روشن خان: پاکستان کی سکواش کی تاریخ کا عظیم کھلاڑی جو جیب میں صرف پانچ شِلنگ لے کر برٹش اوپن جیتنے نکلا

’کیا آپ ہاشم خان کو ہرا سکتے ہیں؟‘ پاکستان کے چیف آف نیول سٹاف نے یہ سوال اپنے سامنے موجود ایک شخص سے کیا۔ جواب بہت دیانت داری پر مبنی تھا۔

’نہیں سر! لیکن مجھے ان کے ساتھ کھیلنے کا موقع چاہیے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ موقع مجھے پاکستان میں مل سکتا ہے لہذا آپ مجھے کسی طرح انگلینڈ بھجوا دیں۔‘

چیف آف نیول سٹاف نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا ʹاگر آپ تیسری مرتبہ پاکستان پروفیشنل سکواش چیمپئن شپ جیت جائیں تو آپ کو انگلینڈ بھجوادیا جائے گاʹ۔

پاکستان کے چیف آف نیول سٹاف اور اس شخص کے درمیان ہونے والا یہ مکالمہ آگے چل کر پاکستان کی سکواش کی تاریخ کا اہم حصہ بن گیا۔

یہ شخص روشن خان تھے جنھیں آج کی نسل سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کے والد کے طور پر جانتی ہے لیکن درحقیقت وہ خود اپنے دور کے عظیم کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ اور سب سے بڑھ کر جن مشکل حالات میں رہتے ہوئے انھوں نے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا، ایسی مثالیں بہت کم نظر آتی ہیں۔

چپڑاسی کی نوکری نے راستہ کھول دیا

روشن خان

روشن خان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ کچھ لوگوں کو ان کے سخت مزاجی سے شکوہ رہا لیکن درحقیقت اس تلخی کے پیچھے وہ حالات اور واقعات تھے جن کا سامنا روشن خان کو اپنے کریئر کے دوران کرنا پڑا۔ لیکن جو لوگ انھیں قریب سے جانتے تھے وہ بتاتے ہیں کہ روشن خان اندر سے ایک نرم مزاج انسان تھے۔

روشن خان نے آج سے تقریباً 35 سال پہلے مجھے دیے گئے انٹرویو میں ان مشکل حالات کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔

ʹمیں راولپنڈی کلب میں اپنے والد فیض اللہ خان کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن بہتر مستقبل کی خاطر میں راولپنڈی سے کراچی آ گیا مگر میرے پاس سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ تھا نہ کوئی ملازمت تھی۔ میں نے کئی راتیں سڑکوں پر گزاری تھیں۔ʹ

یہ وہ دور تھا جب ہاشم خان نے برٹش اوپن جیت کر اپنی شناخت کروا لی تھی۔ انھیں پاکستان فضائیہ نے لندن بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔ روشن خان بھی انھی کی طرح اپنی پہچان بنانا چاہتے تھے لیکن حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

روشن خان نے سنہ 1949 میں کاکول میں پاکستان پروفیشنل سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی لیکن اس میں ہاشم خان نہیں کھیلے تھے۔ روشن خان چاہتے تھے کہ ان کی صلاحیت کا پتہ اس وقت چلے گا جب وہ ہاشم خان سے مقابلہ کریں گے۔

روشن خان کے ذہن میں یہ تھا کہ ہاشم خان پاکستان میں چیمپئن شپ نہیں کھیلتے ہیں لہذا کراچی میں ان کے لیے مواقع ہو سکتے ہیں کہ وہ یہاں سے لندن جاکر قسمت آزمائی کر سکیں۔ اس دوران ان کے بڑے بھائی نصراللہ جو کراچی میں ٹینس اور سکواش کھیلتے تھے، نے ان کی مدد کی۔

سنہ 1952 میں جب پاکستان پروفیشنل چیمپئن شپ ہوئی تو ہاشم خان اور ان کے چھوٹے بھائی اعظم خان نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ روشن خان کا خیال تھا کہ یہ دونوں بھائی جان بوجھ کر ان سے کھیلنا نہیں چاہتے تھے۔ روشن خان نے ایک بار پھر چیمپئن شپ جیت لی لیکن انھیں ہاشم خان کے ساتھ نہ کھیلنے کا دکھ تھا۔

نصراللہ خان نے ایک تجویز نکالی اور ہاشم خان اور روشن خان کے درمیان چیلنج میچ کرانا چاہا جس کے لیے انھوں نے پانچ سو روپے انعام کا اعلان بھی کیا لیکن ہاشم خان نے اس میں بھی کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

روشن خان نے بتایا تھا کہ یہ وہ دور تھا جب وہ قومی چیمپئن ہونے کے باوجود انگلینڈ میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت سے محروم تھے جبکہ اس دور میں ہاشم خان، اعظم خان، سفیراللہ اور محمد امین انگلینڈ جا رہے تھے۔

روشن خان اور ایوب خان

ان کے مطابق محمد امین کراچی جمخانہ اور سفیراللہ سندھ کلب سے وابستہ تھے لیکن یہ دونوں ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ انھیں ان دونوں جگہوں میں کھیلنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

روشن خان کے مطابق ’سیاست اپنے عروج پر تھی۔‘ ان کا کہنا تھا ʹرات کے وقت میں ایک کھلے میدان میں جا کر دوڑ لگایا کرتا تھا تاکہ خود کو فٹ رکھ سکوں۔ اسی میدان میں انٹرکانٹینٹل ہوٹل بنا۔ ایک دن میں نے مایوسی کے عالم میں بڑے بھائی نصراللہ سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ہاشم خان اور دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع مل سکے گا لہذا مجھے کوئی نوکری تلاش کرنی چاہیے تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔ʹ

یہ غالباً 1953 کی بات ہے جب روشن خان سکواش سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے۔ اس موقع پر نصراللہ خان نے اپنے ایک دوست سے ذکر کیا جو روشن خان کو پاکستان نیوی کے ایک افسر کے پاس لے گیا۔ روشن خان نے انھیں اپنے میچوں سے متعلق اخبارات کے تراشے دکھائے۔

افسر نے روشن خان سے کہا کہ وہ انھیں پاکستان بحریہ میں چپڑاسی کی ملازمت دلوا سکتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگرچہ یہ ملازمت ان کے شایان شان نہیں ہے لیکن اس سے آگے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اور اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

روشن خان نے جب تیسری مرتبہ قومی پروفیشنل چیمپئن شپ جیتی تو پاکستان نیوی کے افسران بہت خوش تھے۔ روشن خان کو چپڑاسی کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا اور اب ان کا کام صرف سکواش کھیلنا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب نیوی نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے روشن خان کو انگلینڈ بھجوا دیا۔

پندرہ پاؤنڈ کی خریداری مگر جیب میں ایک سکہ

روشن خان لندن تو پہنچ گئے لیکن ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ جیب میں صرف پانچ شلنگ تھے۔ ان کا کل سامان صرف دو ٹراؤزر، ایک شرٹ، ٹینس شوز کی ایک جوڑی اور ایک اوور کوٹ پر مشتمل تھا۔ یہ اوور کوٹ بھی نیوی کے سٹور سے انھیں دیا گیا تھا جسے وطن واپسی پر سٹور میں واپس کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

روشن خان اپنی رہائش کا پیشگی کرایہ ادا کر کے جب پاکستان ہائی کمیشن پہنچے تو ان کی جیب میں صرف ایک شلنگ باقی بچا تھا۔ ان کی خوش قسمتی کہ انھیں برٹش سکواش ریکٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ہینری ہیمین کے پاس پہنچایا گیا جو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ روشن خان کے پاس کھیل کا مناسب سامان تک نہیں تھا۔

وہ انھیں پکِیڈ لی سرکس میں کھیلوں کے سامان کی مشہور دکان لِلی وائٹس لے گئے جہاں انھوں نے روشن خان کے لیے ریکٹ، جوتے، جرابیں اور شرٹس خریدیں۔ بل پندرہ پاؤنڈ کا آیا جو ہیمین نے ادا کیا۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ روشن خان کو اپنے ٹریولرز چیک کیش کرانے کا وقت نہیں مل سکا ہے۔

ہینری ہیمین نے روشن خان کو تمام اہم سکواش کلبس میں متعارف کرایا۔ اس دوران ان کے رشتہ دار عبدالباری، پاکستان ہائی کمیشن اور برمنگھم میں مقیم ایک پاکستانی نے بھی روشن خان کی مدد کی۔

روشن خان

فائنل آسان نہیں ہو گا

روشن خان کی قسمت ڈنلوپ چیمپئن شپ نے بدل دی جس کی انعامی رقم برٹش اوپن سے بھی دگنی تھی۔ روشن خان نے سیمی فائنل میں اعظم خان کو شکست دی۔ فائنل میں ان کا مقابلہ مصر کے محمود الکریم سے تھا جنھوں نے فائنل سے قبل ایک صحافی سے کہا تھا کہ ان کے تجربے کا روشن خان کے پاس جواب نہ ہو گا۔ جب اس صحافی نے روشن خان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ تجربہ یا ناتجربہ کاری لیکن یہ فائنل آسان نہیں ہو گا۔

ہاشم خان کے بھائی اعظم خان کے خلاف سیمی فائنل میں روشن خان تھک کر چور ہو گئے تھے لیکن فائنل میں ان کے پیروں میں نہ جانے کہاں سے طاقت آ گئی اور انھوں نے محمود الکریم کو تین گیمز میں ہی شکست دے دی۔

1954 اور 1955 میں روشن خان برٹش اوپن کے سیمی فائنل سے آگے نہ بڑھ سکے لیکن 1956 میں وہ فائنل میں پہنچے جہاں ہاشم خان نے انھیں شکست دی۔

اعظم خان کے ریکٹ سے دانت ٹوٹ گئے

1957 روشن خان کی کامیابیوں کا سال تھا لیکن اس کی ابتدا ایک حادثے سے ہوئی۔ ڈنلوپ چیمپئن شپ کے فائنل میں ان کا مقابلہ اعظم خان سے تھا۔ وہ پہلی دو گیمز جیت چکے تھے لیکن تیسری گیم میں اعظم خان کا ریکٹ ان کے منھ پر اس قدر زور سے لگا کہ ان کے دانت ٹوٹ کر سکواش کورٹ میں گر گئے اور منھ سے خون بہنے لگا۔

شائقین میں بیٹھے ایک ڈاکٹر نے فوری طور پر ان کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹر نے یہ جاننے کے لیے کہ روشن خان کھیلنے کے قابل ہیں یا نہیں، ان کے سامنے تین انگلیاں دکھا کر پوچھا کہ یہ کتنی ہیں؟ روشن خان نے جواب دیا پانچ۔

ڈاکٹر نے کہا کہ وہ کھیلنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس پر روشن خان نے جواب دیا کہ وہ مذاق کر رہے تھے، انگلیاں تین تھیں۔ اس کے بعد انھیں کھیلنے کی اجازت مل گئی۔

میچ شروع ہوا تو اعظم خان نے اگلی دو گیمز جیت لیں۔ روش خان کے مطابق اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ بہت زیادہ خون بہہ جانے کے بعد ان کی ہمت جواب دے گئی ہے لیکن انھوں نے فیصلہ کن گیم جیت کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

روشن خان سے جب بھی اس واقعے کے بارے میں بات کی گئی تو ان کا یہی کہنا تھا کہ اعظم خان چاہتے تو اس شاٹ کو کھیلنے سے روک سکتے تھے لیکن انھوں نے دانستہ ریکٹ مارا تھا۔

برٹش اوپن جیتنے کا خواب پورا ہو گیا

25 مارچ 1957 کو روشن خان کا وہ دیرینہ خواب پورا ہو گیا جو وہ سکواش کا عالمی چیمپئن بننے اور خصوصاً ہاشم خان کو ہرانے کے بارے میں دیکھتے آئے تھے۔ اس زمانے میں برٹش اوپن کو غیر سرکاری طور پر سکواش کی عالمی چیمپئن شپ کا درجہ حاصل تھا۔

روشن خان نے سیمی فائنل میں ہاشم خان کے بھانجے محب اللہ خان سینئر کو شکست دی جو پہلی بار برٹش اوپن میں حصہ لے رہے تھے۔ فائنل میں ان کے حریف ایک بار پھر ہاشم خان تھے جو لگاتار چھ سال سے برٹش اوپن کا اعزاز اپنے نام کرتے آرہے تھے۔

روشن خان

ہاشم خان نے پہلا گیم جیتا لیکن پھر اگلے تینوں گیمز جیت کر روشن خان نے اپنی برتری ثابت کر دی۔

روشن خان کا کہنا تھا ʹمیں نے پہلے اپنے سٹیمنا سے کام لیا اور جب ہاشم خان کا سٹیمنا جواب دینے لگا تو میں نے سٹروکس کھیلنے شروع کر دیے۔‘

وہ ہاشم خان کے بعد دوسرے پاکستانی کھلاڑی تھے جنھیں برٹش اوپن جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

