روس یوکرین تنازع: یوکرین نے اہم شہر لسچانسک پر روسی قبضے کی تصدیق کر دی

یوکرینی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ملک کا اہم مشرقی شہر لسچانسک روسی افواج کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل دونوں جانب سے شہر پر قبضے کے دعوے سامنے آ رہے تھے۔ یوکرین کے فوجی جنرل سٹاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لسچانسک میں شدید جنگ کے بعد یوکرین کی افواج اپنی پوزیشنز چھوڑنے پر مجبور ہوئی۔

اس سے قبل روسی وزیر دفاع سرگئی سوئیگو نے کہا ہے کہ انھوں نے لسچانسک پر قبضہ کر لیا ہے اور لوہانسک کا پورا خطہ اب روس کے قبضے میں ہے۔ یوکرینی فوجیں اس علاقے سے باہر چلی گئی ہیں۔

یوکرین کے جنرل سٹاف کا کہنا ہے کہ ’یوکرین کا دفاع کرنے والوں کی جانیں بچانے کے لیے وہاں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کو توپ خانے، فضائیہ اور فوجیوں کی تعداد کے اعتبار سے مختلف سطحوں پر برتری حاصل ہے۔

صدر ولادیمیر زیلنسکی نے وعدہ کیا کہ یوکرینی افواج اپنی حکمت عملی اور ’جدید ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافے کی بدولت‘ لانسیچانسک کا دوبارہ قبضہ حاصل کریں گی۔

اس سے قبل روس کے جمہوریہ چیچنیا کے سربراہ رمضان کادیروف نے ایک ویڈیو شائع کی تھی جس میں لسچانسک میں بظاہر چیچن جنگجوؤں کو لڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ادھر سلویانسک میں شدید شیلنگ کے نتیجے میں چھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ علاقہ دونیتسک میں ہے۔

روس کی جانب سے جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی روسی صدر ولادیمیر پوتن نے لوہانسک اور دونیتسک کو یوکرین سے آزاد تسلیم کیا تھا۔ روس نواز افواج نے یہاں سنہ 2014 سے شورش کا آغاز کیا تھا۔

ابھی ایک ہفتہ قبل ہی روسی فوجی دستوں نے سیورو دونیٹسک پر قبضہ کیا تھا۔

یوکرین

یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کی فوجیں روس کی طرف سے شدید شیلنگ کا سامنا کر رہی ہیں تاہم اس کا اصرار ہے کہ روس نے اس شہر پر قبضہ نہیں کیا۔

یوکرین کے صنعتی شہر ڈونباس کے لوہانسک خطے میں یہ وہ آخری شہر ہے جو اب تک اس کے کنٹرول میں تھا اور اس کا چھن جانا روس کے لیے ایک اور اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔

روس نے گذشتہ مہینے اس کے نواحی شہر سیوردونیتسک پر قبضہ کیا تھا۔

روسی فوج کے قبضے کے اعلان سے پہلے ہی دفاعی امور کے بلاگر روب لی نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں چیچن روسی فوجیوں کو یوکرین کے شہر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

لسچانسک کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس خطے کے جغرافیہ اور جنگ میں اس کے کردار کو سمجھنا ہو گا۔

یہ شہر سیویرسکی دونیتس دریا کے ساتھ موجود ہے جو ڈونباس خطے سے گزرتا ہے اور اب تک یہاں روس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تقریباً ایک ماہ قبل اس دریا کو پار کرنے کی کوشش کے دوران روسی فوج کا ایک پورا بٹالین گروپ اس وقت تباہ ہو گیا تھا جب یوکرین کے توپ خانے نے سینکڑوں فوجیوں اور درجنوں بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کر دیا تھا۔

جب سے روس نے یوکرین پر چڑھائی کی ہے تب سے ہزاروں شہری اور فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ کم ازکم 12 لاکھ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اس صورتحال کے جواب میں مغربی ریاستیں یوکرین کو مسلح کر رہی ہیں اور روس، جو کہ جوہری سپر پاور اور عالمی سطح پر توانائی سپلائی کرنے والا ملک ہے، پر غیر معمولی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

شمالی خارخیو میں بھی جنگ میں شدت آئی ہے جہاں ریلوے ٹریکس اور بجلی کی لائنز پے درپے حملوں میں تباہ ہو گئی ہیں۔ ابھی تک کسی ہلاکت یا کسی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

متعدد دھماکوں کے نتیجے میں ساحلی شہر اوڈیسہ کی جانب جانے والے راستے پر موجود شہر مائکولیف بھی لرز اٹھا۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے یوکرین کی پانچ کمانڈ پوسٹس اور ایمونیشن کے متعدد ذخیروں کو تباہ کر دیا ہے تاہم روسی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

روس کی وزارت دفاع

روس پر الزام ہے کہ اس نے ان دھماکوں سے ایک روز پہلے ہی اوڈیسہ کے قریب فلیٹوں پر میزائل حملے کیے جس سے 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سنیچر کو بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو نے کہا کہ ان کے ملک کی فضائیہ نے یوکرین کا میزائل مار گرایا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یوکرین کا میزائل کس جگہ پر گرایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بیلاروس کے صدر روسی ہم منصب کے قریبی ساتھی ہیں اور انھوں نے روسی فوجی دستوں کو اجازت دی تھی کہ وہ بیلاروس سے یوکرین پر حملہ کریں۔

بیلاروس کے صدر نے کہا کہ ’وہ ہمیں اکسا رہے ہیں۔۔۔ تین دن پہلے یا اس سے کچھ زیادہ، یوکرین کی سرزمین سے بیلاروس کی حدود میں فوجی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی گئی تھی۔‘

’مگر خدا کا شکر ہے، میزائل شکن سسٹم پینٹسر تمام میزائلوں کو روکنے میں کامیاب ہو گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یوکرین میں جنگ نہیں کرنا چاہتے۔‘