روس: کورونا وائرس سے ایک روز میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ

روس میں جہاں ایک طرف کورونا وائرس کے کیسز میں کمی لانے کی جدوجہد جاری ہے تو دوسری طرف ایک روز میں وبا سے سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں

ماسکو سے باہر علاقوں میں احتیاطی طور پر کورونا وائرس کی پابندیاں دوبارہ عائد کردی گئی ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق دنیا میں وبا سے پانچویں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک روس میں 75 لاکھ افراد متعدی بیماری سے متاثر ہوئے جبکہ ڈیلٹا ویرینٹ اور ویکسین مہم میں سست روی کے باعث روس میں اگست سے کورونا وائرس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 929 اموات ریکارڈ ہوئیں جو ملک میں وبا کے پھیلنے کے بعد ایک روز میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

روس کی تیار کردہ ویکسین کی متعدد خوراکیں کئی ماہ سے دستیاب ہیں لیکن حکام ویکسین لگوانے سے متعلق شکوک و شبہات رکھنے والے عوام کی حوصلہ افزائی کرنے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔

رائے شماری سے ظاہر ہوا ہے کہ نصف سے زائد روسی شہری ویکسین لگوانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

خطوں میں کورونا وائرس کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ ' گوگوو' کے مطابق بدھ تک روس کی 14 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی میں سے صرف 30 فیصد کی ویکسی نیشن مکمل ہوئی تھی۔

روس کے نائب وزیر اعظم تاتیانا گولیکوا کا رواں ہفتے کے شروع میں کہنا تھا کہ اموات کی شرح غیر ویکسین شدہ روسی شہریوں میں زیادہ ہے۔

عالمی وبا کو محدود رکھنے کے لیے کوئی پابندی نہ ہونے کے باعث کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں لیکن متعدد علاقوں میں عوامی مقامات تک رسائی کے لیے دوبارہ کیو آر کوڈز متعارف کروائے گئے ہیں۔

ماسکو میں، جو روس میں بیماری پھیلنے کا مرکز ہے، اب تک پابندیاں دوبارہ متعارف نہیں کروائی گئیں۔

کریملن کے ترجمان دمیتی پسکوف کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن 'کسی بھی علاقے کے لیے ناپسندیدہ منظر' ہوگا۔

انہوں نے ملک گیر اقدامات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے 'انفرادی طور پر کارروائی' کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ دارالحکومت میں تمام کیسز مہلک 'ڈیلٹا' ویرینٹ کے سامنے آرہے ہیں۔

حکومتی اجلاس میں ماسکو کے میئر سرگئی ثوبیانن کا کہنا تھا کہ ان کا شہر کیسز کے حوالے سے بلند ترین شرح پر نہیں پہنچا ہے اور بڑھتے ہوئے کیسز کا بڑا تعلق زیادہ شرح سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو کے ہسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے مختص دو تہائی بستر بھر چکے ہیں۔

بیمہ کمپنی میں کام کرنے والے دیمتری روزوف کا کہنا تھا ان کا خیال ہے کہ حکام 'اپنی طرف سے بہترین' کام کر رہے ہیں۔

دارالحکومت میں مقیم ایک فوٹوگرافر ماریہ مایوروا نے کہا کہ انہیں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات پر کوئی تشویش نہیں ہے۔

23 سالہ ماریہ کا کہنا تھا کہ 'وہ خوف زدہ نہیں ہیں اور ان کے قریبی دوست و احباب بھی خوف زدہ نہیں ہیں، حالانکہ ان میں سے کچھ میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔

اموات میں اضافے کے بعد روس میں وبا کے باعث موت کے منہ میں جانے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 12 ہزار 625 ہوگئی ہے، جو یورپ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: