رمضان شوگر ملز ریفرنس: شہباز شریف کی حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست منظور

احتساب عدالت لاہور نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

احتساب عدالت کے جج ساجد اعوان نے رمضان شوگر مل کیس کی سماعت کی، وزیر اعظم شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے بیٹے و وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ایک روز کی حاضری سے معافی کی درخواست منظور کرلی۔

دوران سماعت وزیر اعظم کے وکیل امجد پرویز نے شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی اسی عدالت سے پہلے بھی مستقل حاضری معافی کی درخواست منظور ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے کبھی مستقل حاضری سے معافی کا غلط استعمال نہیں کیا، شہباز شریف کی جگہ پلیڈر مقرر کر دیا جائے تاکہ کیس چلتا رہے۔

وکیل نے کہا کہ اب شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے ہیں، ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے، انہیں اپنے فرائض سرانجام دینے ہیں لیکن شہباز شریف مسلسل عدالتوں میں پیش ہوتے آئے ہیں۔

شہباز شریف کی حاضری سے مستقل معافی کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے نیب کے وکیل نے وزیر اعظم کی حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت کی۔

وکیل اسد ملک نے کہا کہ حاضری سے معافی کی درخواست کے ساتھ کوئی میڈیکل یا ضروری دستاویزات نہیں لگائے گئے ہیں، گزشتہ 6 ماہ سے کیس میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، شہباز شریف وزیر اعظم ہیں صرف اس لیے درخواست دائر کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت حاضری معافی کی درخواست منظور کرے گی تو ٹرائل متاثر ہوگا۔

نیب وکیل نے استدعا کی شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواست خارج کی جائے۔

تاہم احتساب عدالت کے جج ساجد اعوان نے کہا کہ یہ بات اب سیاست کی طرف جارہی ہے، ہمیں قانون کے اندر ہی رہنا ہے۔

عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی۔

حاضری سے معافی نہیں چاہتا تھا، قومی ذمہ داری ادا کر رہا ہوں، وزیر اعظم

روسٹروم میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں عدالت کی اجازت سے کچھ حقائق بتانا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے عدالت سے بلاجواز کبھی ناغہ نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے، میں آئی ایم ایف، گوارد، بجٹ سمیت دیگر اہم امور پر اجلاس کرتا ہوں، یہ میری ذمہ داری ہے اور میں اسے نبھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کبھی بھی حاضری معافی کی درخواست نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اب میں قومی ذمہ داری ادا کر رہا ہوں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے یہ عدالت جب بھی بلائے گی میں ضرور حاضری ہوں گا، میں برطانیہ سے آخری فلائٹ پکڑ کر پاکستان آیا اور خود عدالت میں پیش ہوا۔

شہباز شریف نے ماضی دہراتے ہوئے کہا کہ مجھے نیب کے عقوبت خانے میں رکھا گیا جس پر جج نے وزیر اعظم کو ہدایت دی کہ جب متعلقہ اسٹیج آئے گا تب آپ سارے دلائل دیجیے گا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ رمضان شوگر مل میری نہیں ہے، وہاں کے ایم پی اے نے نالے کے لیے درخواست دی ہے، اگر میں نے بچوں کی مل کے لیے نالے کی منظوری دینی ہوتی تو 20 سال پہلے نہ دے دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکیم بھی باقی اسکیموں کی طرح کابینہ سے منظور کی گئی، 2014 اور 15 میں ایک صوبے میں گنے کی قیمت کم کردی گئی تھے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گنے کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، پنجاب میں شوگر ملز نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، مجھے گنے کی قیمت کم کرنے کا کہا گیا، میں نے شوگر ملز کو صاف انکار کر دیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے تمام اقدامات سے الحمدللہ صوبے کے عوام کو فائدہ ہی ہوا تھا، مجھے اس وقت کے چیف سیکریٹری نے لکھا کہ چینی کی پیدوار کافی ہے اسے دوسرے صوبوں کو بھیج دیتے ہیں، میں نے چینی کی برآمدات کی درخواست رد کر دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے نے ایتھنول کی مل لگائی میں نے اس پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی، شوگر ملز میرے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ چلی گئی تھی، میں نے ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے ہائی کورٹ میں بھرپور کیس لڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے اقدامات سے میری فیملی کو ڈھائی ارب کا نقصان ہوا، بعد ازاں پی ٹی آئی کی حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی واپس لے لی تھی۔

رمضان شوگر مل کیس

واضح رہے کہ 18 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو نے وزیر اعظم پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا۔

اس ریفرنس میں صرف دونوں ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ رمضان شوگر ملز کے لیے انہوں نے غیر قانونی طور پر نالہ تعمیر کروایا۔

عدالت میں دائر ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے اس نالے کی تعمیر سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، لہٰذا دونوں ملزمان کو سزا دی جائے۔

اس سے قبل بھی شہباز شریف کے خلاف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر مل کیسز دائر کیے گئے تھے، جس میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

تاہم 14 فروری2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر ملز کیسز میں ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کی جیل سے رہائی کا حکم دیا تھا۔

اسی کیس میں لاہور کی احتساب عدالت نے 18 فروری کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پر فرد جرم عائد کی تھی۔