روس یوکرین تنازع پر امریکہ کا ماسکو کو باضابطہ جواب: ’یوکرین کا دفاع مضبوط بنانے، روسی جارحیت کا جواب دینے کے لیے یکساں توجہ اور طاقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں‘

امریکہ نے یوکرین کی سرحد پر کشیدگی سے متعلق روس کے مطالبات پر اپنا باضابطہ ردعمل جاری کر دیا ہے۔

امریکہ کے سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ یہ سفارشات ’ایک سنجیدہ سفارتی راستہ پیش کرتی ہیں اور روس کو اس کا انتخاب کرنا چاہیے‘ لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ یوکرین کے دفاع کو تقویت دینے کے لیے ’برابر توجہ کے ساتھ‘ کام کر رہا ہے۔

انٹونی بلنکن نے یوکرین میں امریکی شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ ملک چھوڑنے پر ’سنجیدگی سے غور کریں۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے نیٹو فوجی اتحاد کی توسیع اور اس سے متعلقہ سکیورٹی امور کے بارے میں اپنے خدشات کی ایک تحریری فہرست جاری کی تھی۔

اس فہرست میں یوکرین اور دیگر ممالک کے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کے امکان کو رد کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں روس یوکرین کی سرحد پر بڑی تعداد میں فوجیوں کو تعینات کر رہا ہے اور مغربی ممالک اسے ممکنہ حملے کی تیاری کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم روس اس کی تردید کرتا ہے۔

انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی ردعمل نے اپنے ’بنیادی اصولوں‘ کو واضح کر دیا ہے، جس میں یوکرین کی خودمختاری اور نیٹو جیسے سکیورٹی اتحاد کا حصہ بننے کا حق بھی شامل ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’سفارت کاری کے معاملے پر ہمارے مقصد کی سنجیدگی پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ ہم یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانے اور روسی جارحیت کا جواب تیار کرنے کے لیے یکساں توجہ اور طاقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘

’بات یہ ہے کہ ہم کسی بھی طرح سے تیار ہیں۔‘

فوجی

امریکی سیکرٹری خارجہ نے مزید کہا ہے کہ امریکہ نے اس ہفتے یوکرین کے لیے فوجی ’مدد‘ کی تین کھیپیں بھیجی ہیں، جن میں جیولن میزائل، گولہ بارود اور دوسرے آلات شامل ہیں۔

انٹونی بلنکن نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان کسی قسم کے اختلاف کی بھی تردید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نیٹو نے اپنی تجاویز کا ایک سیٹ تیار کیا ہے‘ تاہم اس امریکی دستاویز کو عام نہیں کیا جائے گا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ اتحاد کی یہ دستاویز روس کو بھی بھیجی گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ روس کے تحفظات کو سننے کے لیے تیار ہیں جبکہ تمام اقوام کو اپنے سکیورٹی انتظامات کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس سے قبل جب بدھ کے روز روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے روس کی سرحدوں پر نیٹو کی بڑھتی موجودگی کے بارے میں پوچپا گیا تو انھوں نے کہا تھا کہ سٹولٹن برگ ’حقیقت کے ساتھ رابطہ کھو چکے ہیں۔‘

سرگئی لاوروف نے روسی پارلیمنٹ میں میڈیا کو بتایا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ میں نے کافی عرصہ پہلے ہی ان کے بیانات پر غور کرنا چھوڑ دیا تھا۔‘

صدر بائیڈن: ’پوتن پر ذاتی حیثیت میں پابندیاں عائد کر سکتے ہیں‘

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ روسی صدر ولادمیر پوتن کے خلاف ذاتی پابندیاں لگانے پر غور کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر روس نے یوکرین پر چڑھائی کی تو اس اقدام کے دنیا پر ’انتہائی سنگین نتائج‘ مرتب ہوں گے۔ صدر بائیڈن کا بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مختلف مغربی رہنماؤں نے متعدد بار تنبیہ کی ہے یوکرین پر حملے کی صورت میں روس کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ادھر روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ روس نے یوکرین کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی مبینہ منصوبہ بندی کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے تاہم یوکرین کے ساتھ سرحد پر روس نے ایک لاکھ کے قریب فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

بائیڈن

کریملن کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کو سکیورٹی کے لیے ایک خطرہ تصور کرتا ہے۔ اس نے نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹو اتحاد مشرق کی طرف مزید نہ بڑھے، جس میں اس کا پڑوسی یوکرین شامل ہے تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ اس وقت مسئلہ روسی جارحیت کا ہے، نہ کہ نیٹو کے پھیلاؤ کا۔

صدر بائیڈن کے بیان سے قبل پینٹاگون کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار امریکی فوجیوں پر مشتمل دستے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ہنگامی بنیادوں پر اُن کی تعیناتی عمل میں لائی جا سکے۔

پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ ویڈیو کال پر رابطہ قائم کیا تھا۔ مغربی قوتیں یوکرین کے خلاف ممکنہ روسی جارحیت کے پیش نظر ایک متفقہ حکمت عملی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پینٹاگون کہہ چکی ہے کہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آیا امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا یا نہیں۔

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا تھا کہ یہ (امریکی فوجیوں کی تعیناتی) صرف اسی صورت ہو گی اگر نیٹو روسی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف فوری ردعمل دینے والی ایکشن فورس فعال کرنے کا فیصلہ کرے یا ’اگر کوئی دوسری ہنگامی صورتحال سامنے آتی ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کا یوکرین میں تعیناتی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں۔

مغربی انٹیلیجنس حکام کے مطابق روس کی ایک لاکھ فوج یوکرین کی سرحدوں پر موجود ہے
،تصویر کا کیپشنمغربی انٹیلیجنس حکام کے مطابق روس کی ایک لاکھ فوج یوکرین کی سرحدوں پر موجود ہے

کچھ نیٹو ممالک جیسے ڈنمارک، سپین، فرانس اور نیدرلینڈز مشرقی یورپ میں دفاعی اقدامات کے سلسلے میں جنگی طیارے اور وار شپس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں یا اس حوالے سے تیاریاں زیر غور ہیں۔

سنیچر کو امریکہ کی طرف سے بھیجی گئی تقریباً 90 ٹن فوجی امداد یوکرین پہنچائی گئی ہے جس میں اگلے محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کے لیے ہتھیار بھی شامل تھے۔

بائیڈن کے علاوہ اس ویڈیو کال میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، فرانسیسی صدر میکخواں، جرمن چانسلر اولف شولتس، اٹلی کے وزیر اعظم ماریو دراگی، پولینڈ کے صدر آن زے دودا اور نیٹو کے سربراہ ینز سٹولٹنبرگ شامل تھے۔ یورپی رہنما ارسلا وان ڈیرن لین اور چارلس مچل نے بھی اس میں حصہ لیا تھا۔

بائیڈن نے اس دوران کہا تھا کہ ’میرے لیے یہ بہت، بہت اچھی میٹنگ ہوئی ہے۔ میں یورپی رہنماؤں سے مکمل اتفاق رائے رکھتا ہوں۔‘

لندن میں ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان رہنماؤں نے بڑھتی روسی جارحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی اتحاد کی اہمیت پر اتفاق کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روسی مداخلت کی صورت میں تمام رہنما ’اتحادیوں کی جانب سے جلد ردعمل‘ پر متفق ہیں جس میں روس کے خلاف سخت پابندیاں شامل ہوں گی۔

پیر کو بورنس جانسن نے کہا ہے کہ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق روس یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر فضائی کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’انٹیلیجنس واضح ہے کہ 60 روسی گروہ یوکرین کی سرحد پر ہیں۔ کیئو پر فضائی حملوں کے منصوبے کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔‘

’ہمیں کریملن اور روس پر واضح کرنا ہو گا کہ یہ ایک تباہ کن اقدام ہو سکتا ہے۔‘

روس اور یوکرین کے درمیان کیا تنازع ہے؟

مشرقی یوکرین میں سنہ 2014 سے روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرینی فوج کے درمیان تنازع جاری ہے تاہم ایک کمزور سی جنگ بندی بھی نافذ ہے۔

سرحد پر روسی فوجیوں کے جمع ہونے کے بعد مغربی اور یوکرینی انٹیلیجنس سروسز کا اندازہ ہے کہ دراندازی یا حملہ 2022 کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔

اس دوران روس نے نیٹو ممالک پر یوکرین کو اسلحے کے ذریعے 'ابھارنے' کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ خطے میں تناؤ کو فروغ دے رہا ہے۔

روس کا بنیادی مطالبہ نیٹو میں مشرق کی جانب توسیع ہے۔ روس کے نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف نے حالیہ مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ 'یہ یقینی بنانا نہایت ضروری ہے کہ یوکرین کبھی بھی نیٹو کا رکن نہ بنے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.