رائٹ ٹو انفارمیشن: پاکستان میں معلومات تک رسائی میں افسر شاہی رکاوٹ؟

پاکستان میں صوبہ سندھ کے ضلع عمرکوٹ کی طالبہ ایسراں مالھی نے ضلعی ہسپتال کو ایک درخواست لکھ کر دریافت کیا کہ ہسپتال کا سالانہ بجٹ کتنا ہے اور ادویات کی مد میں کتنے اخراجات ہوتے ہیں۔

انھیں ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اپنے سوالات کے تحریری جوابات مل گئے اور ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ انھوں نے یہ درخواست صوبہ سندھ کے ’معلومات تک رسائی‘ کے قانون کے تحت دی تھی۔

ایسراں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کو بھی ایک درخواست بھیجی اور ملازمتوں کے اشتہارات میں اقلیتی کوٹے پر سوال اٹھایا اور یہ بھی معلوم کیا کہ ملازمتوں سے متعلقہ کتنے اشتہارات میں اقلیتوں کا کوٹہ واضح طور پر درج کیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ کمیشن نے انھیں آگاہ کیا کہ ملازمتوں کے اشتہارات میں اقلیتی کوٹے کی بھی تشہیر کی جاتی ہے۔

ایسراں کو معلومات تک رسائی کے قانون اور طریقہ کار کے بارے میں نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کی تربیت کے ذریعے معلوم ہوا تھا۔

’بعض سرکاری ادارے جواب نہیں دیتے‘

بوٹا امتیاز حیدرآباد کے سابق اقلیتی کونسلر ہیں۔ انھوں نے اسی قانون کے تحت معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف صوبائی اداروں کو 50 کے لگ بھگ درخواستیں دیں تاہم بشمکل 10 فیصد درخواستوں کے تحریری جوابات انھیں موصول ہوئے۔

بوٹا امتیاز کے مطابق انھوں نے فروری 2019 میں بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد سے معلوم کیا تھا کہ سنہ 2016 سے لے کر سنہ 2018 تک حیدرآباد کی اقلیتی کالونیوں کے لیے کتنا ترقیاتی فنڈ مختص کیا گیا اور جو فنڈ مختص ہوا ان سے کیا کام کروائے گئے، لیکن متعلقہ محکمے کی جانب سے انھیں اس درخواست کا جواب نہیں دیا گیا۔

بوٹا کہتے ہیں کہ ’قانون کے مطابق اگر 15 روز میں جواب نہ آئے تو نظر ثانی کی درخواست دی جاتی ہے۔ میں نے وہ بھی جمع کروائی جس کا 30 روز میں جواب دینا ہوتا ہے، لیکن وہ بھی نہیں آیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور درخواست لکھی اور اس کی کاپی کمشنر حیدرآباد اور ڈپٹی کمشنر کو بھی بھیجی جس پر کمشنر نے لیٹر لکھ کر معلومات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔‘

بوٹا امتیاز کو امید ہے کہ کمشنر کے احکامات کے بعد اب جلد ہیں انھیں جواب مل جائے گا۔

بوٹا کا کہنا ہے سندھ انفارمیشن کمیشن کا اعلان ہوا، کمشنر بھی تعینات ہو گئے لیکن ان کا کوئی دفتر ہی نہیں تھا۔ اس لیے وہ قانون کے مطابق کمیشن کو شکایت نہیں کر سکے جبکہ حال ہی میں اخبارات میں اشتہار آیا ہے کہ کمیشن شکایت سن رہا ہے۔

سندھ انفارمیشن کمیشن کے قیام میں تاخیر

سندھ اسمبلی

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی میں سنہ 2016 میں معلومات تک رسائی اور شفافیت کا بل پیش کیا گیا تھا جو مارچ 2017 کو منظور ہونے کے بعد قانون بن گیا اور اپریل میں اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ اس قانون کے تحت 100 روز میں سندھ انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں آنا تھا تاہم اس میں تاخیر ہوئی۔

اس تاخیر کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے عدالت سے رجوع کیا گیا جس کے بعد کمیشن کا قیام عمل تو آ گیا مگر یہ ادارہ اب تک فعال نہیں ہو سکا ہے۔

سندھ انفارمیشن کمیشن کے کمشنر سکندر ہلیو کا کہنا ہے کہ جب کمیشن تشکیل دیا گیا تو ایک ہفتے کے بعد نگران حکومت آ گئی اور اس دوران اس معاملے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی مگر فائلز آگے پیچھے ہی ہوتی رہیں۔

’بیورو کریسی کا رکاوٹ میں اہم کردار ہے۔ اس میں معلومات نہ دینے والا عنصر بھی شامل تھا۔ کمشنروں کی تعیناتی ہو گئی لیکن ان کے دائرہ اختیار منظور نہیں ہوئے اور بیورو کریسی نے اعتراضات لگا دیے کہ پہلے سندھ کابینہ سے ضابطہ کار منظور کروائیں اور جب یہ بھی ہو گیا تو پھر بھی کاغذات آگے پیچھے ہوتے رہے۔‘

قانون کے مطابق سندھ انفارمیشن کمیشن کا سربراہ ریٹائرڈ جج یا ہائی کورٹ کا جج بننے کی قابلیت رکھنے والا شخص ہو گا جبکہ دو اراکین میں ایک گریڈ 20 کا سرکاری افسر ہو گا، جس کی عمر 65 برس سے زائد نہ ہو، اور ایک سول سوسائٹی کا نمائندہ ہو گا۔

حال ہی میں سندھ انفارمیشن کمیشن کو ایک دفتر فراہم کیا گیا ہے، جہاں محدود سٹاف تعینات ہے۔ کمشنر سکندر ہلیو نے بتایا کہ ان کے محکمے کے پاس بجٹ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے وہ سٹاف بھرتی نہیں کر سکتے۔ عارضی انتظام کے تحت محکمہ اطلاعات نے دو اسسٹنٹس کی خدمات کمیشن کو دی گئی ہیں جو فی الحال کام کر رہے ہیں۔

معلومات تک رسائی کیسے؟

معلومات

سندھ کے معلومات تک رسائی کے قانون کے مطابق تمام محکموں میں پبلک انفارمیشن افسران تعینات کیے جائیں گے۔ شہری انھیں درخواستیں جمع کروائیں گے اور اگر ان افسران کی تعیناتی نہیں ہوئی تو محکمے کے سربراہ کو درخواست بھیجی جائے گی۔

کمشنر سکندر ہلیو کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شہری ایک سادہ کاغذ پر درخواست میں اپنے نام، پتے اور شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ متعلقہ محکمے سے مطلوبہ معلومات کی تفصیلات مانگ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرکاری محکموں نے ابھی تک پبلک انفارمیشن افسران تعینات نہیں کیے گئے اور ان کے پاس معلومات کی عدم فراہمی پر 18، 20 شکایت آئی ہیں جو متعلقہ محکموں کو بھیجی جا چکی ہیں، لیکن ادارے جواب نہیں دیتے۔ ’شاید وہ خود کو اس کا پابند نہیں سمجھتے لہٰذا ہمیں ان افسران کی تربیت کرنی ہے کہ قانون کے مطابق آپ معلومات دینے کے پابند ہیں۔‘

اختیارات بہت مگر وسائل کی کمی

سندھ میں سنہ 2006 میں بھی معلومات تک رسائی کا قانون منظور کیا گیا تھا لیکن اس کے قواعد و ضوابط نہیں بنائے گئے تھے اور 10 برس بعد یعنی سنہ 2016 میں اسی قانون کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک نیا بل پیش کیا گیا۔

یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان میں معلومات تک رسائی کا سنہ 2005 کا قانون نافذ ہے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں یہ قانون سنہ 2013 میں نافذ کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے معلومات تک رسائی کا قانون سنہ 2017 کو پارلیمان سے منظور کروایا تھا۔

بلوچستان میں متعلقہ معلومات کے حصول کے لیے نیشنل بینک میں 50 روپے جمع کروانے ہوتے ہیں، جس کے بعد ابتدائی 10 صفحات فراہم کیے جاتے ہیں اور اضافی صفحات کے لیے فی صفحہ پانچ روپے فیس ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ابتدائی صفحات کے لیے کوئی فیس نہیں۔ سندھ میں اس حوالے سے کوئی فیس نہیں تاہم پوسٹ کے اخراجات درخواست گزار کو برداشت کرنے ہوتے ہیں۔

وفاقی حکومت کے انفارمیشن کمیشن کے کمشنر زاہد عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں آج تک 265 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں اداروں کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے کی شکایت کی گئی ہے۔ یہ درخواستیں نیشنل اسمبلی، سینیٹ، نادرا، نیشنل بینک آف پاکستان، کنٹونمنٹ بورڈ اور ریلوے کے بارے میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے ان محکموں کو نوٹسز جاری کیے اور سماعت کی جس کے بعد 130 درخواست گزاروں کو متعلقہ معلومات فراہم کر دی گئیں۔

’وفاقی کمیشن کے قیام کو ایک سال ہونے کے باوجود ہمیں سٹاف فراہم نہیں کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سمری بھیج دی ہے لیکن وزارت خزانہ آسامیوں کی منظوری نہیں دے رہا۔ ہمارے پاس 30 پوسٹوں کی گنجائش ہے۔ سیاسی قیادت کی خواہش تھی اسی لیے یہ قانون بنایا گیا لیکن بیورو کریسی کی رکاوٹیں ہیں، وہ فیصلہ لینے میں بڑی دیر لگاتے ہیں۔‘

سندھ اور بلوچستان کی طرح وفاقی محکموں کی جانب سے بھی پبلک انفارمیشن افسران تعینات نہیں کیے گئے ہیں۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا کی معلومات تک رسائی کی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں درخواست کے نمونے، طریقہ کار اور رہنمائی سمیت متعلقہ قانون اور معلومات دستیاب ہے۔ تاہم وفاقی حکومت، سندھ اور بلوچستان کا ویب پورٹل نہیں ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے کمیشن کے بجائے محتسب اعلیٰ کو کمپلینٹ اتھارٹی بنایا ہے۔

خیبر پختونخوا: اندھوں میں کانا راجہ

معلومات

’سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلیپمنٹ انیشیئیٹو‘ کے عامر اعجاز کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت کے پاس قانون موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد بہت سست روی کا شکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں ابھی تک سنہ 2005 کا ہی قانون چل رہا ہے جو معلومات تک محدود رسائی دیتا ہے۔ ’بلوچستان کے حوالے سے یہ ہی مطالبہ رہا ہے کہ اس قانون کو منسوخ کر کے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرح پروگریسو قانون بنانا چاہیے۔‘

’انفارمیشن کمیشن بنا تو دیے ہیں لیکن مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ اسی لیے یہ کمیشن نہ تو پبلک انفارمیشن افسران کی تربیت کر پاتے ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر کوئی مہم چلا پاتے ہیں۔ سرکاری افسران کی تربیت معلومات کو چھپانے والی ہوتی ہے۔ کمیشن اور سول سوسائٹی کو ان مشکلات کا بھی سامنا ہے۔‘

عامر اعجاز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے انفارمیشن کمیشن میں 46 آسامیاں مختص ہیں لیکن اس وقت صرف پانچ لوگ کام کر رہے ہیں، گذشتہ مالی سال میں عوام کی اس حوالے سے آگاہی کے لیے کچھ بجٹ دیا گیا تھا لیکن اگلے سال وہ بھی روک دیا گیا۔

’یہ درست بات ہے کہ پاکستان میں رائٹ ٹو انفارمشن کی صورتحال سب سے بہتر خیبر پختونخوا میں ہے لیکن یہ اندھوں میں کانا راجہ والی بات ہے۔ اگر اس کو الگ دیکھیں گے تو وہاں بھی کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے، وہاں بھی سرکاری اداروں کا جواب بہت سست ہے۔‘

معلومات کی مدت معیاد ہوتی ہے

کمیشن کے قیام میں تاخیر اور سہولیات کے فقدان سے شہریوں کے معلومات تک رسائی کا حق بھی متاثر ہو رہا ہے۔

عامر اعجاز کا کہنا ہے کہ کمیشن کو 60 دن میں فیصلے لینے ہیں لیکن پنجاب میں بہت سارے ایسے کیسز ہیں جن میں دو، دو سال بھی لگ گئے لیکن کمیشن کوئی فیصلہ نہیں کر پایا کیونکہ سرکاری ادارے جواب ہی نہیں دیتے۔

’معلومات کی ایک مدت معیاد ہوتی ہے جو معلومات مجھے آج چاہیے اگر وہ دو سال کے بعد مہیا کی جائے گی تو وہ میرے کام کی نہیں ہے۔ جو فیصلہ 60 دن میں ہونا ہو اگر وہ 500 دن میں ہو گا تو لوگوں کی دلچسپی کم ہو جائے گی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *