روس، یوکرین تنازع: ’شام کا قصائی‘ کہلائے جانے والے روسی جنرل اب یوکرین میں روسی فوج کی قیادت کریں گے

یوکرین تنازع میں جنگی نقصانات کا اعتراف کرتے ہوئے روس نے جنگ کے اگلے مرحلے کی سربراہی کے لیے ایک نئے جنرل کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیگزینڈر ڈورنیکوو ایک تجربہ کار فوجی لیڈر ہیں جنھوں نے شام کی جنگ میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اُن کے زیر کمانڈ فوجیوں پر شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات لگے، جن میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی شامل تھے۔

اُن کی تعیناتی کی تصدیق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کی۔

واضح رہے کہ اب تک روس نے یوکرین میں جنگ کے لیے کسی ایک کمانڈر کو تعینات نہیں کیا تھا جو تمام آپریشنز کا ذمہ دار ہوتا۔

یہ تعیناتی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین تنازع میں روس کو شدید فوجی نقصان کا سامنا ہے جبکہ یوکرین کے شہریوں کی اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔

فروری کے مہینے میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق ایک سو بچوں سمیت 1600 یوکرینی شہریوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق روسی افواج سے ایسی کئی غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں ان کی پیشقدمی کی رفتار سست ہوئی ہے۔

یوکرین کے صدر زیلینسکی نے پیر کے دن کہا کہ صرف ماریپول شہر میں ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جنوبی کوریا کے اراکین اسمبلی سے ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران صدر زیلینسکی کا کہنا تھا کہ ماریپول تباہ ہو چکا ہے۔

’ہزاروں اموات ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود روس اپنا حملہ ختم نہیں کر رہا۔‘

بوچا کی ایک سڑک کا منظر

ماریپول شہر کے محاصرے کے باعث صدر زیلنسکی کے دعوے کی غیر جانبدارانہ طور پر تصدیق کرنا ناممکن ہے لیکن بی بی سی کو شہر سے فرار ہونے والے کئی افراد سے ایسی شہادتیں موصول ہوئی ہیں جنھوں نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ ماریپول میں قحط کا شکار ہونے والے شہری پانی کی تلاش میں مر رہے ہیں اور انھوں نے کم گہری قبروں میں دبی کئی لاشوں کو بھی دیکھا ہے۔

اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ الیگزینڈر ڈورنیکوو کی تعیناتی کے بعد صورتحال اور مخدوش ہو گی۔

ایک تجربہ کار فوجی کمانڈر: الیگزینڈر ڈورنیکوو

ڈورنیکوو سنہ 1978 میں روس کی فوج میں شامل ہوئے۔ سنہ 1982 میں پلاٹون کمانڈر بننے کے بعد اُن کے کیریئر میں تیزی سے ترقی ہوئی۔

سنہ 1991 میں انھوں نے ’فرنز ملٹری اکیڈمی‘ سے ڈپلومہ حاصل کیا۔ سنہ 2000 میں ڈورنیکوو نے چیچنیا کی دوسری جنگ میں حصہ لیا اور کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے جس کے بعد سنہ 2015 میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اُن کو شام میں روسی فوجیوں کا سربراہ تعینات کیا۔

شام میں صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے بھیجے جانے والے روسی فوجی دستوں کے وہ پہلے کمانڈر تھے۔

روس نے شام کی حکومت کی مدد کے لیے فضائی طاقت کا بھی استعمال کیا جس نے خانہ جنگی کا نقشہ ہی بدل دیا لیکن شام نے اس حمایت کی ایک بڑی قیمت ادا کی۔

ولادیمیر

روسی فوج کی تباہ کن پالیسی

الیگزینڈر ڈورنیکوو کی قیادت میں روس کی فوج نے شام میں تمام مخالفت کو کچل دیا جس کے لیے شہر کے شہر بمباری سے تباہ کر دیے گیے۔ اس بمباری میں مبینہ طور پر کلسٹر ایمونیشن اور بیرل بم بھی استعمال کیے گیے۔