بدقسمتی سے روشن خان گھٹنے کی تکلیف کے سبب 1958 کی برٹش اوپن میں اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر سکے۔ انھیں آپریشن کا مشورہ دیا گیا لیکن ڈاکٹرز اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھے کہ آپریشن سے ان کا گھٹنا صحیح ہو جائے گا۔ دو سال کی غیر حاضری کے بعد وہ برٹش اوپن میں واپس آئے لیکن فائنل میں اعظم خان نے انھیں آسانی سے ہرا دیا۔

اگلے تین برسوں میں دو سیمی فائنل اور ایک کوارٹر فائنل کھیلنے کے بعد ان کا برٹش اوپن کا سفر اختتام کو پہنچا۔

میچ کے دوران بڑے بیٹے کی موت

روشن خان کے بڑے بیٹے طورسم خان سکواش کے پروفیشنل کھلاڑی تھے۔ ان کی موت 28 نومبر 1979 کو آسٹریلیا میں ایک میچ کے دوران ہوئی تھی۔ روشن خان کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔

سکواش
،تصویر کا کیپشنہاشم خان اور اعظم خان

طورسم خان اپنے چھوٹے بھائی جہانگیر خان کو ورلڈ چیمپئن بنانا چاہتے تھے۔ یہ خواہش اگرچہ ان کی زندگی میں پوری نہ ہوسکی لیکن جہانگیر خان بھائی کی وفات کے ٹھیک دو سال بعد 28 نومبر 1981 کو ورلڈ چیمپئن بنے تھے۔

جہانگیر خان کے کوچ رحمت خان بتاتے ہیں کہ جب وہ جہانگیر خان کو ٹریننگ کے لیے اپنے ساتھ انگلینڈ لے جانا چاہتے تھے تو روشن خان نے جذباتی انداز میں کہا تھا ’ایک بیٹا چلا گیا، میں دوسرا بیٹا کھونا نہیں چاہتا۔‘

صدر کینیڈی کی پیشکش ٹھکرا دی

روشن خان نے برٹش اوپن کے علاوہ امریکہ میں ہونے والی یو ایس اوپن سکواش چیمپئن شپ بھی تین مرتبہ جیتی۔

1960 میں روشن خان اور محب اللہ خان سینئر واشنگٹن میں کھیل رہے تھے۔ اس موقع پر صدر جان ایف کینیڈی نے دونوں کو امریکہ مستقل سکونت اختیار کرنے کی پیشکش کی۔ محب اللہ خان سینئر نے یہ پیشکش قبول کر لی لیکن روشن خان اپنا ملک کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔

انھیں سب سے زیادہ محبت پاکستان نیوی سے تھی جس نے مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دیا تھا اور اب وہ اس مرحلے پر اسے چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔

روشن خان نے جس دور میں سکواش کھیلی اس وقت ان کا مقابلہ ہاشم خان، اعظم خان اور محب اللہ خان سینئر سے ہوا کرتا تھا۔ وہ ازراہ تفنن کہا کرتے تھےʹ میرے سامنے تین جیف ہنٹ ہوا کرتے تھے۔‘

روشن خان ایک سٹائلش کھلاڑی تھے جن کے ڈراپ شاٹس حریف کھلاڑیوں کو حیران کر دیتے تھے۔ پاکستان کی سکواش کی تاریخ پر لکھی گئی کتاب ʹخانز ان لمیٹڈʹ کے مصنف ڈکی رتناگر لکھتے ہیں کہ ’1995 میں مصر میں منعقدہ ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران سابق برٹش اوپن چیمپئن محمود الکریم سے گفتگو ہوئی تو میں نے محمود الکریم سے روشن خان کے کھیل کے بارے میں پوچھا۔ محمودا لکریم کا جواب تھا ʹجہانگیر خان بھی ہوتے تو وہ بھی روشن خان سے دو پوائنٹس نہیں جیت سکتے تھے۔‘

روشن خان ایک ایسے کھلاڑی تھے جنھوں نے صحیح معنوں میں اپنے دور کے دو عظیم کھلاڑیوں ہاشم خان اور اعظم خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا۔ درحقیقت وہ خود اس دور کے ایک عظیم کھلاڑی تھے۔

روشن خان کو 1960 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دیا گیا۔ پاکستان نیوی نے کراچی میں اپنے سکواش کمپلیکس کو روشن خان اور جہانگیر خان کے نام سے منسوب کیا۔ روشن خان چھ جنوری 2006 کو کراچی میں وفات پا گئے۔