روس کا مسافر طیارہ گر کر تباہ، تمام 28 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

روس کا کئی دہائیوں پرانا مسافر طیارہ سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 28 مسافروں کی موت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ طیارہ علاقائی دارالحکومت پیترو پیولوسک کمچی سے شمال مغربی علاقے پلانا جا رہا تھا کہ اس کا مقامی وقت کے مطابق 3 بجے کے قریب ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

1982 سے چلنے والے اس دہائیوں پرانے طیارے میں 22 مسافر اور عملے کے چھ افراد سوار تھے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تمام افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

طیارے میں سوار اکثر افراد کا تعلق پلانا سے تھا اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جہاز کا ملبہ زمین اور سمندر دونوں میں گرا ہے۔

مقامی ٹرانسپورٹ پراسیکیوٹر دفتر کی ترجمان ویلنٹینا گلازووا نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ دارالحکومت پیترو پیولوسک کمچی سے ساحلی علاقے پلانا کی جانب سفر کرنے والا طیارہ 2 بجکر 40 منٹ پر غائب ہو گیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ طیارے کی لینڈنگ کے مقررہ وقت سے 10 منٹ قبل اور پلانا ایئرپورٹ سے ساڑھے 5 کلومیٹر کی مسافت پر طیارے سے مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

روس کی ایمرجنسی وزارت کے ذرائع کے مطابق رات کی تاریکی کے باعث طیارے میں سوار افراد کی تلاش کا کام روک دیا گیا اور کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ کسی مسافر کا سامان بھی نہیں ملا۔

روس کی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق طیارے کا کچھ ملبہ پہاڑوں کی ڈھلوان پر ملا ہے جبکہ بقیہ حصہ ساحل سے 4 کلومیٹر اندر سمندر میں ملا ہے۔

وزارت ایمرجنسی کے ذرائع کے مطابق طیارے نے دو مرتبہ لینڈ کرنے کی کوشش کی لیکن صحیح نظر نہ آنے اور تیز ہوا کے باعث پائلٹ ایسا نہ کر سکا اور ایک چٹان سے ٹکرا کر سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

مقامی حکومت کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مزید پانچ اے این-26 طیارے ہیں جو پہاڑی علاقہ جات میں مسافروں کی آمدورفت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

وزارت ٹرانسپورٹ اور مقامی ایوی ایشن کمپنی کا کہنا تھا کہ طیارہ اچھی حالت میں تھا اور تمام حفاظتی مراحل سے گزرنے کے بعد اس میں سفر کی اجازت دی گئی تھی۔

سوویت دور کے اے این-29 طیارے 1969 سے 1986 تک تیار کیے گئے اور انہیں اب بھی روس میں شہری اور فوجی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے البتہ حالیہ عرصوں میں یہ کئی فضائی حادثات کا سبب بن چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا استعال جاری ہے۔

حال ہی میں مارچ کے مہینے میں قازقستان میں زیر استعمال اسی ساخت کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

روسی فوج کو پیش انے والے حالیہ دو فضائی حادثات کا سبب بھی مذکورہ طیارے ہی تھے جس میں مجموعی طور پر 40 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گزرے سالوں میں روس نے اپنے فضائی حفاظتی معیار کو کافی بہتر اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے البتہ پرانے ناقص طیاروں کو حفاظتی بنیادوں پر پرکھے بغیر چلانے کی اجازت دیے جانے کے سبب تواتر کے ساتھ حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: