رفاہ یونیورسٹی کے بارے میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہیں، معاملہ کیا ہے؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر سنیچر کی شام کو اسلام آباد کی رفاہ یونیورسٹی کے حوالے سے کئی ایسی تصاویر اور افواہیں گردش کرتی رہیں جنھوں نے عوام میں خوف پیدا کر دیا۔

سوشل میڈیا پر ایک گھاس کے میدان میں پڑی چند لاشوں کی تصاویر یہ کہہ کر پھیلائی جاتی رہیں کہ یہ رفاہ یونیورسٹی کے اسلام آباد میں گلبرگ گرینز کے علاقے میں واقع کیمپس کی طالبات کی ہیں جنھیں مبینہ طور پر اسلامی لباس نہ پہننے کے باعث قتل کیا گیا ہے۔

ایک ٹائپ ہوئی پرچی پر اس حوالے سے ایک دھمکی آمیز عبارت کی تصویر بھی ان لاشوں کی تصاویر کے ساتھ گردش کرتی رہی جس کی اب تک تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

تاہم اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ رفاہ یونیورسٹی میں لاشیں ملنے کے کسی واقعے کی پولیس کو شکایت نہیں کی گئی نہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔

رفاہ یونیورسٹی کی جانب سے بھی اس واقعے کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ یونیورسٹی یا کسی طالب علم کے ساتھ پیش نہیں آیا۔

رفاہ یونیورسٹی کہاں واقع ہے؟

رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اسلام آباد و راولپنڈی میں متعدد کیمپسز ہیں اور مذکورہ واقعے کے بارے میں کہا گیا کہ یہ گلبرگ گرینز کے علاقے میں پیش آیا ہے جو اسلام آباد سے روات جانے والی سڑک اسلام آباد ایکسپریس وے کی ایک جانب واقع ہے۔

اسلام آباد

مذکورہ علاقہ اسلام آباد کے مرکز سے کافی دور واقع ہے اور گلبرگ گرینز کے اندر بھی یہ کیمپس جس مقام پر واقع ہے وہ بہت زیادہ گنجان آباد علاقہ نہیں ہے۔

گلبرگ گرینز میں موجود یہ کیمپس صرف خواتین کے لیے مختص ہے۔

ابتدائی اطلاعات، دعوے اور تصاویر

متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شیئر کیے جانے والے دعوؤں کا خلاصہ کچھ یوں تھا کہ رفاہ یونیورسٹی کے گلبرگ گرینز کیمپس کی دو طالبات کو قتل کیا گیا اور کیمپس کے قریب ہی ایک ہاسٹل سے تین طالبات کو اغوا بھی کیا گیا۔

مبینہ دھمکی آمیز خط کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ کارروائی عورت مارچ مخالف ایک گروہ نے کی ہے جو مبینہ ’بے حیائی‘ کو روکنا چاہتا ہے۔

لیکن کچھ دیر کے بعد ریورس امیج سرچ کے ذریعے یہ تصدیق ہو گئی کہ جو تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں وہ دراصل ضلع چکوال کے علاقے کلرکہار کی ہیں اور کئی ہفتوں پرانی ہیں۔

اس کے علاوہ خود کو رفاہ یونیورسٹی کی طالبہ بتانے والی کئی لڑکیوں نے بھی ٹویٹس کیں کہ اُن کی یونیورسٹی میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

اس حوالے سے تھانہ کورال کے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلنے کے بعد تھانیدار مزید تحقیقات کی غرض سے یونیورسٹی گئے تھے تاہم وہاں جانے کے باوجود ایسا کوئی معاملہ اُن کے علم میں نہیں آیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عام طور پر اغوا یا قتل جیسے واقعات کی رپورٹ پولیس کو فوراً موصول ہو جاتی ہے کیونکہ ایسی صورت میں فوری اقدام کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اگر یہ واقعہ اب تک پولیس کے سامنے نہیں آیا ہے تو ممکنہ طور پر اس میں صداقت نہیں ہے۔

تاہم پولیس کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بی بی سی نے اس حوالے سے رفاہ یونیورسٹی کی چند خواتین طالبات سے بات کی تو اُن کے علم میں بھی ایسا کوئی واقعہ نہیں تھا۔

ایک طالبہ سے جب مبینہ طور پر اس واقعہ کا نشانہ بننے والی لڑکی کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے سنا ہے کہ وہ لڑکی اُن کی کوئی جونیئر تھی تاہم اس سے زیادہ تفصیلات اُنھیں بھی معلوم نہیں تھیں۔

دوسری طرف رفاہ یونیورسٹی گلبرگ گرینز کیمپس کی ایک طالبہ نے کہا کہ اُنھیں کیمپس میں کچھ حد تک خوف کا احساس ضرور ہوتا ہے کیونکہ یہ یونیورسٹی ایک خاصے سنسان علاقے میں ہے اور اُنھیں یہ وہاں اتنا محفوظ محسوس نہیں ہوتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیمپس میں فونز کے سگنلز کا اکثر مسئلہ رہتا ہے جس کے باعث آن لائن ٹیکسی کروانے کے لیے اُنھیں بہت دور تک چلنا پڑتا ہے اور اکثر راستے میں زیادہ لوگ نہیں ہوتے۔ اُنھوں نے اس دوران سیکیورٹی سہولیات سخت تر کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایک اور طالبہ نے بتایا کہ اُنھوں نے کیمپس میں پولیس کو دیکھا تھا تاہم وہ بھی یہ نہیں جانتیں کہ آیا ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اب تک کسی خاندان کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کیا گیا ہے کہ اُن کی کوئی رشتہ دار رفاہ یونیورسٹی میں ایسے کسی واقعے کا نشانہ بنی ہو۔

error: