Site icon Dunya Pakistan

رات کا آخری پہر اور کھڑکی سے باہر کا نظارہ

"ظریف بلوچ"

رات کا آخری پہر تھی،شہر کے تنگ و تاریکی گلیوں میں بتیاں بجھ چکی تھیں،اندھیری رات میں ستاروں کی جھرمٹ کی روشنی زمین پر پڑنے سے پہلے مدہم ہورہی تھی۔ شدید حبس اور نمی کی وجہ سے ٹھنڈی ہواؤں نے اپنا رخ بدل دیا تھا، شور و غل تھا اور نہ ہی کتوں کی بھونکنے کی آواز۔
ہر طرف خاموشی کا سماں تھی اور یہ خاموشی اندھیری رات کو مذید بھیانک بنارہا تھا، تنگ گلیوں میں کوئی گاڑی اور موٹر سائیکل نظر نہیں آرہا تھا۔ غریب اپنی جھونپڑیوں اور امیر عالیشان بنگلوں میں خواب کے مزہ لے رہے تھے۔ رات کی تاریکی میں سب اپنے دکھ درد بھول کر ایک نئی صبح کی منتظر تھے۔
میں کھڑکی کےقریب بیٹھے باہر کا نظارہ دیکھنے کی کوشش کررہا تھا، رات اندھیری ہونے کی وجہ سے مجھ کچھ نظر نہیں آرہاتھا۔ موبائیل کی گھنٹی بار بار بج رہی تھی اسی ڈر سے موبائیل کو دیکھنا اس لئے گوارہ نہیں سمجھا کہ رات کےاس پہر میں کسی کا مدد نہیں کرسکتا، میں نے پردہ ہٹا کر کھڑکی کا شیشہ کھولا اور کھڑکی سے باہر کے نظارے کو دیکھنے لگا کیونکہ اب صبح کے چار بجنے والا تھے۔ یہی سمجھا کہ اب تاریک گلیوں کے رونقیں بحال ہونے کے بعد طلوع آفتاب کے مناظر کو قریب سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ کھڑکی سے باہر کے نظارے کو قریب سے دیکھ لیتا ہوں۔
وقت کی سوئی چونکہ کسی کا انتظار نہیں کرتا جیسا کہ سمندر کی لہریں، اب تنگ اور تاریک گلیوں میں روشنی کے آثار نمودار ہورہے تھے اور مجھے بھوک بھی لگی تھی، وٹس ایپ میں درجنوں پیغامات پڑے ہوئے تھے،کجھور کے کچھ دانے کھاکر میں موبائیل کو بار بار ٹٹولتا رہا،جس میں ایک پیغام کو میں بار بار پڑھتا رہا۔
پاگل نما آدمی کل دوپہر دو بجے قبرستان کے عقبی دیوار کے قریب میں تمھارا انتظار کروں گی کیونکہ تمھیں میری ادھوری کہانی تخلیق کرنا ہے۔
ایک اور پیغام میں کسی اجنبی نے لکھا تھا میں سمجھ رہی تھی کہ آپ سحری کے لئے اٹھے تھے۔ میں نے صرف اتنا کہہ کر موبائیل کو آف کردیا تجھے یاد کرتے کرتے بھوک لگی تھی اور اب کجھور کے کچھ دانے کھانے کے بعد میں سونے کا بہانہ کروں گا، کیونکہ مجھے ادھورے خوابوں کی تکمیل کے لئے کچھ لمحے بعد یہاں سے نکلنا ہوگا۔ تم سلامت رہو یہی میرے لئے کافی ہے،کیونکہ ہم دونوں کا منزل ایک ہی اور راستے الگ الگ۔ مجھے منزل تک پہنچانا ہے اور تمھیں کسی کو پانا ہے۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ اماں چائے کی کپ لئے کھڑکی کے باہر کھڑی تھی اور میری آنکھوں کو سرخ دے کر کہنے لگی ابا آج پھر رات جاگ کر گزاری ہے؟
میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ اماں میں ابھی نیند سے بیدار ہوا ہوں کیونکہ مجھے آج کسی گمنام جنگل میں جانا ہے اور کچھ ادھوری کہانیوں کو نئے سرے سے لکھنا ہے،کیونکہ کچھ کردار میری منتظر ہیں۔۔۔۔

Exit mobile version