شام میں کمان سنبھالتے ہی الیگزینڈر ڈورنیکوو نے شمال مغرب میں ایک فضائی اڈہ قائم کیا جہاں سے ادلیب صوبے میں بمباری کے لیے جنگی طیاروں کو بھیجا جاتا تھا۔

شام کا دوسرا بڑا شہر حلب بھی روس کے فضائی جنگی طیاروں کی بمباری کی وجہ سے ہی حکومت کے زیر اثر آیا تھا جس میں ہسپتالوں اور سکولوں سمیت شہر کی زیادہ تر عمارات تباہ ہو گئی تھیں۔

ان حملوں کے نتیجے میں شام کے لاکھوں شہری دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 10 سال سے جاری شام کی خانہ جنگی میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیل سلیون نے اتوار کے دن امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’سی بی ایس‘ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’شام کا قصائی‘ کہلانے والے جنرل کی یوکرین جنگ کے لیے تعیناتی اس پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے جو اس جنگ کے دوران اپنائی گئی۔

انھوں نے کہا کہ اس تعیناتی کا مطلب ہے کہ روس ایک تباہ کُن پالیسی اپنانے والا ہے جس کے تحت پیشقدمی یا پسپائی کے دوران ایسی ہر چیز کو تباہ کر دیا جائے گا جو روسی افواج کے خیال میں اُن کے دشمن کے کسی بھی کام آ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم بوچا جیسے شہر میں پہلے ہی جنگی جرائم اور قتل عام کے مناظر دیکھ چکے ہیں جبکہ کراماٹورسک شہر پر راکٹ حملے بھی کیے گئے۔ ’اس جنرل کی تعیناتی کا مطلب ہے کہ ہم ایسے اور مناظر دیکھیں گے۔‘

شام

روس کا ہیرو

روس نے بوچا شہر میں عام شہریوں کے قتل کے الزامات کی تردید کی ہے اور ان خبروں کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شام میں روس کی فوج کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ علاقوں کو شہری آبادی سے خالی کر دیتے تھے۔ حلب اور دوسرے علاقوں میں انھوں نے یہی کیا اور یوکرین میں بھی یہی کرنے والے ہیں۔‘

واضح رہے کہ سنہ 2016 میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے شام میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے الیگزینڈر ڈورنیکوو کو ’ہیرو آف رشین فیڈریشن‘ کا اعزاز دیا تھا جو ملک میں کسی بھی شہری کو دیا جانے والا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

دسمبر سنہ 2016 کے بعد سے اب تک الیگزینڈر ڈورنیکوو جنوبی فوجی ڈویژن کے کمانڈر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ یہ وہی ڈویژن ہے جس نے کریمیا جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 2014 میں روس نے کریمیا سے جبری الحاق کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق الیگزینڈر ڈورنیکوو ڈنباز علاقے سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور یہی وہ علاقہ ہے جو روس کے لیے کیئو سے پسپائی کے بعد نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

جیک سلیون کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنرل کی تعیناتی اس بات پر پردہ نہیں ڈال سکتی کہ روس کو یوکرین میں ایک شکست کا سامنا ہے۔

یہ جنرل بھی یوکرین میں جرائم اور شہریوں کے خلاف ظلم میں شامل ہوں گے۔

یوکرین جنگ میں روس کا جانی نقصان

گذشتہ جمعے کو روس نے یوکرین تنازع میں بھاری جانی نقصان ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

روسی صدر کے ترجمان دیمیتری پیسکوو نے برطانیہ کے سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اموات روس کے لیے گہرا صدمہ ہیں۔

اس اعتراف نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا تھا کہ ماسکو جلد ہی اس جنگ میں اپنے نتائج حاصل کر لے گا۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب روس کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے بیدخل کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ 25 مارچ کو روس کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ان کے 1351 فوجی لڑائی میں مارے گئے ہیں لیکن یوکرین کے مطابق کم از کم 19 ہزار روسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

روس اور یوکرین کی جانب سے کیے جانے والے متضاد دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ روس اپنے فوجیوں کی اموات کم بتا رہا ہے جبکہ یوکرین بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ نفسیاتی فائدہ حاصل کر سکے۔

مغربی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 7000 سے 15000 تک روسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