ذلت آمیز شکست پر پشیمان امریکہ

اندھی نفرت ومحبت پر مبنی تقسیم کی شدت امریکہ میں پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔اس کے باوجود وہاں کے معتبر اخبارات ورسائل میں نائن الیون کے حوالے سے جو مضامین لکھے گئے ہیں ان کی کثیر تعداد نہایت خلوص سے چند بنیادی نکات پر اتفاق کررہی ہے۔

نیویارک کے سربفلک ورلڈ ٹرید سینٹر پر اغواکئے جہازوں سے جو حملہ ہوا وہ دل دہلادینے کی حد تک حیران کن تھا۔یہ دہشت گردوں کے جذباتی جنون کا اظہار نہیں بلکہ بہت مہارت سے تیار ہوئے طویل المدت منصوبے کا شاخسانہ بھی تھا۔جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے ہر خطے پر کڑی نگاہ رکھنے کی دعوے دار سپرطاقت مگر اس کا بروقت سراغ نہ لگاپائی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نائن الیون ہوجانے کے بعد اس کی حقیقی وجوہات کا ادراک کرتے ہوئے ان اداروں کو بھی جوابدہی کو مجبور کیا جاتا جو بے پناہ اختیارات ووسائل کیساتھ ہر شے پر نگاہ رکھنے کے دعوے دار بنے ہوئے تھے۔ طیش سے مغلوب ہوکر مگر امریکہ نے افغانستان پر جنگ مسلط کرنے کی ٹھان لی۔ بھرپور وحشت سے 20 سال تک جاری رہی یہ جنگ مگر اپنے اہداف حاصل کرنے میں قطعاََ ناکام رہی۔ طالبان فاتح کی حیثیت میں کابل لوٹ آئے ہیں۔امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کا انداز آخری لمحات میں انتہائی ذلت آمیز رہا۔

نائین الیون کی وجہ سے امریکی عوام میں ابلے جذبات پر غور کرتے ہوئے کامل بے بسی سے اب یہ اعتراف کیا جارہا ہے کہ افغانستان پر مسلط کردہ جنگ نے فقط اس ملک ہی کو قیامت خیز تباہی کا نشانہ نہیں بنایا۔امریکہ بھی انسانیت کی بنیادی اقدار سے بتدریج محروم ہونا شروع ہوگیا۔مسلمانوں کو بلااستثناء دہشت گردی کی علامت بنا دیا گیا۔فقط اپنے مذہبی شعائر پر قائم ہر مسلمان کو مشتبہ ٹھہرادیا گیا۔جاسوسی اداروں نے اس پر کڑی نگاہ رکھنے کے لئے مزید اختیارات حاصل کرلئے۔ اس کی نجی زندگی کا احترام باقی نہیں رہا۔

القاعدہ کے لئے کام کرنے کے شبے میں گرفتار افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔انہیں قانونی دفاع کے حق سے محروم رکھنے کے لئے گونتاناموبے نامی جزیرے میں جانوروں کی طرح پنجروں میں بند کردیا گیا۔انسانی حقوق کے حتمی نگہبان ہونے کے مدعی امریکہ نے ان میں سے چند افراد کو اپنے دوست ممالک کے عقوبت خانوں میں رکھ کر تفتیش کے جاں گسل مراحل سے گزارا۔امریکی پارلیمان کے حکم پر ہوئی تحقیق اگرچہ بعدازاں یہ تسلیم کرنے کو مجبور ہوئی کہ چند بے ضمیر ماہرینِ نفسیات کی مدد سے تیار ہوئے تفتیشی نسخے ملزمان سے ٹھوس معلومات اگلوانے میں اکثر ناکام رہے۔ گوانتاموبے میں رکھے کئی قیدیوں کو بالآخر رہا کرنا پڑا۔ ان میں سے چند اب طالبان حکومت میں اہم عہدوں پر بھی فائز ہوگئے ہیں۔

دودہائیاں گزرجانے کے بعد مابعد نائن الیون ماحول پر مضامین لکھنے والے دُکھی ہوئے اعتراف کررہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے امریکہ خود بھی کئی اعتبار سے وحشی ہوگیا ہے۔تعصب اور نسل پرستی وہاں شدید تر ہورہے ہیں۔2016ء کے انتخاب میں ٹرمپ جیسے شخص کی کامیابی بھی وحشی ہوئے امریکہ کا بھرپور اظہار تھی۔

پرخلوص خودتنقیدی کو کھلے دل سے سراہتے ہوئے تاہم میں یہ عرض کرنے کو مجبور محسوس کررہا ہوں کہ ان دنوں افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ کے لکھاری فقط مابعد نائن الیون معاملات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔یہ حقیقت فراموش کی جارہی ہے کہ نائن الیون بذات خود اس ’’جہاد‘‘ کا شاخسانہ بھی تھا جس کے طاقت ور ترین سرپرستوں میں امریکہ بھی شامل تھا۔ دسمبر1979ء میں جب کمیونسٹ روس کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو امریکہ نے عہد باندھ لیا کہ اسے وہاں گھیر کر نیست ونابود کردیا جائے۔ ویت نام کی ہار کا بدلہ لینے کے علاوہ مقصد یہ بھی تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں کھڑے کمیونسٹ بلاک کو شکست دی جائے۔امریکہ اس کی بدولت دنیا کی واحد سپرطاقت شمار ہو۔ دنیا کے بقیہ ممالک وہاں موجود نظام واقدار کی نقالی کو مجبور ہوجائیں۔

سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد تاہم امریکہ نے افغانستان کو بھلادیا۔مجاہدین کی جن سات تنظیموں کو وہ جدید ترین ہتھیاروں سے لڑنے کی تربیت دیتا رہا کمیونزم سے آزاد کروائے افغانستان کو مستحکم وخوش حال ملک بنانے کے بجائے ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوگئیں۔افغان جہاد کے کلیدی سرپرست یعنی پاکستان کو بھی بھلادیا گیا۔1990ء کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی الزام لگنا شروع ہوا کہ ہم خود کو ایٹمی قوت بنانا چاہ رہے ہیں۔ہمیں اس مقصد کے حصول میں ناکام کرنے کی خاطر اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔بتدریج ہم پر دہشت گردی کے سرپرست ہونے کے الزامات بھی لگنا شروع ہوگئے اور ایسا کرتے ہوئے انتہائی رعونت سے فراموش کردیا گیا کہ 1980ء میں امریکہ اور اس کے اتحادی کونسے عناصر کی دل وجان سے سرپرستی فرمارہے تھے۔

افغان جہاد کی سرپرستی کرتے ہوئے امریکہ نے 1980ء کی دہائی میں پاکستان کو بھی بدل دیا۔ہمارے ہاں بدترین آمریت کی حوصلہ افزائی ہوئی۔اسلام کی ایسی تعبیر ہماری نوجوان نسلوں کے ذہنوں میں کاشت کردی گئی جس نے ہمارے خطے میں صوفیا کی صدیوں کی لگن سے متعارف کروائی مذہبی رواداری کی روایت کا خاتمہ کردیا۔1980ء کی دہائی سے جاری ہوئی بے دریغ ذہن سازی ہمارے معاشرے کو آج بھی خوفناک انداز میں تقسیم کئے ہوئے ہے۔ ’’کافر سازی‘‘ کا رحجان شدید تر ہورہا ہے۔افغانستان کی بربادی اور پاکستانی ریاست ومعاشرے پر اس کے ناگہانی اثرات مگر مابعد نائن الیون معاملات کا جائزہ لیتے امریکی لکھاریوں کو محسوس ہی نہیں ہورہے۔پرخلوص خودتنقیدی ایک حوالے سے سفاکانہ خود غرضی بھی نظر آتی ہے جو فقط نائن الیون کے بعد پر تشدد ہوئے امریکی معاشرے پر ہی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔یہ رویہ مجھے یہ خدشہ دہرانے کو مجبور کررہا ہے کہ 1990ء کی دہائی کی طرح امریکہ ایک بار پھر ہمارے خطے کے معاملات سے لاتعلقی اختیار کرلے گا۔افغانستان میں ہوئی ہزیمت سے شرمسار ہوا امریکہ یہ چاہے گا کہ اپنی بقاء اور استحکام کے لئے غیر ملکی امداد کا ہر اعتبار سے محتاج ملک اب اس کی ذمہ داری نہ رہے۔وہاں اگر استحکام میسر نہیں ہوتا تو اس کے اثرات پاکستان جیسے ہمسائے اپنے تئیں بھگتیں ۔امریکہ ،ورلڈ بینک یا ا ٓئی ایم ایف کے بجائے روس اور خاص طورپر امریکہ کے ساتھ تیزی سے برابری کی طرف بڑھتا چین اپنے وسائل کا وافر حصہ افغانستان پر خرچ کریں۔ امریکہ کی حکمران اشرافیہ پر اعتماد ہے کہ مذکورہ ممالک ان کی طرح افغانستان میں کھلے ہاتھ سے پیسہ خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔گزشتہ 20برسوں میں تیار ہوا متوسط طبقہ ہی نہیں بلکہ عام افغانوں کی اکثریت بھی لہٰذا بالآخر معاشی استحکام اور خوش حالی کے امکانات تشکیل دینے میں ناکام نظر آتے طالبان کے خلاف ہوجائیں گے۔ ان کا غصہ بتدریج افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا رخ کرنا بھی شروع کردے گا۔ اپنی ذلت آمیز شکست سے پشیمان ہوا امریکہ ہمارے خطے میں حالات کو ہرگز پرامید بنانے کا متمنی نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *