Dunya Pakistan

راجنی چاندے: 69 برس کی انڈین اداکارہ کو ’سیکسی‘ تصاویر بنوانے پر تنقید کا سامنا

جب راجنی چاندے نے حال ہی میں فیس بک پر اپنی دلکش تصاویر پوسٹ کیں تو اس وقت ان کے ذہن میں بھی نہیں ہوگا کہ وہ اتنی وائرل ہو جائیں اور پھر انٹرنیٹ پر ٹرولز ان کا مذاق اڑائیں گے۔

ان تصاویر میں گھریلو خاتون سے اداکارہ بننے والی راجنی چاندے نے، جو عام طور پر رنگ برنگی باوقار ساڑھیاں پہنے دکھائی دیتی ہیں، جمپ سوٹ (تیراکی والا لباس)، لانگ ڈریسز اور جینز پہن رکھی ہے۔ تصاویر میں انھوں نے سر پر سفید رنگ کے تازہ پھولوں کا تاج پہنا ہوا تھا۔

وہ انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالا میں رہتی ہیں جہاں کے مقامی میڈیا نے اس لباس کو دلیرانہ اور خوبصورت قرار دیا ہے۔ تاہم وہاں ان تصاویر نے کئی لوگوں کو حیرت میں بھی مبتلا کیا ہے۔

یہاں اکثر خواتین ساڑھی یا روایتی لانگ سکرٹس پہنتی ہیں۔

راجنی چاندے نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سب 29 برس کے فوٹو گرافر اتھیرا جوئے کا خیال تھا جو غیر روایتی کام کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔

اتھیرا جوائے کے مطابق انھیں اس جانب توجہ اداکارہ کے بارے میں اس خیال نے مبذول کروائی کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ اپنی ماں سے کتنی مختلف ہیں۔

ان کے مطابق انڈین خواتین اپنی زندگی شادی اور بچے پالنے والی قید میں ہی بسر کر دیتی ہیں۔ ان میں سے اکثر 60 برس تک جب پہنچ جاتی ہیں تو پھر وہ زندگی میں کچھ کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیتی ہیں۔ اس وقت تک وہ اپنے نواسوں کی نانیاں بن جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی 65 برس کی ماں صحت کے ان تمام مسائل سے گزری ہیں، جن سے انڈیا میں 60 سال کے بعد خواتین کو سامنا ہوتا ہے۔

’تاہم راجنی چاندے کا معاملہ اور ہے۔ وہ اپنا خیال رکھتی ہیں، وہ بہت فِٹ ہیں، بہادر ہیں، خوبصورت ہیں اور فیشن کرنے والی ہیں۔ وہ ہیں تو 69 کی، لیکن دماغ سے وہ میری طرح 29 کی ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشنراجنی چاندے کے مطابق یہ تصاویر تفریحی مقاصد کے لیے تھیں

کیرالا کے روایتی معاشرے میں راجنی چاندے ہمیشہ سے ہی نمایاں رہیں۔

سنہ 1995 میں پہلی بار جب وہ ممبئی آئیں، جہاں ان کے شوہر ایک غیر ملکی بینک میں ملازمت کرتے ہیں، تو انھوں نے جینز پہنی ہوئی تھی۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ بغیر بازو والی قمیض پہننے پر ایک بار ان کی سرزنش بھی کی گئی تھی۔

گذشتہ کچھ برسوں کےدوران وہ لباس میں اپنے غیر روایتی انتخاب کی وجہ سے خبروں میں رہی ہیں۔

سنہ 2016 میں جب وہ 65 برس کی تھیں تو انھیں ملیالی زبان کے ایک کامیڈی ڈرامے میں اداکاری کی۔ اس کا نام تھا ’موتھاسی گادا‘ یعنی نانی کا میس۔

اس کے بعد انھوں نے دو مزید فلموں میں کام کیا اور گذشتہ سال انھوں نے بگ باس کے سیکنڈ سیزن میں بھی شرکت کی (یہ ملیالی زبان کے بگ برادر کا ورژن تھا(۔

راجنی چاندے کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس وجہ سے تصاویر بنوائیں تاکہ وہ معمر افراد کو یہ یقین دلا سکیں کہ وہ اب بھی اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

زیادہ تر نوجوان جوڑے اپنے بچے پالنے میں جوانی صرف کر دیتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے وہ اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد انھیں محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے قابل نہیں رہے ہیں۔ وہ اس بات سے بھی پریشان رہتے ہیں کہ اب وہ یہ کریں گے تو معاشرہ کیا کہے گا۔

راجنی کہتی ہیں کہ میرے خیال میں آپ کو وہی کرنا چاہیے جو آپ کرنا چاہتے ہیں، جب تک کہ اس سے کسی کے نقصان کا احتمال نہ ہو۔

ان کے مطابق انھوں نے اپنی خاندانی اور سماجی ذمہ داریاں بخوبی نبھائی ہیں اور ’اب میں صرف وہ کر رہی ہوں جو مجھے خوشی دے۔‘

’میں ڈرم بجانا بھی سیکھ رہی ہوں۔ میں ایسا مہارت کے لیے نہیں کر رہی ہوں بلکہ میں یہ صرف لطف اندوز ہونے کے لیے کر رہی ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان تصویروں کا مقصد صرف تفریح حاصل کرنا تھا۔

راجنی چاندے نے بتایا کہ دسبمر میں اتھیرا نے انھیں بتایا کہ یہ صرف تب ممکن ہوگا اگر وہ فوٹو شوٹ میں دلچسپی رکھتی ہوں اور مغربی لباس پہن کر کریں گی۔

’میں نے کہا نہیں، میں تو اس وقت یہ سب پہنتی تھی جب میں نوجوان تھی۔ میں نے انھیں کہا کہ میری تو سویم سوٹ میں بھی تصاویر ہے۔‘

،تصویر کا کیپشنفوٹو گرافر اتھیرا جوئے اور راجنی چاندے

انھوں نے اتھیرا کی تجویز کو پسند کیا۔

باہر اپنے سفر کے دوران ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیشہ معمر خواتین کی تعریف کی ہے جو عمر کی قید کی پرواہ کیے بغیر زندگی سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق ’میں نے فوٹو گرافر کو بتایا کہ اگر میرے خاوند نے اجازت دی تو تب ہی ایسا کر سکتی ہوں۔‘

جب انھوں نے اپنے خاوند سے اس متعلق بات کی تو انھوں نے جواب دیا کہ ’یہ آپ کی زندگی ہے، اگر آپ ایسا کرنا چاہتی ہیں تو مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

راجنی چاندے کا کہنا ہے کہ جب پہلی مرتبہ انھوں نے فوٹوگرافر اتھیرا کی طرف سے ایک بوتیک سے کرائے پر لیے کپڑے دیکھے تو انھیں تعجب ہوا۔

ان کے مطابق انھوں نے طویل عرصے تک ’ایسے سیکسی انداز میں کپڑے نہیں پہنے تھے۔ مگر جب وہ پہن لیے تو پھر انھیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔

یہ 20 تصاویر گذشتہ ماہ کے آخری دنوں میں راجنی چاندے کے کوچی میں واقع شاندار گھر پر کھینچی گئیں۔

جب ایک بار یہ تصاویر فیس بک اور انسٹا گرام پر گذشتہ ہفتے وائرل ہوئیں تو پھر ان کے گھر تحائف اور گلدستے پہنچنا شروع ہو گئے۔ مقامی میڈیا نے بھی ان فوٹوز کو خوب کوریج دی۔

،تصویر کا کیپشنراجنی چاندے کے مطابق یہ تصاویر معمر افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے ہیں

ان تصاویر پر ہزاروں تعریفی تبصرے بھی تھے۔

لوگوں نے لکھا کہ ’آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ عمر تو بس ہندسوں کا کھیل ہے۔ کئی لوگوں نے انھیں بہت بہادر، حیرت انگیز، ہاٹ (دلکش) اور خوبصورت کہا۔‘

بہت سے افراد نے ان کے اعتماد کو سراہا اور ان کے چاہنے والوں نے ان کا فون نمبر ڈھونڈ کر انھیں واٹس ایپ پر بتایا کہ ’آنٹی آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔‘

مگر جلد ہی اس پر ناراضی کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا جو اب بھی جاری ہے۔

انھیں ’بد چلنی‘ کے طعنے دیے گئے۔

کسی نے مجھ سے پوچھا کہ ’کیا آپ ابھی تک مر نہیں گئی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کسی نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ میں گھر پر بیٹھ کر بائبل کا مطالعہ کروں۔۔۔ یہ آپ کی عبادت کی عمر ہے، یہ جسم عریاں کرنے کی عمر نہیں ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میں ایک آٹو رکشا ہوں اور اگر مجھے پھر سے بھی رنگ کر دیا جائے تو بھی میں پرانی ہی رہوں گی۔‘

سوشل میڈیا پر ٹرولز دو تصاویر پر بہت مشتعل ہوئے۔ ایک تصویر میں انھوں نے پھٹی ہوئی جینز پہنی ہوئی ہے اور اپنی ٹانگیں کھول کر بیٹھی ہوئی ہیں۔

دوسری تصویر میں انھوں نے مختصر لباس (ڈینم ڈریس) پہن رکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت بری ہے کیونکہ یہ میری ٹانگوں کو عریاں کرتا ہے۔‘ پھر وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میری ٹانگیں اچھی ہیں لہٰذا میں اس پر پریشان نہیں ہوں۔‘

ایک لمحے کے بعد ہی انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ ’بے رحمانہ ٹرولنگ اور منفی تبصرے انھیں پریشان کر دیتے ہیں۔ اور یہ حقیقت کہ ذیادہ تر گالیاں خواتین کی جانب سے سننے کو ملیں۔‘

ان کے مطابق ’بہت سے نوجوان افراد معمر خواتین کے پُرکشش دکھنے سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے کہ وہ خواہشات پوری کرنے کا سامان ہیں۔

’میرے لیے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ زیادہ تر تبصرے خواتین کی طرف سے کیے گئے تھے۔‘

،تصویر کا کیپشنراجنی چاندے

ان کے مطابق حسد کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔ ’یہ ایسی خواتین ہیں جن کی عمر 40 یا 50 سال ہے، جو اپنا خیال نہیں رکھ پاتیں۔ وہ ان عمر رسیدہ خواتین جو ابھی بھی اچھی نظر آ رہی ہوں سے ڈیل نہیں کر سکتیں۔‘

نیوز ویب سائٹ آرٹیکل 14 کی جینڈر ایڈیٹر نمیتا باندرے نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ حسد بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تمام خواتین فیمنسٹ نہیں ہوتیں۔‘

’ہماری مائیں اور اور دادیاں، نانیاں مرد کی سربراہی والے خاندان کی رکھوالی کرتی ہیں۔‘

ان کے مطابق عالمی سطح پر جیسے ہی خواتین کی عمر بڑھتی جارہی ہوتی ہے تو انھیں سیکس ازم اور زیادہ عمر کی دوہری کشمکش کا سامنا ہے۔ ’مگر انڈیا میں ہم بڑی عمر کی خواتین کو پوشیدہ نہیں رکھتے۔‘

’میرے خیال میں انڈیا میں زیادہ عمر خواتین کے فائدے میں جاتی ہے۔

’معمر خواتین، ہماری دادیاں اور نانیاں خاندان میں ایک خاص رتبے سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ ہم ان کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ دقیانوسی طرز کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔

’وہ مکمل لباس پہنتی ہیں۔ اگر وہ بیوہ ہیں تو پھر وہ سفید لباس زیب تن کرتی ہیں اور انھیں جنسی لذت کے ذریعے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔‘

’اب اگر ایک دادی اپنی ٹانگوں کے درمیانی حصے یا گوشت کو ظاہر کرے گی تو وہ ایسی رسومات کو پامال کرتی ہے۔ وہ ایک مروجہ طریقہ کار سے باہر نکل رہی ہوتی ہے اور پھر وہ ایسے ہی دیکھی جاتی ہے۔‘

راجنی چاندے کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے فوٹوز وائرل ہو جائیں گے اور یا پھر انھیں اس طرح ٹرول کیا جائے گا۔

’میں کھل کر بات کرتی ہوں اور اس وجہ سے ممکن ہے کہ بہت سے لوگ مجھے پسند نہ کرتے ہوں۔ مگر میں انھیں بتانا چاہتی ہوں کہ مجھ پر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے آپ اپنی توانائی اپنی دھرتی، ملک یا دنیا کے لیے کسی اچھے کام پر کیوں نہیں صرف کرتے۔‘

Exit mobile version