رشتے میں جبر کے ذریعے کنٹرول: ’میں 16 سال کی تھی اور مجھے لگا کہ یہ نارمل بات ہے‘

ایک صحتمند اور استحصالی تعلق کے درمیان فرق ہمیشہ واضح نہیں ہوتا، خاص طور پر تب جب اس کا طویل مدتی اثر کسی زخم کی صورت میں دکھائی نہیں دیتا مگر یہ اُتنا ہی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

جب سارہ تقریباً 16 سال کی تھیں تو وہ سکول میں ان ہی کے سال میں موجود لڑکے زیک کے قریب ہونے لگیں۔

کچھ ہفتوں تک بات کرنے کے بعد اُس نے انھیں اپنے ساتھ باہر چلنے کے لیے کہا۔ شروع میں وہ گھبرا رہی تھیں کیونکہ وہ اکیلی باہر جانے کی عادی نہیں تھیں، اس لیے اُنھوں نے پوچھا کہ کیا وہ اپنی دوستوں کو بھی ساتھ لا سکتی ہیں۔

انھیں یاد ہے کہ اُس نے کہا تھا: ’میں بس چاہتا ہوں کہ ہم دونوں اکیلے ہوں۔ یہ ہمارے ساتھ ہونے کے لیے ابھی یا کبھی نہیں کا موقع ہے۔‘

Drawing of a teenaged schoolboy in uniform standing on and holding virtual reigns while a girl in school uniform looks fearfully over her should

سارہ اس وقت زیک کو واقعی پسند کرنے لگی تھیں اور جب وہ اُنھیں مختلف چیزیں کرنے کے لیے مدعو کرتا جس میں بس وہ دونوں ہی ہوں، تو وہ جانتی تھیں کہ زیک بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے جب وہ رات کو باہر اکیلے چہل قدمی کرنے سے ڈرتی تھیں تب بھی زیک کے ساتھ وقت گزارنے چلی جایا کرتیں۔

کچھ ماہ بعد وہ دونوں باقاعدہ جوڑا بن گئے۔

وہ ایک ہاؤس پارٹی میں جانے والے تھے اور سارہ کچھ کپڑے آزما رہی تھیں۔ زیک نے کہا ’یہ تھوڑا زیادہ جسم نہیں دکھا رہا؟‘ زیک کی رائے پر اعتبار کرتے ہوئے سارہ نے دوسرا جوڑا منتخب کر لیا۔

جب سارہ دوسرے لڑکوں سے بات کرتیں تو زیک نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ اُنھیں جلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ورنہ تمہاری اُس سے بات کرنے کی اور کیا وجہ ہے؟‘

انھیں یقین تھا کہ یہ ایک معصومانہ سی عمومی گفتگو ہے مگر اُنھوں نے سوچا کہ شاید اگر اسے ایسا محسوس ہوا ہے تو وہ ٹھیک ہی ہو گا۔

’اتنا کنٹرول کرنا بند کرو!‘

اس کے بعد زیک نے منشیات کے ساتھ تجربہ کرنا شروع کر دیا اور باقاعدگی سے کلاس اے منشیات (ہیروئن، کوکین، ایل ایس ڈی یا ایکسٹیسی وغیرہ) استعمال کرنی شروع کر دیں۔ سو سارہ نے اُس سے کہا کہ وہ اس کے بارے میں تشویش کی شکار ہے۔

زیک نے کہا: ’اتنا کنٹرول کرنا بند کرو!‘

جب بھی وہ اس موضوع پر بات کرتیں تو زیک ان پر کنٹرول کرنے کا الزام عائد کر دیتا۔ ایک رات اُنھوں نے گوگل کیا ’کیا میں کنٹرولنگ شخص ہوں؟‘

سارہ زیک کے ساتھ جتنا وقت گزارتیں، وہ اپنے دیگر دوستوں سے اتنی ہی دور ہوتی جاتیں۔ زیک نے کہا کہ یہ نئے تعلق کی ابتدا میں ایک نارمل بات ہے۔

زیک ہمیشہ ان سے کہتے کہ ’مجھے ویسے بھی تمہارے دوست پسند نہیں تھے۔‘

جلد ہی اے لیولز کے نتائج آ گئے جس میں زیک کو دو اے گریڈ اور ایک بی ملا، جبکہ سارہ کو ایک اے اور دو بی گریڈ ملے۔

جس پر اس کا کہنا تھا ’تمھیں پتا ہے یہ متوقع تھا۔‘

سارہ کو اپنی سب سے پسندیدہ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا جبکہ زیک نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پوچھا: ’مت جاؤ، تم مجھے یہاں چھوڑ کر کیوں جانا چاہتی ہو؟‘ جب وہ سارہ کے یونیورسٹی جانے پر بہت پریشان ہو گیا تو کہنے لگا کہ سارہ کے لیے یونیورسٹی جانے کا آخر مقصد ہی کیا ہے؟

زیک نے کہا کہ ’یہ پیسوں کا زیاں ہی تو ہے۔ میں کمایا کروں گا، میں اکیلا نہیں رہ سکتا۔‘

سارہ اب 23 سال کی ہو چکی ہیں اور کہتی ہیں کہ اُن کے تعلق کے ابتدائی سال ’برے نہیں تھے۔ میرا مطلب ہے کہ یہ اتنے برے نہیں تھے جتنے بعد میں ہو گئے۔‘

جبر کے ذریعے کنٹرول کیا ہے؟

کوارسیو کنٹرول یا جبر کے ذریعے کنٹرول کرنے کو کسی تعلق میں کسی ایک واقعے تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ الفاظ، رویوں اور دھمکیوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جو کسی متاثرہ شخص کو بے عزت، تنہا اور کنٹرول کرتا ہے، جس سے اس کی آزادی اور اُس کی ’ذات‘ ختم ہو جاتی ہے۔

متاثرہ افراد بتاتے ہیں کہ اس سے آپ جذباتی استحصال محسوس کرتے ہیں کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خود اعتمادی اور خود مختاری ختم ہو رہی ہے یہاں تک کہ واحد نارمل چیز جسے آپ جانتے ہیں وہ آپ کا استحصال کرنے والا ہوتا ہے۔

جبراً کنٹرول کی نوعیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ آپ کے لیے یہ بہت مشکل اور کچھ معاملات میں ناممکن ہو جاتا ہے کہ آپ خود کے ساتھ ہونے والے استحصال کو پہچان سکیں۔

تو آپ کو کیسے معلوم ہو کہ کب قربت اور جلن کا احساس تبدیل ہو کر کنٹرول اور جبر میں تبدیل ہو رہا ہے؟ یہ اُن سوالوں میں سے ایک ہے جس کا جواب بی بی سی کی ٹی وی دستاویزی فلم اِز دِس کوارسیو کنٹرول میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Ellie Flyn standing between a boy and a girl
،تصویر کا کیپشن' ’از دس کوارسیو کنٹرول‘ نامی دستاویزی فلم میں اس جبری کنٹرول کے مسئلے پر نظر ڈالی گئی ہے

نئی دستاویزی فلم میں نوجوانوں کا گروپ اس بات پر بحث کرتا ہے کہ کوئی فرضی کہانی (سارہ اور زیک کے معاملے سے غیر متعلقہ) کوارسیو کنٹرول ہے یا نہیں۔ اس پورے شو کے دوران جذباتی استحصال کے متعلق عمومی مفروضوں اور بدنامی کے خوف کو جھٹلایا گیا ہے۔

کیا آپ جبراً کنٹرول کو جان سکیں گے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے؟

’اس نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو میری گردن توڑ سکتا ہے‘

ہر قسم کی زیادتیوں سے آگاہی کے لیے برطانوی حکومت نے سکولوں میں ’ریلیشن شپ ایجوکیشن' یا تعلقات کے متعلق تعلیم لازمی قرار دی ہے، جو ستمبر 2020 میں عمل میں آئی تھی۔ اس نصاب میں طلبا کو تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ نو عمری اور بالغ عمر میں تعلقات کے دوران مالی، جذباتی اور جسمانی زیادتیوں کی نشاندہی کر سکیں۔

سارہ کہتی ہیں کہ کاش زیک کے ساتھ تعلقات سے قبل ان کی اس تک رسائی ہوتی۔ ان کے لیے ’تم خوبصورت ہو‘ جلد ہی ’تم خوش قسمت ہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں کیونکہ تمہیں کوئی اور پسند نہیں کرتا‘ میں بدل گیا۔

بستر سے نکلنے اور کپڑے پہننے کے لیے زیک کی لباس کے انتخاب کے لیے تفصیلی منظوری درکار ہوتی۔

’اس نے مجھے واقعی اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ اگر میں نے اسے نہیں دکھایا کہ میں نے کیا پہنا ہوا ہے تو وہ غلط ہو گا۔‘

اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے دوست ان سے دور ہوتے گئے۔ کیونکہ ان کے بوائے فرینڈ خفیہ طور پر انھیں پیغام بھیجتے کہ ’سارہ تم سے نفرت کرتی ہے اور تمہاری پیٹھ پیچھے تمہاری برائی کرتی ہے۔‘

زیک اکثر کہتا کہ اس کے پاس کھانے اور زندہ رہنے کے لیے پیسہ نہیں ہے اور بقول سارہ وہ اسے اکثر پیسے بھجواتیں۔ لیکن پھر سارہ کو سزا بھی ملتی۔

وہ کہتا کہ ’تم یہ صرف یہ اس لیے کر رہی ہو کہ مجھے اپنے بارے میں برا محسوس ہو۔‘

یونیورسٹی میں اگر سارہ دوستوں کہ ساتھ کہیں نائٹ آؤٹ کے لیے باہر جانا چاہتیں تو زیک اسے کہتا کہ وہ نہیں جا سکتیں اور بار بار انھیں بتاتا کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو ’ان کے ساتھ ریپ ہو جائے گا اور کوئی اجنبی انھیں نشہ آور دوا پلا دے گا‘ جس سے زیک کو بہت زیادہ پریشانی ہو گی اور وہ جاگ کے راتیں گزارے گا۔

’میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ مجھ پر واقعی پابندیاں لگی ہوئی ہیں‘

اگر وہ کبھی باہر چلی بھی جاتیں، جو کہ بہت شاذ و نادر ہی ہوتا، تو انھیں پیغامات اور کالیں آنے لگتیں جن میں ان سے پوچھا جاتا کہ وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہی ہیں۔

سارہ کہتی ہیں کہ ’میں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ یونیورسٹی میں میری زندگی واقعی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔‘

’میں نے محسوس کیا کہ میں چیزوں میں شامل نہیں ہو سکتی یا دوست نہیں بنا سکتی۔ مجھے یقین ہے کہ میرے فلیٹ میں رہنے والے ساتھی سوچتے ہوں گے کہ (ہمارا رشتہ) عجیب ہے، کیونکہ میں ہمیشہ اس سے اجازت مانگتی رہتی، اور سوچتی کہ یہ شاید نارمل بات ہے۔ وہ مجھے قائل کرتا کہ یہ نارمل ہے۔‘

اس سے پہلے کہ سارہ کو اس کا احساس ہوتا ان سب منفی رویوں کی وجہ سے انھیں خوف آنے لگا۔

جس وقت کو وہ سب سے زیادہ یاد کرتی ہیں وہ زیک کا ان سے ملنے یونیورسٹی آنا تھا۔ سارہ نے ادھر آنے کے لیے زیک کو پیسے دیے تھے تاکہ وہ اکٹھے ایک دن گزار سکیں۔ وہ بستر پر زیک کے ساتھ اس کے سینے سے لگ کر لیٹی ہوئی تھیں جب اس نے انھیں کہا ’اگر میں چاہوں تو ابھی تمہاری گردن توڑ سکتا ہوں۔‘

سارہ کہتی ہیں کہ جیسا انھیں کہا جاتا تھا ویسا کرنے کا دباؤ ان کے قریبی دوستانہ تعلقات میں رچ بس گیا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’وہ اس بارے میں بہت زیادہ باتیں کرتا کہ وہ کس طرح بہت زیادہ واضع اور توہین آمیز پورن دیکھتا ہے۔‘ وہ کہتا کیونکہ ’تم بیڈ روم میں یہ سب کچھ نہیں کرتی لہذا مجھے یہ کہیں اور سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔‘

سارہ کو ایک سے زیادہ مواقع پر اپنی جان کا خوف محسوس ہوا۔

’مجھے اس سے ڈر لگنا شروع ہو گیا تھا‘

زیک غصے میں آکر کرسیاں پھینکنے لگا، چیزیں توڑنے لگا اور سارہ کو ایسے دھمکی دیتا جیسے یہ بھی بس اسی طرح ہے جیسا کہ بوسہ لیا جائے۔

سارہ کہتی ہیں کہ ’اگر میں اس کے پاس جا کر، چھو کر اسے پر سکون کرنے کی کوشش کرتی تو وہ مجھے پرے دھکیل دیتا۔ میں اس کے پاس جانا اور ملنا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے اس سے خوف آنے لگا تھا۔‘

یہ سارہ کے یونیورسٹی کے تیسرے سال کی بات جب انھیں لگا کہ ان کے ’آزادی‘ کے لمحات ختم ہو رہے ہیں، سارہ نے سوچا کہ زیک کو چھوڑنے کا ایک آپشن ابھی بھی موجود ہے۔

سارہ کی ہاؤس میٹ نے آرام سے بیٹھ کر ان سے بات کی وہ واقعی ان کے متعلق فکر مند ہے کہ ان کا ’جبری رشتہ‘ ان کی زندگی کو برباد کر رہا ہے۔

’میں واقعی ناخوش تھی اور مجھے اس کا احساس نہیں تھا۔ کوئی بھی رشتہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے آپ ہر روز اپنے آپ پر شک کریں۔ میں نے واقعی سوچا کہ کیا میں چاہتی ہوں کہ ایسا زندگی بھر رہے؟‘

وہ کہتی ہیں کہ بدقسمتی سے بہت سے دوسرے برے تعلقات کی طرح رشتہ تو ختم ہو گیا لیکن زیادتی نہیں۔

گھریلو تشدد

گھریلو تشدد کے نتیجے میں لوگوں کی، عام طور پر خواتین، کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ کرمنالوجی یا جرمیات کی ماہر ڈاکٹر جین مانکٹن سمتھ کہتی ہیں کہ بعض اوقات ان کیسز کا تعلق جبری کنٹرول سے ہوتا ہے۔ جبری کنٹرول کسی بھی صنف یا جنسیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس دستاویزی فلم میں نظر آنے والے بیرسٹر کلیئر سیبورؤسکا نے بی بی سی تھری کو بتایا کہ وہ 16 اور اس سے اوپر کی عمر کے نوجوانوں میں جبری کنٹرول کے زیادہ سے زیادہ کیسز دیکھ رہی ہیں۔

تعلق

’جب آپ جوان ہوتے ہیں تو کوئی بھی ایسے تعلقات میں جانے کی توقع نہیں کرتا جو اذیت پہنچاتے ہیں، لیکن ایسا کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ چھوٹی، اچانک علامتیں آنا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ طویل عرصے تک ہو سکتی ہیں۔‘

’اس وقت تک آپ نے اس رشتے پر سب کچھ لگایا ہوتا ہے، جو خراب ہوتا ہے۔ لہذا یہ بات اہم ہے کہ نوجوانوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جبری کنٹرول کیا ہے، وہ جلد ہی اس کی علامات کو جان سکتے ہوں اور اس کے بارے میں بات کرنے کے قابل ہوں۔‘

کلیئر کے مطابق کچھ معاملات میں مجرم جسمانی تشدد سے اجتناب کرتا ہے کیونکہ اس سے واضح نشانات باقی رہ جاتے ہیں۔

’وہ (مجرم) کافی تیز ہوتے ہیں اور یہ بات یقینی بناتے ہیں کہ وہ کوئی جسمانی جرم نہ کریں، کیوں کہ اگر یہ صرف جبری کنٹرول ہے تو اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے، حالانکہ اس کے بھی متاثرہ شخص پر بہت برے نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں۔‘

جب سارہ زیک سے رشتہ توڑنے کے لیے گئیں تو وہ بہت گبھرائی ہوئی تھیں، ’میں نے اس کی زندگی کے لیے خود کو ذمہ دار محسوس کیا۔‘

’وہ خود کشی کرنے کی دھمکی دیتا تھا‘

سارہ کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ زیک بریک اپ کی خبر پر کیسا ردِ عمل دے گا، اس لیے سارہ نے بہتر جانا کہ اسے یہ خبر سڑک پر سنائے، کیونکہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ پبلک میں ایسا کرنا چاہتی تھی، تاکہ زیک انھیں تکلیف نہ پہنچا سکے۔

بریک اپ کے کئی مہینے بعد تک زیک انھیں مسلسل ہراساں کرتا رہا۔

سارہ بتاتی ہیں کہ ’اگر میں اس کی کسی بات کا جواب نہ دیتی، تو وہ خود کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتا۔‘

جب سارہ نے اس کا نمبر بلاک کر دیا تو زیک اس کے گھر کی دہلیز پر جا پہنچا۔ اور ایک اور مرتبہ اس کی والدہ کے گھر پر بھی۔

’مجھے لگا کہ جب تک میں کہیں اور منتقل نہیں ہو جاؤں گی اور اسے میرا پتہ نہیں معلوم ہو گا، میں اس وقت تک مکمل طور پر فرار نہیں ہو سکتی۔‘

اپنے پہلے تعلق کے خاتمے کے ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد سارہ اب لوگوں سے ملتی جلتی ہیں۔ وہ خوشگوار رشتے میں ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ خود کو دوبارہ محسوس کرنے لگی ہے۔

error: