روس نے یوکرین کے سر پر بندوق تان رکھی ہے، برطانوی وزیراعظم

یوکرین پر ممکنہ حملے کے خطرات کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے روس پر سنگین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بورس جانسن نے پیر کو امریکا اور اپنے دیگر اتحادی ممالک سے یوکرین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روس کے ممکنہ حملے کے نتیجے میں لائحہ عمل کے حوالے سے گفتگو کی۔

امریکا نے پیر کو ساڑھے 8ہزار فوجیوں کو مشرقی یورپ میں ممکنہ تعیناتی کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا تھا جبکہ نیٹو کے رکن ممالک نے بھی خطے میں سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔

یوکرین کی سرحد کے قریب ایک لاکھ روسی فوجی تعینات ہیں تاہم روس کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملہ کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے فوجیوں کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

آج پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بورس جانسن نے الزام عائد کیا کہ روس نے یوکرین کے سر پر بندوق تان رکھی ہے۔

انہوں نے روس کے صدر ولادمیر پیوٹن کو خبردار کیا کہ اگر ان کی فوج نے یوکرین پر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کی تو انہیں تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ یوکرین پر کسی بھی قسم کے روسی حملے کے نتیجے میں ہم مربوط اور شدید اقتصادی پابندیاں عائد کردیں گے ، یہ ایسی پابندیاں ہوں گی جن کا آج سے قبل روس نے کبھی سامنا نہیں کیا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا روس کو مالیاتی ادائیگیوں کے عالمی سوئفٹ نظام سے بھی بے دخل کیا جا سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک ممکنہ ہتھیار ہو سکتا ہے اور ہم اس حوالے سے امریکا سے رابطے میں ہیں۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ اگر نیٹو کی افواج روس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرتی ہیں تو ان کی افواج بھی شانہ بشانہ شرکت کریں گی۔

دوسری جانب امریکا نے بھی کسی قسم کے حملے کے نتیجے میں سخت پابندیاں عائد کرنے کا عندیا دیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم شدید پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور یہ پابندیاں 2014 میں عائد کردہ پابندیوں کے مقابلے میں کئی گنا سخت ہوں گی۔

ادھر ڈنمارک، اسپین، بلغاریہ اور نیدرلینڈز سمیت نیٹو ممالک نے خطے کے دفاع کو بہتر بنانے کے لیے جنگی طیارے اور بحری بیڑے مشرقی یورپ روانہ کر دیے ہیں۔

ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر امریکا سمیت کئی ممالک نے یوکرین سے اپنے عملے کو واپس بلانے کا عمل شروع کردیا ہے۔

برطانیہ نے کیو میں موجود اپنے سفارتخانے سے آدھے سے زائد عملے کو واپس بلا لیا ہے تاہم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں برطانوی سفارتخانہ کام کرتا رہے گا۔

کینیڈا نے بھی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے سفیروں کے اہلخانہ کو وقت طور پر یوکرین سے واپس لوٹنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب روس نے نیٹو کو اپنے لیے سیکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہوئے قانونی گارنٹی کا مطالبہ کیا ہے کہ نیٹو کی فوجیں مزید مشرق کی جانب پیش قدمی نہیں کریں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.