’رقصِ بسمل‘ کے مرکزی کردار عمران اشرف: ’کیا مرد کے پاس عورت کی عزت کرنا سیکھنا اور اپنے غلط عمل کو درست کرنے کا حق نہیں‘

آپ جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو ایک انجان شخص آپ کا پیچھا کرے اور بازار، گلی کوچوں میں آپ کو روک کر آپ سے محبت کا دعویٰ کرے تو کیا ایسے شخص کو آپ اپنا ہیرو مانیں گی؟

بہت سی خواتین اس بات سے متفق ہیں کہ اکثر پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں دیکھائے جانے والا اس قسم کا عمل جب حقیقی دنیا میں ان کے ساتھ پیش آتا ہے تو یہ رومانس نہیں بلکہ جنسی ہراس کا باعث بنتا ہے۔

اس بارے میں آج کل پاکستان کے تیزی سے مقبول ہوتے ڈرامے ’رقص بسمل‘ میں ’موسی‘ کا مرکزی کردار نبھانے والے اداکار عمران اشرف تسلیم کرتے ہیں کہ ’ڈرامے میں موسی کا زہرا کا پیچھا کرنا جنسی ہراس کے زمرے میں ہی آتا ہے اور یہ نہ صرف ہمارے بلکہ دنیا کی ہر معاشرے کا ایک المیہ ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’موسی کا زہرا کے پیچھے جانا ہراساں کرنا ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے بغیر آپ کہانی اور اس کا مقصد بیان نہیں کر سکتے۔‘

پاکستان کے نجی انٹرٹینمنٹ چینل ہم ٹی وی پر دکھائے جانے والے ڈرامے رقصل بسمل میں اداکار عمران اشرف ایک مذہبی اور پیر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے گدی نشین موسیٰ کا کردار ادا کر رہے جو کہ زہرا نامی ایک طوائف کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

بی بی سی

اس ڈرامے کی اب تک پانچ اقساط نشر کی جا چکی ہیں اور جہاں اسے ناظرین کی جانب سے بہت پزیرائی مل رہی ہے وہیں بہت سے سوشل میڈیا صارفین اس ڈرامے میں موسیٰ کے کردار کو تنفید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

اس ڈرامے پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس میں عورت کی ’اجازت‘ اور اس کی مرضی کو اہمیت نہ دینے کو رومانوی انداز میں دکھایا گیا ہے جبکہ موسی کی جانب سے اپنی بہن کو اس کی مرضی کی شادی نہ کرنے دینا، منع کرنے کے باوجود لڑکی کا پیچھا کرتے رہنا اور لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف شادی کے لیے اغوا کر لینا ایسے تمام عمل ہیں جسے ہرگز ڈراموں میں نہیں سراہا نہیں چاہیے۔

تاہم اس کردار کو ادا کرنے والے عمران اشرف کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اس کہانی کو سمجھ نہیں پائے۔

’لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو عورتوں کی عزت نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ اسے ایک باپردہ عورت ملے لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ کہانی دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان پیش آنے والے ’خوبصورت‘ تصادم کی ہے۔‘

عمران اشرف کا کہنا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ موسیٰ کا کردار ایسا دکھایا گیا کہ وہ عورت اور اس کی ’اجازت‘ کی عزت نہیں کرتا اور ہمارے معاشرے میں ایسے مرد ہیں۔

عمران اشرف

وہ کہتے ہیں ’لیکن کیا مرد کہ پاس یہ حق نہیں کہ وہ عورت کی عزت کرنا سیکھے اور اپنے غلط عمل کو درست کرے؟ اور یہ کہانی ایک ایسے ہی مرد کی ہے جو عورتوں کی عزت نہیں کرتا تھا مگر پھر اس نے ایسا کرنا سیکھا اور عورت کی اجازت کو اہمیت دی۔‘

عمران اشرف کا کہنا ہے ’موسی کا زہرا کا پیچھا کرنا غلط ہے لیکن وہ اسے بار بار کہتا ہے کہ میں نے کبھی تمہارے گھر کا پتہ جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی تم سے مطالبہ کیا کہ تم مجھ سے چھپ چھپ کر ملو۔ موسیٰ تو زہرا کو شادی کی پیشکش کرتا ہے اور یہ ہر مرد کا حق ہے کہ وہ اپنی پسند کی لڑکی کو شادی کی پیشکش کر سکے۔‘

عمران اشرف کہتے ہیں کہ عورت کی ’اجازت‘ سے متعلق جو بھی بحث ہے اس پر وہ بس یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ’مرضی کی عزت کرو گے تو معافی مانگنا نہیں پڑے گی۔‘

عمران اشرف لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں لیکن پھر بھی انھیں لیڈ رول میں نہیں لیا جاتا، اس سوال کے جواب میں انھوں نے اپنے ایکٹنگ کیرئیر کے دوران کی جانے والی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کئی سال ڈراموں میں معمولی کردار اس امید میں نبھائے کہ ایک دن انھیں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

عمران اشرف

’لیکن بہت سے ڈراموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے باوجود معمولی رول آفر ہوتے رہے کیونکہ لوگ مجھے ہیرو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’آرٹسٹ کی زندگی کی مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ ایک وہ جب وہ جدوجہد کر رہا ہوتا ہے، دوسرا وہ جب کامیاب ہو جاتا ہے اور ایک مرحلہ وہ جب وہ کامیاب ہو جاتا ہے لیکن انڈسٹری اسے نہیں مان رہی ہوتی اور ایک مرحلہ وہ ہے جب وہ گھر بیٹھ جاتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہر مرحلے میں اس کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ ایک عمران اشرف وہ ہے جو ڈرامے میں دس سین کرنے کے بعد کہتا تھا کہ مجھے کوئی سیکینڈ لیڈ کا کردار دے دیں، ایک عمران اشرف وہ ہے جو پانچ سال تک کام کرنے کے بعد بھی لوگوں سے کہتا تھا کہ اگر جگہ بنے تو ٹائٹل میں ڈال دیں اور ایک عمران اشرف وہ ہے جو لوگوں کے دلوں پر راج کرتا ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس کے کام کو نہیں مانتے۔‘

عمران اشرف کا کہنا ہے کہ وہ بہت شکرگزار ہیں کہ ان کے ہر کردار کو لوگوں نے بہت پسند کیا اور سراہا لیکن اگر کل ان کے ڈراموں کے ریٹنگ آنا بند ہو جائیں تو انھیں کام ملنا بھی بند ہو جائے گا۔

error: