منتخب تحریریں

رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش

Share

عمران حکومت سے ناراض ہوئے لوگوں کو دلوں کی بھڑاس نکالنے کا ایک اور بہانہ مل گیا ہے۔ہفتے کی شام غیر منتخب مشیروں کی شہریت اور اثاثوں کے بارے میں تفصیلی معلومات منظر عام پر آئیں۔ریگولر اور سوشل میڈیا پر سوالات اب یہ اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ غیر ملکی شہریت کے حامل مشیر ’’قومی مفادات‘‘ کا تحفظ کیسے کرپائیں گے۔جن مشیروں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے وہ پارلیمان سے لئے وزراء کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور اور بااختیار بھی ہیں۔ پاکستانی معیشت کے کلیدی شعبوں کے ضمن میں پالیسی سازی ان کی محتاج ہے۔پالیسی سازی کا اختیارایسے سوالات بھی اٹھادیتا ہے جسے پڑھے لکھے افراد Conflict of Interestکے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔گلہ یہ بھی ہورہا ہے کہ عمران حکومت پر ’’براوقت‘‘آیا تو غیر ملکی شہریت کے حامل یا ان ممالک کے رہائشی اپنے بریف کیس اٹھاکر وطن عزیز سے رخصت ہوجائیں گے۔عمران خان کے دفاع میں سڑکوں پر مراد سعید جیسے وفادار ہی دھکے کھاتے نظر آئیں گے۔عمران حکومت میں غیر ملکی اور غیر منتخب مشیروں کی بہتات نے کئی دل جلوں کو حالیہ سیاسی تاریخ کے چند واقعات کے حوالے دینے کو مجبور کردیا۔شجاعت عظیم ہوا بازی کے مشیر تھے۔ نواز حکومت کو ان کی فراست سے استفادے کی اجازت نہ ملی۔ احسن اقبال اور خواجہ آصف کے ’’اقاموں‘‘ کا تذکرہ بھی بہت حقارت سے ہوتا رہا ہے۔تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کو بھی بالآخر ’’اقامہ‘‘ ہی کی وجہ سے تاحیات نااہل ہونا پڑا تھا۔دل جلوں سے تمام تر ہمدردی کے باوجود میرا جھکی ذہن Times Change Values Changeوالی حقیقت یاد رکھنے کو مجبور ہے۔دست بستہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ اقتدار کے کھیل میں ’’اقتدار اور اصول‘‘ کبھی یکساں نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ وہ حکایت یادرکھنا بھی ضروری ہے جہاں بکری کا بچہ نشیب میں آئے پانی کو ’’گدلا‘‘ کرنے کا مرتکب ٹھہرایا جاتا ہے۔اقدار اور اصول‘‘ وہی طے کرتا ہے جو طاقت ور ہوتا ہے اور بلندی پر موجود اس کے علاوہ جو گفتگو ہوتی ہے محض کہانیاں ہیں۔ وقت کا زیاں۔پنجابی کا وہ محاورہ بھی غور طلب ہے جہاں آٹا گھوندتے ہوئے جسم کا حرکت میں لانا زور آور کو اشتعال دلادیتا ہے۔لطیفہ یہ بھی ہے کہ ’’اقدار اور اصول‘‘ کی دہائی مچاتے ہوئے ہم اپنی سیاسی تاریخ کے ٹھوس واقعات پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔1950کی دہائی میں جب انگریزوں کے سدھائے ملک غلام محمد نے ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں قدم بڑھایا تو جسٹس منیر کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ یاد آگیا۔ یہ نظریہ ایوب خان کے لائے ’’انقلاب کو جائز ٹھہرانے کے کام بھی آیا۔اپنے ’’انقلاب‘‘ کو جمہوری بنانے کے لئے ایوب خان نے 1962کا آئین بھی بنایا تھا۔ اس ’’آئین‘‘ کے مطابق صدر اگر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائے تو قومی اسمبلی کا اسپیکر عارضی طورپر وہ منصب سنبھالنے کا حقدار تھا۔ اپنے خلاف برپا ہوئی تحریک سے اُکتا کر ایوب خان نے مگر 1969میں استعفیٰ دیا تو جنرل یحییٰ کو ’’ملک سنبھالنے‘‘ کی دعوت دی۔ عاصمہ جیلانی کیس کے طورپر مشہور ہوئے ایک مقدے کی بدولت پاکستان کی سپریم کورٹ نے البتہ یحییٰ خان کو بالآخر ’’غاصب‘‘ قرار دیا۔اس کے بعد 1973کا آئین مرتب ہوا تو اس میں آرٹیکل (6)بھی ڈالا گیا۔دعویٰ ہوا کہ اس آرٹیکل نے پاکستان میں مارشل لاء کا راستہ ہمیشہ کے لئے روک دیا ہے۔اس کے باوجود 1977اور 1999میں پہلے جنرل ضیاء اور بعدازاں جنرل مشرف ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ والی تقریر کرنے سے باز نہ رہے۔ ان کے اقدام بھی ’’نظریہ ضرورت‘‘‘ کے تحت جائز اور منصفانہ قرار پائے۔ ’’اقدار او راصول‘‘ تاریخ کے کوڑے دان میں چلے گئے۔’’اقدار اور اصول‘‘ کی بے وقعتی دریافت کرنے کے لئے مذکورہ بالا حوالے اب تک آپ کی مدد نہیں کر پائے تو آپ کو حاجی سیف اللہ کی دائر کردہ وہ پٹیشن یاد دلانا ہوگی جو موصوف نے جنرل ضیاء کی جانب سے 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے قائم ہوئی اسمبلیوں کی فراغت کے خلاف دائر کی تھی۔ 17اگست 1988میں ضیاء الحق ایک فضائی حادثے کا شکار ہوئے تو سپریم کورٹ میں اس اپیل کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوگئی۔تاثر یہ پھیلا کہ جونیجو حکومت بحال ہونے والی ہے۔فیصلہ بالآخر مگر یہ ہوا کہ جونیجو حکومت کو برطرف کرنا غلط تھا مگر نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔’’عوام ‘‘ کو ووٹ دینے کا ’’حق‘‘ استعمال کرنے سے کیوں روکا جائے۔ انتخابات ہوگئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت قائم ہوئی۔اسے اگست 1990میں صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن کے سنگین الزامات لگاکر فارغ کردیا۔ سپریم کورٹ نے ان کے فیصلے کو جائز قرار دیا۔غلام اسحاق خان ہی نے مگر جب 1993میں نواز حکومت کو آٹھویں ترمیم کے تحت میسر اختیارات استعمال کرتے ہوئے گھر بھیجا تو نسیم حسن شاہ صاحب کی عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوئی۔ نواز حکومت کو ایک ’’تاریخی‘‘ فیصلے کے تحت بحال کردیا گیا۔ان دنوں کی قومی اسمبلی کے سپیکر جناب گوہر ایوب خان نے بہت مان سے اس فیصلے کو پارلیمان کی عمارت میں نمایاں طورپر سنگ مرمر میں کندہ کروارکھا ہے۔اس تاریخی فیصلے نے مگر مبینہ طورپر جو ’’نظیر‘‘ بنائی وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے کام نہیں آئی۔ان کی دوسری حکومت کو صدر فاروق لغاری نے فارغ کیا تو جناب سجاد علی شاہ نے اسے درست اقدام ٹھہرایا۔نواز شریف اس فیصلے کی برکت سے ’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ کے ساتھ ایک بار پھر ہمارے وزیر اعظم بن گئے۔ان سے ’’نجات‘‘ کے لئے بالآخر جنر ل مشرف ہی سے رجوع کرنا پڑا۔ ’’نظریہ ضرورت‘‘ ایک بار پھر زندہ وجادواں نظر آیا۔

حالیہ سیاسی تاریخ میں چند ’’اقدار واصول‘‘ جناب ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ صاحب نے بھی طے کئے تھے۔وہ مگر اب ریٹائر زندگی گزاررہے ہیں۔وقت بدل چکا ہے اس کے ساتھ اقدار کا بدلنا بھی ضروری ہے۔’’غیر ملکی‘‘ یا ’’دہری شہریت‘‘ شاید اب اتنا سنگین مسئلہ نہیں رہی۔دل کی جلن پر منطقی ذہن سے قابو پانے کے بعد یہ حقیقت بھی یاد کرلینے میں کوئی حرج نہیں کہ عمران خان صاحب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پسندیدہ ترین سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے وہ تواتر سے وعدہ کرتے رہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ذہین وفطین پاکستانیوں کو وطن لوٹ کر اسے سنوارنے کے مشن پر مامور کردیں گے۔زلفی بخاری،ندیم بابر یا ثانیہ بی بی کو پالیسی سازی کا اختیار دیتے ہوئے وہ اپنا وعدہ ہی تو نبھارہے ہیں۔عمران خان صاحب کی دیانت پر سوال اٹھائے نہیں جاسکتے۔ اس ملک کے سنوارنے کے لئے انہوں نے جن ’’ماہرین‘‘ سے رجوع کیا ہے ان کی دیانت پر بھی لہٰذا سوال کیوں اٹھائے جائیں۔ یہ بات درست کہ رزاق دائود یا ندیم بابر جیسے افراد بذاتِ خود کاروباری لوگ ہیں۔ہمیں سرجھکاکر مگر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشی پالیسی سازی کے ضمن میں وہ جو مشورے دیتے ہیں وہ ’’نیک نیت‘‘ ہوتے ہیں۔ان فیصلوں سے ان کے ذاتی کاروبار کوپھلنے پھولنے کے مواقع نہیں ملتے۔ ایسے گناہ فقط ’’نواز شریف جیسے کاروباری‘‘ وزیر اعظم سے سرزد ہوتے تھے۔بیرون ملک اپنی ذہانت وفطانت سے نام کمانے والے پاکستانیوں کے جوہرعمران حکومت کی بدولت وطن سنوارنے کے کام آرہے ہیں تو دل جلے ٹویٹس کیوں لکھے جارہے ہیں۔ان ٹویٹس کی بھرمار سے بیرون ملک پاکستانیوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔اپنے شعبے میں امریکہ جیسے ملک میں مستند ماہر قرار پایا پاکستانی یہ ٹویٹس پڑھ کر اس خواہش کو بھلانے پر مجبور ہوجائے گا کہ وطن واپس جائے اور اپنی توانائی اسے سنوارنے کے لئے وقف کردے۔

بارہا عرض کرچکا ہوں کہ عمران خان صاحب جیسے ’’دیدہ ور‘‘ ہمیں بہت منتوںاور مرادوں کے بعد نصیب ہوئے ہیں۔ان پر بھروسہ کیجئے۔تحریک انصاف کا مراد سعید جیسا بلند آہنگ وزیر بھی اپنی جماعت کے بیانیے کو اس شدت سے فروغ نہیں دے سکتا جو ڈاکٹر شہبازگل نے اختیار کررکھی ہے۔جلن گل صاحب کی ذہانت اور شدت کا توڑ ہو نہیں سکتی۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا سراغ جناب شہزاد اکبر مرزا صاحب کی نگاہ ِ دور بین ہی لگاسکتی ہے۔’’کپتان‘‘ کو جبلی طورپر علم ہے کہ کونسے کھلاڑی کو کس مقام پر کھڑا کرنا ہے۔جلے بھنے ٹویٹس لکھ کر رنگ میں بھنگ کیوں ڈالی جارہی ہے۔