رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں بیرونی قرضوں کی سروسنگ 7 ارب ڈالر رہی

کراچی: پاکستان نے مالی سال 21-2020 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران غیر ملکی قرضوں کی مد میں 7 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی، یہ رقم اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کے مقابلے خاصی بڑی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ملک نے رواں مالی کے دوسری سہ ماہی کے لیے 3 ارب 55 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرض ادا کیا جو پہلی سہ ماہی میں ادا کیے گئے 3 ارب 50 کروڑ ڈالر سے معمولی سا زیادہ ہے۔

یوں پہلی ششماہی میں قرضوں کی مجموعی ادائیگی 7 ارب 6 کروڑ ڈالر رہی جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر قرضوں کی ادائیگی کا حجم 14 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

ملک کا بیرونی اکاؤنٹ، ایک ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور نومبر 2020 سے 13 ارب ڈالر کے ڈگمگاتے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے مستحکم دکھتا ہے۔

خیال رہے کہ مرکزی بینک کے ذخائر کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جاتا ہے۔

تاہم دسمبر 2020 کے اختتام تک قرضے اور واجبات 2.6 فیصد اضافے کے بعد ایک کھرب 15 کروڑ 76 لاکھ ڈالر تک جا پہنچے جو 30 جون 2020 کو ایک کھرب 12 ارب 79 لاکھ ڈالر تھے۔

مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان نے 2 ارب 93 کروڑ ڈالر کی اصل رقم جبکہ 61 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سود کے طور پر ادا کیے اسی طرح دوسری سہ ماہی میں 2 ارب 93 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔

مزید تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ ملک نے مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 2 ارب 97 کروڑ 90 لاکھ ڈالر پبلک ڈیٹ سروسنگ کی مد میں ادا کیے۔

پبلک ڈیٹ سروسنگ میں حکومت کی ڈیٹ سروسنگ(ایک ارب 58 کروڑ ڈالر)، آئی ایم ایف (3کروڑ 40 لاکھ ڈالر) اور زرِ مبادلہ کے واجبات (ایک ارب 6 لاکھ ڈالر) شامل تھے۔

نجی شعبے کے بیرونی قرضوں کا حجم بڑھ کر دسمبر 2020 تک 11 ارب 26 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جب کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ 11 ارب 12 کروڑ ڈالر اور دوسری سہ ماہی میں نجی شعبے کی بیرونی ڈیٹ سروسنگ 2 ارب ڈالر تھی۔

اسٹیٹ بینک کے موجود زرِ مبادلہ کے ذخائر 12 ارب 95 کرور ڈالر ہیں جو مالی سال 2020 کی 14 ارب 58 کروڑ ڈالر کی ڈیٹ سروسنگ سے کم ہیں۔

پہلی ششماہی میں ہونے والی ڈیٹ سروسنگ ظاہر کرتی ہے کہ مالی سال 2021 میں یہ حجم دوبارہ 14 ارب ڈالر سے زائد ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: