رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جائے گا، سابق معاون خصوصی

معروف بیوروکریٹ اور وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود خان کا کہنا ہے کہ بیرونی شعبے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے مالی سال 22-2021 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 12 ارب سے 17 ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی میں کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وقار نے کہا کہ ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی بحالی کے فوری بعد شرح سود، شرح تبادلہ، ٹیکسیشن اور توانائی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کی امید رکھنی چاہیے۔

انہوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 'اگر شرح تبادلہ کو مکمل آزاد کردیا جائے تو یہ کہاں جائے گا؟ اگر زرمبادلہ کے ذخائر شرح تبادلہ میں استحکام نہیں لارہے تو انہیں بڑھانے کا کیا مقصد ہے؟'

ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت ملک میں ڈالر کی قدر تقریباً 170 روپے کی رکارڈ سطح پر موجود ہے حالانکہ زرمبادلہ کے ذخائر مئی میں 15 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20 ارب ڈالر ہوچکے ہیں جبکہ ڈالر، 152 روپے کے برابر تھا، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی، یہ کس طرح کی معیشت ہے؟'

ڈاکٹر وقار نے حال ہی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ و ریونیو کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ وہ 2013 سے 2017 تک وفاقی سیکریٹری خزانہ رہ چکے ہیں۔

انہوں نے بیرونی شعبے کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا اور نواز شریف حکومت کے 1991 میں مالی کنٹرول ختم کرنے کے فیصلے کو بار بار آنے والے معاشی بحرانوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس فیصلے کے تباہ کن اثرات اب تک سامنے آرہے ہیں، معیشت کو آزاد بنانے کے فیصلے نے اسے شطر بے مہار بنا دیا'۔

سابق معاون خصوصی نے کہا کہ 'نجی سرمایہ پوری دنیا میں چھایا ہوا ہے، آپ کو اپنی پالیسیاں نجی سرمائے کے لیے سازگار بنانی ہوں گی تاکہ اسے متوجہ کر سکیں'۔

انہوں نے مسلسل مراعات کے مطالبے پر برآمدی شعبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'تمام برآمد کنندگان کرائے کے متلاشی ہیں'۔

ڈاکٹر وقار نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیج تیار کرنے کے لیے پہچانے جانے والی متنازع امریکی کمپنی 'مون سانٹو' کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی مفادات کی وجہ سے ان لوگوں نے کمپنی کے پاکستان میں داخلے کو بند کردیا جو خراب معیار کے بی ٹی کاٹن بیج فروخت کرتے ہیں۔