رائمہ اسلام: بنگلہ دیشی اداکارہ جن کے قتل کا راز پلاسٹک کی ایک ڈوری سے فاش ہوا

انتباہ: اس رپورٹ کے کچھ حصے آپ کی طبعیت پر گراں گزر سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں پولیس نے بتایا ہے کہ فلم اداکارہ رائمہ اسلام شمو کے قتل کا معمہ پلاسٹک کی ایک ڈوری سے ملنے والے شواہد کی مدد سے حل کر لیا گیا ہے۔ چند روز سے لاپتہ رائمہ اسلام شمو کی لاش دارالحکومت ڈھاکہ کے نواح سے ملی تھی۔

ڈھاکہ پولیس نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رائمہ اسلام کے شوہر اور قتل میں ان کی مبینہ طور پر معاونت کرنے والے ایک دوست کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈھاکہ کے ضلعی پولیس سپرنٹنڈنٹ معروف حسین سردار نے بتایا کہ قتل خاندانی جھگڑے کی وجہ سے ہوا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’لاش برآمد ہونے کے بعد ہم پیر کی رات ہی موقع پر گئے تھے۔ وہاں شک ہونے کے بعد ہم نے رائمہ کے شوہر اور ان کے ایک دوست سے پوچھ تاچھ کی۔ وہاں ملنے والے شواہد اور شک کی بنیاد پر ہم نے اُنھیں گرفتار کر لیا۔‘

پریس کانفرنس میں اُنھوں نے مزید تفصیل بتانے سے انکار کر دیا لیکن منگل کی رات بنگلہ دیش پولیس کی نیوز ویب سائٹ پر اس قتل، لاش کو ٹھکانے لگانے کی کوشش اور قتل کا راز کھلنے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

رائمہ اسلام
،تصویر کا کیپشن41 سالہ رائمہ اسلام نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1998 میں کیا تھا

پولیس نے ملزم کی شناخت کیسے کی؟

’پولیس نیوز‘ نامی اس ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ پولیس کو اس قتل کا معمہ حل کرنے کا راستہ 24 گھنٹوں کے اندر پلاسٹک کی ایک ڈوری کی مدد سے ملا۔

لاش کی شناخت کے بعد پولیس شواہد اکٹھا کرنے اداکارہ کے گھر پہنچی، وہیں اداکارہ کے شوہر کی گاڑی سے پلاسٹک کے تار کا ایک بنڈل ملا۔ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اسی ڈوری سے دو بوریوں کی سلائی کر کے اُنھیں جوڑا گیا تھا۔

گاڑی کو پانی سے دھویا گیا اور بدبو دور کرنے کے لیے بلیچ پاؤڈر کا سپرے کیا گیا، پولیس نے اس کا نوٹس لے لیا۔ اس کے بعد شوہر کو پوچھ تاچھ کے لیے روک لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا۔ اس کے بعد شوہر کے دوست کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

قتل اور لاش کو ٹھکانے لگانے کی کوشش

یہ واقعہ اتوار 16 جنوری کو پیش آیا تھا جب اداکارہ کو صبح آٹھ بجے گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ اس کے بعد شوہر نے لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے دوست کو بلایا۔

یہ دونوں ملزم باہر سے بوریاں لے کر آئے اور لاش کو اس میں ڈال کر پلاسٹک کی ڈور سے سی دیا۔ اس کے بعد چوکیدار کو ناشتہ لانے کے لیے باہر بھیج کر لاش کو اپنی گاڑی میں چھوڑ دیا۔ پہلے یہ میرپور کی جانب گئے لیکن لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے مناسب جگہ نہ ملنے پر یہ لوگ دوبارہ اپنے گھروں لوٹ آئے۔

اسی دن شام کو یہ لوگ دوبارہ ڈھاکہ کے علاقے محمد پور میں بچیلا پل سے گزرے اور علی پور پل سے 300 گز دور سڑک کے قریب جھاڑیوں میں لاش پھینک دی۔ تب رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔

پولیس نے دونوں ملزمان کو شراب پینے کا عادی اور بے روزگار بتایا ہے۔

بی بی سی بنگلہ سروس کا ملزمان یا ان کے اہلخانہ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

لاپتہ ہونے کے بعد تلاش

مقتول اداکارہ کی بہن فاطمہ نِشا نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ ہماری بہن کو کیوں مارا گیا، میری بہن اور اس کے شوہر کے درمیان ایسا کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ اس کی شادی کو 16 سال ہو چکے تھے، اس نے محبت کی شادی کی تھی۔‘

رائمہ اسلام شمو اپنے دو بچوں اور شوہر کے ساتھ ڈھاکہ میں رہتی تھیں۔ ان کی بہن نے بتایا کہ اتوار کو ان کا فون بند ہونے اور گھر واپس نہ آنے کے بعد اُنھیں شک ہوا۔ اس کے بعد ہسپتالوں اور تھانوں میں ان کی تلاش شروع کر دی گئی۔

منگل کو نامعلوم خاتون کی لاش برآمد ہونے کا علم ہونے پر وہ ہسپتال پہنچیں جہاں اُنھوں نے لاش کی شناخت کی۔ فاطمہ نشا نے کہا کہ جس نے بھی قتل کیا ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔

اس سے قبل پیر کی صبح اداکارہ کے شوہر نے بھی پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس میں اُنھوں نے بتایا تھا کہ اتوار کی صبح ان کی بیوی کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکل گئی تھیں۔

41 سالہ رائمہ اسلام نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز سنہ 1998 میں کیا تھا۔ اُنھوں نے 25 سے زائد فلموں میں اداکاری کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.