رجب طیب اردوغان: یورپی سفیروں کا ویانا کنوینشن پر عمل کرنے کا اعادہ، ترک صدر اردوغان کا خیر مقدم

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے یورپی ممالک کے سفیروں کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انھوں نے ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 41 کی مکمل پاسداری کا اعادہ کیا ہے۔

ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 41 کے تحت کوئی ایسا شخص جسے کسی ملک میں سفارتی استثنیٰ اور مراعات حاصل ہوں وہ اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

امریکہ سمیت دس یورپی ممالک کے سفیروں کی جانب سے سماجی کارکن عثمان کوالہ کی فوری رہائی کے مطالبے کے بعد ترک صدر نے ان سفیروں کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ ترکی نے ان سفیروں کو ملک سے نکالنے کی تنبیہ کی تھی۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو نے ترکی کے صدراتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر اردوغان نے یورپی سفیروں کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترکی میں یورپی سفیروں کے تازہ بیان کو اپنے 18 اکتوبر کے بیان سے پیچھے ہٹنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

ترکی میں امریکی، کینیڈا اور نیدرلینڈ کے سفارت خانوں کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 41 کی مکمل پاسداری کریں گے۔

سماجی کارکن عثمان کوالہ 2017 سے ترکی کی جیل میں ہیں۔ پہلے انھیں 2013 میں حکومت مخالف احتجاج کو منظم کرنے کے الزام میں جیل میں بند کیا گیا تھا۔

عثمان کوالہ کو گذشتہ برس سنہ 2013 میں ملک گیر احتجاج کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا مگر اُنھیں تقریباً فوراً ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بری کرنے کا فیصلہ معطل کر کے اُن کے خلاف سنہ 2016 میں اردوغان حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے الزامات عائد کر دیے گئے تھے۔

عثمان کوالہ اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہیں اور اردوغان حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اُن کا معاملہ ’اختلافی آوازوں کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن کی مثال ہے‘۔

یورپی کورٹ آف ہیومین رائٹس نے 2019 میں اپنے ایک فیصلے میں عثمان کوالہ کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

گذشتہ ہفتے امریکہ، کینیڈا، فرانس، فن لینڈ، ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن نے سماجی کارکن کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ان میں سے سات ممالک ترکی کے نیٹو اتحادی ہیں۔

یورپ میں انسانی حقوق کے مرکزی ادارے کونسل آف یورپ نے ترکی کو وارننگ دی ہے کہ وہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے عثمان کوالہ کی رہائی کے حکم کی تکمیل کرے۔

اردوغان، ترکی
،تصویر کا کیپشنصدر اردوغان نے سنیچر کو ایک مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سفیر ترک وزارتِ خارجہ آ کر حکم نہیں دے سکتے

مگر سنیچر کو ایک عوامی مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ سفیر 'ترک وزارتِ خارجہ آ کر حکم دینے کی جرات نہیں کر سکتے۔'

اُنھوں نے کہا تھا کہ 'میں نے ہمارے وزیرِ خارجہ کو ضروری حکم دے دیا تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔ ان دس سفیروں کو فوراً ناپسنیدہ شخصیت قرار دینا ہوگا۔'

ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوغان نے کہا تھا کہ سفیروں کو یا ترکی کو سمجھنا ہوگا یا ترکی چھوڑنا ہوگا۔

ترک حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا۔

سفارت خانوں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں عثمان کوالہ کے ٹرائل میں 'مسلسل تاخیر' پر تنقید کی گئی تھی جو اُن کے مطابق 'جمہوریت کی عزت، اور ترک عدالتی نظام میں قانون کی بالا دستی اور شفافیت کو گہنا' رہا ہے۔

ترک وزارتِ خارجہ نے گذشتہ منگل کو ان سفیروں کو عثمان کوالہ کے معاملے پر 'غیر ذمہ دارانہ' بیان دینے پر احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔

ناروے کی وزارتِ خارجہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اُن کے سفیر نے 'ایسا کچھ نہیں کیا جس پر ملک بدر کیا جائے۔'

گذشتہ ہفتے صدر اردوغان نے ترکی کے عدالتی نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا: 'میں نے اپنے وزیرِ خارجہ کو کہا کہ ہم ان لوگوں کی اپنے ملک میں میزبانی نہیں کر سکتے۔ آپ لوگ ترکی کو سبق دیں گے؟ آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟'

عثمان کوالہ کون ہیں؟

ایس گوکصدف، بی بی سی ٹرکش

عثمان کوالہ کا معاملہ ترک حکومت اور اس کے مغربی اتحادیوں کے درمیان تنازعے کا سبب ہے۔ ترکی پر اپنے ناقدین کے خلاف فوجداری قوانین کے استعمال اور قانون شکنی کا الزام ہے۔

یہ معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔

عثمان کوالہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور وہ آزادی اظہار اور جمہوریت کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں۔

صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2013 میں ہونے والے ان مظاہروں کے حامی تھے جو اُن کے مطابق ان کی حکومت اور اُن کا تختہ الٹنے کے لیے کیے گئے تھے۔

اس لیے اُنھیں لگتا ہے کہ عثمان کوالہ کی رہائی کے مطالبات براہِ راست اُن کو ہدف بنا رہے ہیں، اس لیے اتنا سخت ردِ عمل دیا گیا ہے۔

ترک حکام نے مجھے بتایا کہ اُنھیں نہیں معلوم کہ ٹرائل کب شروع ہو گا۔ پر اگر یہ شروع ہوتا ہے تو ہم آواز اٹھانے والے ممالک سے کچھ ردِ عمل کی توقع کر سکتے ہیں اور اس کے پہلے سے مشکلات کی شکار ترک معیشت پر اثرات ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں سے کچھ ممالک ترکی کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ہیں۔

یہ ایک بہت سخت اقدام ہے جس کا مقصد شاید طاقت کا اظہار ہے، ایسے وقت میں جب انتخابات میں صرف ڈیڈھ سال رہ گیا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مقامی لوگوں کے لیے کیا گیا اقدام ہے مگر چند دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ صدر اردوغان اس حکم کی تعمیل میں سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ اب حالات کا رخ کیا ہو گا۔

error: