آمیز تبصروں‘ کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ انھیں ’قومی شہدا کی عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے پر‘ گرفتار کیا گیا ہے اور یہ کیس زیر تفتیش ہے۔

آئیووا سٹیٹ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے ماہر ڈاکٹر جوناتھن ہسید نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’(چین میں) انٹرنیٹ پر ایسے نوجوانوں کی تعداد غیر متناسب ہے جو قوم پرست جذبات رکھتے ہیں۔‘

’مگر ان آوازوں کو تقویت دی جاتی ہے کیونکہ ریاست کے خلاف جائز تنقید ناقابل قبول بنتی جا رہی ہے۔‘

بلاک بسٹر پروپیگنڈا

اس کے باوجود فلم کو دیگر بلاک بسٹر فلموں کے مقابلے زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔

ڈاکٹر روزن کا کہنا ہے کہ ’اطلاعات کے مطابق اس فلم کا بجٹ 20 کروڑ ڈالر تھا۔ پروڈکشن اور سپیشل ایفیکٹس کے لیے اس میں اچھا کام کیا گیا ہے۔ تینوں ہدایتکار اچھے داستان گو ہیں اور چین میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔‘

چین، ہالی وڈ
،تصویر کا کیپشنہالی وڈ یا کسی دوسرے غیر ملکی فلمساز کے لیے چین میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں رہا

فلم کے ہدایتکار شین کیگ، سوئی ہارک اور ڈانٹے لیم بڑے فلمسازوں میں سے ہیں۔

سوئی سپیشل ایفیکٹس اور مارشل آرٹس کی فلموں کے لیے مشہور ہیں جبکہ لیم کی پذیرائی ان کے دھماکہ خیز اور ایکشن کے مناظر کے لیے ہے۔ شین چینی زندگی کے حساس موضوعات پر فلمیں بنا چکے ہیں۔

چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر ایک شخص نے لکھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ حب الوطنی کے جذبات ابھارنے والی فلم ہے لیکن میں اسے دیکھتے ہوئے رو پڑا تھا۔ یہ حقیقت پر مبنی محسوس ہوئی۔‘

ہالی وڈ کا دردِ سر

چین کی ایک مقامی فلم کی اتنی کامیابی غیر ملکی فلمسازوں جیسے ہالی وڈ کی مشکلات کا سبب بن رہی ہے جس میں وہ چین جیسی بڑی مارکیٹ میں ناکام ہو رہے ہیں۔

چین میں غیر ملکی فلموں کا کوٹا ہوتا ہے جس میں ہر سال صرف 34 غیر ملکی فلمیں دکھانے کی اجازت ہے۔

مگر اس کے بھی کچھ توڑ موجود ہیں، جیسے اگر ہالی وڈ کے فلمساز کسی چینی کمپنی کے ساتھ مل کر فلم بنائیں تو اسے اس کوٹے میں شامل نہیں کیا جاتا۔

گذشتہ برس ایک رپورٹ کے مطابق ہالی وڈ کے فلمساز چینی مارکیٹ کے لیے اپنی فلمیں سینسر بھی کر رہے ہیں۔ اکثر بیجنگ میں سینسر بورڈ کو خوش کرنے کے لیے فلم میں کاسٹنگ، کونٹینٹ، ڈائیلاگ اور کہانی کو بدل دیا جاتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود باکس آفس پر کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ بعض مشترکہ طور پر بنائی فلمیں ناکام بھی ہوئی ہیں۔

افسانوی ایکشن فلم ’دی گریٹ وال (2016)‘ بنانے والے ہدایتکار ژانگ یمو اور اداکار میٹ ڈیمن انڈسٹری میں کافی مقبول رہے ہیں۔ لیکن انھیں اس فلم کی ’سفید فام مسیحا کی کہانی‘ پر چین اور امریکہ دونوں میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان مشکلات کے باوجود ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غیر ملکی فلمساز اتنی جلدی ہار ماننے والے نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ چین اور ہالی وڈ کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر روزن کے مطابق ’کووڈ کے بعد چین نمبر ون فلم مارکیٹ بننا چاہتا ہے۔ اور اسے ہالی وڈ کی بہترین کارکردگی والی فلموں کی بھی ضرورت ہے، خاص کر وہ فلمیں جو آئمیکس یا تھری ڈی پر دیکھی جاتی ہیں جن کی ٹکٹوں کے دام زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے انھیں شمالی امریکہ کی مارکیٹ سے سبقت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘

’چینی فلموں کی پروڈکشن بہتر ہو رہی ہے جس کے ساتھ ہالی وڈ شاید غیر ضروری بنتا جائے۔ لیکن ہالی وڈ عالمی سطح پر کہانیاں بیان کرتا ہے جو چین نہیں کر سکتا یا ایسا نہیں کرے گا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.