ذہنی دباو اور نفسیاتی امراض۔۔۔ کسی کو خبر ہے؟

آج 10 اکتوبر، ساری دنیا میں ذہنی صحت(Mental health) کا دن منایا جا رہا ہے۔ حسب روایت پاکستان میں بھی یہ دن منایا جائے گا اور جب یہ کالم آپ کے سامنے ہو گا تو شاید آپ کو کسی تقریب کی کوئی تصویر بھی نظر پڑ جائے یا کسی وزیر صاحب کا بیان بھی۔ عالمی سطح پر یہ دن 1992 سے منایا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوام کو ذہنی صحت کی اہمیت اور تقاضوں سے آگاہ کیا جائے۔ اس کا آغاز ایک عالمی تنظیم "ورلڈ فیڈریشن فار مینٹل ہیلتھ" نے کیا لیکن اب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) بھی یہ دن منانے میں شراکت دار ہے۔ دنیا کے ایک سو پچاس ممالک، جو ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ معاہدے میں منسلک ہیں، یہ دن منانے اور اپنے اپنے انداز میں ذہنی صحت کی اہمیت اور اسے درپیش مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ہر سال اس عالمی دن کے حوالے سے کوئی نہ کوئی موضوع طے کیا جاتا ہے۔ اس سال کا موضوع ہے " ذہنی دباو۔۔ ایک عالمی بحران"۔ اگرچہ ذہنی دباو (Mental Stress) ہمیشہ ہی ایک اہم مسئلہ رہا ہے لیکن گزشتہ ڈیڑھ پونے دو سال کے دوران کاووڈ۔19 کی وبا نے ذہنی بیماریوں میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ غالبا اسی کے پیش نظر متعلقہ عالمی تنظیموں نے "ذہنی دباو" کو اپنا خصوصی موضوع بنایا ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف مینٹل ہیلتھ کے مطابق پاکستان کے 35 فی صد کے لگ بھگ شہری کسی نہ کسی قسم کے چھوٹے یا بڑے ذہنی عارضے کا شکار ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے جو پاکستان کی مجموعی آبادی کے حوالے سے سات کروڑ سے زیادہ بنتی ہے۔ ذہنی بیماریوں میں مبتلا سب سے بڑی تعداد صوبہ سندھ میں ہے جہاں 17 فی صد سے زائد پاکستانی کوئی نہ کوئی نفسیاتی عارضہ رکھتے ہیں۔ پنجاب میں یہ تعداد 9، بلوچستان میں 4، اور خیبر پختونخواہ میں 5 فی صد ہے۔ حیران کن حقیقت یہ بتائی گئی ہے کہ سڑیس اور ڈیپریشن کے شکار مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد لاہور میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئٹہ اور کراچی کا نمبر آتا ہے۔
ذہنی اور اعصابی دباو کے وہ سارے اسباب پاکستان میں پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں جو لوگوں کے سکون کو برباد کرتے اور انہیں کسی نہ کسی سطح کا ذہنی مریض بنا دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عارضے کا سب سے بڑا سبب غربت، معاشی مسائل، مہنگائی اور بے روزگاری ہیں۔ پاکستان میں چاروں اسباب نہایت تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ذہنی امراض میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ہماری 40 فیصد کے قریب آبادی عالمی معیار کے مطابق خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ تعداد آٹھ کروڑ سے ذیادہ بنتی ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ جو گھرانا، غربت کا شکار ہے، اسے کس کس نوعیت کے مسائل درپیش ہوں گے۔ پہلا مسئلہ تو دو وقت کی روٹی ہے۔ اگر روٹی کا مسئلہ حل ہو جائے تو پھر سر چھپانے کی جگہ، پہننے کے لئے کپڑے اور علاج معالجے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ان مسائل پر قابو پا لیا جائے تو والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بچوں کو تعلیم دلائی جائے۔ پھر روزمرہ کے اور اخراجات بھی ہیں۔ بجلی کا بل، گیس کا بل، شادی بیاہ اور ایسے ہی کئی دیگر متفرق اخراجات۔ خط غربت سے نیچے لڑھک جانے والے ان خاندانوں کے بھی کئی درجے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جو بڑی مشکل سے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کی گزر اوقات دہاڑی دار مزدوری پہ ہوتی ہے۔ مزدوری مل گئی تو روٹی بھی ملے گی ورنہ نہیں۔ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایسے خاندانوں پر کیا گزرتی ہو گی؟ اعداد و شمار سے تو یوں لگتا ہے جیسے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والا شخص ذہنی مریض بن چکا ہے۔ موجودہ دور میں مہنگائی ریکارڈ حد تک بڑھی ہے۔ آٹا، گھی، چینی، چاول، دال جیسی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔ سو یہ صورتحال ذہنی اور اعصابی دباو میں زبردست اضافہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ قانون و انصاف کے نظام کی زبوں حالی، معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس، بڑھتے ہوئے جرائم، گھریلو تشدد، سیاسی عدم استحکام، عمومی بے یقینی، گھر کا ماحول، کام کرنے کی جگہ کا ماحول، کام کی نوعیت، حادثات یا کوئی جسمانی بیماری بھی ذہنی تناو کے اسباب بن سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا اندازہ تھا کہ کاووڈ۔19 کے بعد ذہنی بیماریوں میں بہت اضافہ ہو گا اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کینسر سے موت کا شکار ہونے والوں سے بڑھ جائے گی۔ اس ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نفسیاتی مریض بڑھ رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تیرہ ہزار افراد ہر سال خود کشی کر لیتے ہیں۔ ان خود کشی کرنے والوں میں 95 فی صد افراد ذہنی مریض بتائے جاتے ہیں۔ ہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ فلاں خاتون نے اپنے معصوم بچوں کے ساتھ نہر میں کود کر خود کشی کر لی۔ یا فلاں مرد نے اپنے بیوی بچوں کو قتل کر دیا کیونکہ وہ تنگ دستی کا شکار تھا۔ یہ سب دراصل ذہنی مریض ہی ہوتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عام طور پر ذہنی یا نفسیاتی امراض کے حوالے سے نہ تو آتی جاتی حکومتوں نے کوئی نظام وضع کیا۔ نہ نفسیاتی عوارض کے حوالے سے کوئی قومی پالیسی بنی۔ نہ ہی عوام الناس کی آگاہی کے لئے کوئی ایسی مہم چلی جس طرح کی مہمات ڈینگی، کرونا جیسی وباوں کے بارے میں چل رہی ہیں۔ ایسی خبریں بھی آتی ہیں کہ فلاں گھر میں کسی بچے، یا بزرگ یا خاتون کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔ حکومت یہ کاروائی کرتی ہے کہ ایسا کرنے والے شخص کو بھی زنجیروں میں جکڑ دیتی ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ماہر نفسیات کی بھی شدید کمی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق چالیس لاکھ ذہنی مریض بچوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ آگاہی مہم کے لئے میڈیا بھی کوئی کردار ادا نہیں کر رہا۔ دواوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ نفسیاتی علاج گاہیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انگریز دور کے اکا دکا پاگل خانے ہی ان بد نصیب لوگوں کی علاج گاہیں ٹھہرتی ہیں۔
دیکھا گیا ہے کہ ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد بالخصوس بچوں اور خواتین کے لئے دم درود کرنے والے پیروں یا تعویذ فروشوں سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ان چیزوں سے شفا تو کم ہی ہوتی ہے البتہ مرض اور علاج دائرے میں ضرور داخل ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ذہنی مرض کو ندامت کا داغ سمجھا جاتا ہے اور اسے چھپایا جاتا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ حکومت اس اہم قومی مسئلے پر خصوصی توجہ دے۔ ذہنی علاج گاہوں کی سہولت بڑھائی جائے اور میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ذہنی دباو سمیت تمام نفسیاتی امراض کی وجوہات، علاج اور حفاظتی تدابیر سے آگاہ کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *